پرینک کھڑگے نے آر ایس ایس سے شفافیت سے متعلق تفصیلات طلب کیں، تنظیم کے قانونی ڈھانچے پر بحث پھر تیز


AGENCIES
کرناٹک کے وزیر داخلہ پرینک کھڑگے نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو ایک خط لکھ کر تنظیم کی قانونی حیثیت، مالیاتی ڈھانچے، فنڈنگ کے ذرائع، عہدیداران اور قانونی تقاضوں کی تکمیل سے متعلق معلومات عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس اقدام کے بعد آر ایس ایس کے تنظیمی ڈھانچے اور شفافیت کے مسئلے پر جاری پرانی بحث ایک بار پھر موضوعِ گفتگو بن گئی ہے۔
13 جون کو لکھے گئے اپنے خط میں پرینک کھڑگے نے سوال اٹھایا کہ ملک بھر میں وسیع پیمانے پر سرگرم آر ایس ایس کسی سوسائٹی، ٹرسٹ یا کمپنی کے طور پر رجسٹر ہوئے بغیر کس قانونی بنیاد پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے عوامی اثر و رسوخ رکھنے والی تنظیم کو بھی دیگر عوامی اداروں کی طرح جوابدہی اور معلومات کے انکشاف کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔
15 جون کو سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں پرینک کھڑگے نے کہا کہ جو تنظیم60ہزار سے زائد شاخاؤں اور کروڑوں سویم سیوکوں کا دعویٰ کرتی ہے، اسے آئینی جوابدہی اور شفافیت کے تقاضے بھی پورے کرنے چاہئیں۔
اپنے خط میں انہوں نے آر ایس ایس سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی حیثیت، تنظیمی ساخت، عہدیداروں کی تفصیلات، چندوں اور آمدنی کے ذرائع، اخراجات، اثاثوں، ٹیکس کی پابندیوں اور باضابطہ رجسٹریشن کے بغیر کام کرنے کی قانونی بنیاد کو عوام کے سامنے واضح کرے۔
پرینک کھڑگے نے کہا کہ کوئی بھی ادارہ، خواہ وہ کتنا ہی پرانا، بڑا یا بااثر کیوں نہ ہو، عوامی نگرانی سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ خیراتی ادارے، ٹرسٹ، غیر سرکاری تنظیمیں، کمپنیاں اور مذہبی ادارے معمول کے مطابق اپنی مالی اور انتظامی تفصیلات ظاہر کرتے ہیں۔
آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت ماضی میں بھی تنظیم کے موجودہ ڈھانچے کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ آر ایس ایس کسی رجسٹرڈ سوسائٹی، ٹرسٹ یا کمپنی کے بجائے “افراد کے ایک مجموعے” کے طور پر کام کرتی ہے۔ ان کے مطابق1925میں برطانوی دور میں تنظیم کے قیام کے وقت رجسٹریشن لازمی نہیں تھی اور آزادی کے بعد بھی ایسا کوئی قانون نافذ نہیں کیا گیا جس نے اسے لازمی قرار دیا ہو۔
بھاگوت کا یہ بھی کہنا رہا ہے کہ تنظیم کی قانونی حیثیت کا ماضی میں عدالتوں اور محکمہ انکم ٹیکس کے ذریعے جائزہ لیا جا چکا ہے اور آر ایس ایس قانون کے دائرے میں کام کرتی ہے۔ ان کے مطابق تنظیم کو قانونی طور پر “افراد کے مجموعے” کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، اس لیے اس پر تنظیمی سطح پر انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔
اپنے خط میں پرینک نے آر ایس ایس کی 2025–26 کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا، جو تنظیم کے اعلیٰ فیصلہ ساز ادارے اکھل بھارتیہ پرتندھی سبھا(اے بی پی ایس)نے جاری کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق کرناٹک میں آر ایس ایس کی4,127روزانہ شاخائیں،1,389ہفتہ وار ملن اور60ماہانہ منڈلیاں قائم ہیں۔
آر ایس ایس کی اصطلاح میں شاخاؤں سے مراد وہ باقاعدہ مقامی اجتماعات ہیں جہاں سویم سیوک جسمانی سرگرمیوں، گفتگو اور نظریاتی تربیت میں حصہ لیتے ہیں۔ “ملن” ان علاقوں میں منعقد کیے جاتے ہیں جہاں روزانہ شاخائیں نہیں ہوتیں، جبکہ “منڈلیاں” ماہانہ اجتماعات کو کہا جاتا ہے۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ تنظیم نے ریاست میں2,194سماج اتسو منعقد کیے جن میں19.6لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے، جبکہ562پاتھ سنچلن(روٹ مارچ)میں2.2لاکھ سے زیادہ وردی پوش کارکنوں نے حصہ لیا۔
پرینک کھڑگے نے کہا کہ اتنی بڑی تنظیمی موجودگی، عوامی سرگرمیوں اور بڑے اجتماعات کے پیش نظر فنڈنگ، ٹیکس، عوامی پروگراموں کی اجازت اور جوابدہی سے متعلق سوالات فطری ہیں۔
یہ خط آر ایس ایس کی قانونی اور مالیاتی ساخت سے متعلق پرینک کھڑگے کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ اس سے قبل2025میں انہوں نے سرکاری مقامات پر آر ایس ایس کی سرگرمیوں پر پابندی کی وکالت کی تھی اور سرکاری ملازمین کی آر ایس ایس پروگراموں میں شرکت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
آر ایس ایس کی قانونی حیثیت کئی دہائیوں سے بحث کا موضوع رہی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ سماجی اور سیاسی اثر و رسوخ کے باوجود تنظیم ان بہت سے انکشافاتی ضابطوں کے تحت نہیں آتی جو رجسٹرڈ اداروں پر لاگو ہوتے ہیں۔
مختلف مطالعات اور تحقیقات کے مطابق آر ایس ایس خود کسی سوسائٹی یا ٹرسٹ کے طور پر رجسٹرڈ نہیں، بلکہ اس کی کئی سرگرمیاں، جائیدادیں اور ادارے وابستہ تنظیموں، ٹرسٹوں، تعلیمی اداروں اور خدماتی اداروں کے ذریعے چلائے جاتے ہیں جو الگ الگ قوانین کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔
تنظیم کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ آر ایس ایس کی تمام سرگرمیاں قانونی ہیں اور اس سے وابستہ ادارے متعلقہ قوانین کی پابندی کرتے ہیں۔
اس سے قبل کرناٹک حکومت کی کارروائیوں پر ردعمل دیتے ہوئے موہن بھاگوت نے ان الزامات کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا تھا۔ کیرالہ میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ آر ایس ایس کوئی خفیہ تنظیم نہیں، اس کی شاخائیں عوامی مقامات پر لگتی ہیں اور اس کی سرگرمیاں سب کے سامنے انجام پاتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ بھارت میں کئی غیر رجسٹرڈ ادارے موجود ہیں اور رجسٹریشن صرف مخصوص حالات میں ضروری ہوتی ہے، مثلاً سرکاری امداد حاصل کرنے کی صورت میں۔
بھاگوت نے یہ بھی کہا تھا کہ مرکزی حکومت ہمیشہ آر ایس ایس کے وجود سے واقف رہی ہے اور تنظیم پر ماضی میں دو مرتبہ پابندی لگنے اور بعد میں ہٹائے جانے سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے۔ ان کے مطابق آر ایس ایس نے1950کی دہائی میں اپنا تحریری آئین حکومت کے حوالے کر دیا تھا اور سو سالہ تاریخ میں کبھی کسی ادارے نے رجسٹریشن کی ہدایت نہیں دی۔
اپنے خط کے اختتام پر پرینک کھڑگے نے آر ایس ایس سے اپیل کی کہ وہ اپنے صد سالہ سفر کو “آئینی احتساب اور خود احتسابی” کا موقع بنائے اور رضاکارانہ طور پر اپنی مالی، تنظیمی اور انتظامی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کرے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آر ایس ایس عام شہریوں سے قوانین کی پابندی کی توقع رکھتی ہے تو اسے بھی اسی معیار کی شفافیت اور جوابدہی اختیار کرنی چاہیے۔
