اوبوئرگن، سوئٹزرلینڈ: امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا باضابطہ آغاز اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگیا، جہاں دونوں ممالک گزشتہ ہفتے طے پانے والے عبوری فریم ورک کو مزید وسعت دیتے ہوئے تہران کے جوہری پروگرام اور خطے میں سلامتی سے متعلق وسیع تر معاہدے کی سمت آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیک لوسرن کے قریب منعقد ہونے والے ان مذاکرات کو عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق امریکہ اور ایران کے مذاکرات کار آئندہ⁦60⁩دنوں میں مجوزہ معاہدے کی تکنیکی اور سیاسی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کریں گے۔

تاہم مذاکرات کے آغاز کے چند ہی روز بعد علاقائی صورتحال نے اس سفارتی عمل پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ لبنان میں اسرائیل اور ایران نواز تنظیم حزب اللہ کے درمیان دوبارہ کشیدگی بڑھنے سے اس معاہدے کے مستقبل پر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ اسی دوران ایران کی فوج کی جانب سے آبنائے ہرمز میں دوبارہ پابندیوں سے متعلق بیانات نے عالمی توانائی اور شپنگ سیکٹر میں بے چینی پیدا کر دی۔

ہفتے کے روز لبنان میں کرائی گئی جنگ بندی کے بعد صورتحال نسبتاً قابو میں دکھائی دی اور مذاکرات کا آغاز اسی ماحول میں کیا گیا۔

مذاکرات کے افتتاحی مرحلے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس عمل کو خطے کے لیے ایک تاریخی موقع قرار دیا۔

میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا تمام فریق مل کر مشرق وسطیٰ کے تعلقات میں مستقل تبدیلی لا سکتے ہیں یا پھر خطہ دوبارہ پرانے تصادم کے دور میں واپس چلا جائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مختصر وقت کے لیے امریکی وفد کے ساتھ ایک ہی کمرے میں نظر آئے، جس کے بعد باضابطہ مذاکرات مختلف نشستوں کی صورت میں آگے بڑھے۔

ادھر مذاکرات کے دوران ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک سخت پیغام جاری کرتے ہوئے ایران کو خبردار کیا کہ اگر لبنان میں اس کے حمایت یافتہ گروپوں کی سرگرمیاں فوری طور پر نہ رکیں تو امریکہ کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔

اس سے قبل نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی الگ ملاقات کی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ بحران کے دوران پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

قطر کے نمائندے بھی مذاکراتی عمل میں شریک رہے، جو خطے میں ثالثی کی کوششوں کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب عالمی جوہری نگران ادارے⁦(⁩آئی اے ای اے⁦)⁩کے سربراہ رافیل گروسی نے سوئس حکام سے ملاقات کی۔ یہ ادارہ⁦2015⁩کے ایران جوہری معاہدے کی نگرانی بھی کر چکا ہے، جس سے امریکہ⁦2018⁩میں علیحدہ ہوگیا تھا۔

ایرانی حکام کے مطابق تہران کی ترجیح یہ ہوگی کہ کسی بھی معاہدے پر عملدرآمد کا آغاز خطے میں جنگوں اور تنازعات کے خاتمے سے کیا جائے، خصوصاً اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی کی حقیقی ضمانت کے بغیر وسیع تر پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔

سوئٹزرلینڈ میں جاری یہ مذاکرات آئندہ ہفتوں میں عالمی سفارت کاری، توانائی کی منڈیوں اور مشرق وسطیٰ کی سیاسی سمت کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

AMN / WEB DESK