Last Updated on June 9, 2026 2:06 pm by INDIAN AWAAZ

فلپائن کے جنوبی جزیرے منڈاناؤ میں سوموار کی صبح آنے والے طاقتور زلزلے میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور 134 زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ آفت اس وقت آئی ہے جب موسم گرما کی تعطیلات کے بعد لاکھوں بچے دوبارہ سکولوں کا رخ کر رہے تھے۔

اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، ریکٹر سکیل پر 7.8 شدت کا یہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 37 منٹ پر صوبہ سارانگانی کے علاقے ماسم کے مغرب میں ساحل سے 32 کلومیٹر دور سمندر میں آیا۔ سارانگائی فلپائن کے دوسرے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ آبادی والے جزیرے منڈاناؤ کا حصہ ہے جو تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ افراد کا مسکن ہے۔ 

زلزلے کے بعد فلپائن اور ہمسایہ ممالک کے بعض ساحلی علاقوں میں سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی جس کے باعث ساحلی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، تاہم بعد ازاں یہ انتباہ واپس لے لیا گیا۔ زلزلے میں ہسپتالوں، گھروں اور سکولوں کی عمارتوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

138 ثانوی جھٹکے

ہلاکتوں کی بڑی تعداد صوبہ سارانگانی میں رپورٹ ہوئی ہے جہاں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بھی کئی افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں تاہم ان اعداد و شمار کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔

بڑے زلزلے کے بعد اس کے 138 سے زیادہ چھوٹے (ثانوی) جھٹکے محسوس کیے گئے جن کی شدت ریکٹر سکیل پر 1.3 سے 6.7 تک رہی۔ 

ابتدائی اطلاعات کے مطابق، سکولوں، ہسپتالوں، سرکاری عمارتوں اور دیگر تنصیبات کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ کئی متاثرہ علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا جبکہ سڑکوں اور پلوں کو پہنچنے والے نقصان نے بعض بستیوں تک رسائی کو مشکل بنا دیا ہے۔

لاکھوں طلبہ متاثر

اس آفت سے 32 لاکھ سے زیادہ طلبہ متاثر ہوئے ہیں اور 6,200 سے زیادہ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں حفاظتی معائنوں اور عمارتوں کی جانچ پڑتال تک تدریسی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بچوں پر زلزے کے اثرات کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بعض طلبہ زخمی ہوئے ہیں اور متعدد سکولوں اور عوامی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

یونیسف نے کہا ہے کہ طلبہ اور اساتذہ کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے اور ہنگامی امدادی سامان اور نقد معاونت فوری فراہمی کے لیے تیار ہے۔

امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مرکزی زلزلے اور اس کے بعد آنے والے مسلسل جھٹکوں کے باعث بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیاں

اقوام متحدہ نے فلپائن کے عوام اور حکومت سے یکجہتی کا بیان جاری کرتے ہوئے قومی اور مقامی حکام کی فوری کارروائیوں کو سراہا اور حکومت کی قیادت میں جاری امدادی کوششوں میں ہر ممکن تعاون کا اعادہ کیا ہے۔ 

عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) امدادی سرگرمیوں کے لیے عملہ اور ضروری سامان روانہ کر رہا ہے۔ اسی طرح فلپائن ریڈ کراس اور دیگر امدادی اداروں نے بھی اپنی مددگار ٹیمیں متحرک کر دی ہیں۔

فلپائن کی حکومت نے انسانی امداد کے بین الادارہ جاتی رابطہ نظام کو فعال کر دیا ہے۔ ملک کے صدر فرڈیننڈ مارکوس جونیئر نے تمام سرکاری اداروں کو بچاو اور امداد کی فوری کارروائیوں کا حکم دیا ہے۔

حکومت نے آفات سے نمٹنے، صحت، تعلیم اور تعمیرات عامہ کے محکموں کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں بھیج دی گئی ہیں۔ بے گھر خاندانوں کی مدد کے لیے سماجی کارکن، موبائل کمانڈ سنٹر اور عارضی فیلڈ کچن بھی متحرک کر دیے گئے ہیں

UN NEWS