Last Updated on March 7, 2026 1:23 am by INDIAN AWAAZ

قانونی اور عملی پہلوؤں پر بحث تیز

نئی دہلی / بنگلورو / امراوتی: بھارت میں کم عمر بچوں اور نوعمروں میں اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال پر تشویش کے درمیان دو ریاستوں—Karnataka اور Andhra Pradesh—نے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانے کی سمت میں قدم اٹھایا ہے۔ کرناٹک حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانے کی تجویز پیش کی ہے، جبکہ آندھرا پردیش حکومت 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے اسی طرح کی پابندی نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے۔

اگر یہ تجاویز عملی شکل اختیار کر لیتی ہیں تو بھارت میں پہلی بار کسی ریاست کی سطح پر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے کی باقاعدہ کوشش ہوگی۔ اس ممکنہ پابندی کا اثر YouTube، TikTok، Facebook، Instagram، Threads، X اور Roblox جیسے مقبول ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ قدم بچوں کی ذہنی صحت، تعلیمی کارکردگی اور آن لائن تحفظ سے جڑے بڑھتے خدشات کے پیش نظر اٹھایا جا رہا ہے۔


کرناٹک بجٹ میں اعلان

یہ تجویز Siddaramaiah نے ریاست کا 2026–27 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے پالیسی تیار کرے گی۔

یہ تجویز ریاست کے اسکول ایجوکیشن سیکٹر کے تحت پیش کی گئی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے بے جا استعمال سے بچوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کے مطابق اس اقدام کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں:

  • بچوں میں بڑھتے اسکرین ٹائم کو کم کرنا
  • سوشل میڈیا سے جڑی ذہنی صحت کی مشکلات پر قابو پانا
  • بچوں کو آن لائن نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنا
  • پڑھائی اور تعلیمی کارکردگی پر ڈیجیٹل توجہ بٹنے کے اثرات کو کم کرنا

سرکاری ذرائع کے مطابق بجٹ میں فی الحال صرف پالیسی کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد حکومت ایک ماہر کمیٹی یا بورڈ تشکیل دے سکتی ہے جو اس پابندی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے طریقہ کار طے کرے گا۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندی پر مکمل عمل درآمد حکومت کے لیے آسان نہیں ہوگا اور اس میں والدین کا کردار نہایت اہم ہوگا۔


آندھرا پردیش بھی اسی راستے پر

اسی طرح Amaravati میں N. Chandrababu Naidu نے ریاستی اسمبلی کو بتایا کہ حکومت 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ماہرین، تعلیمی اداروں اور ٹیکنالوجی ماہرین کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور آئندہ تین ماہ میں اس بارے میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس پالیسی کے نفاذ کے لیے مختلف “گیٹ کیپنگ ماڈلز” پر غور کیا جا رہا ہے جن میں شامل ہیں:

  • اسکول انتظامیہ کی نگرانی
  • انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں کی شمولیت
  • سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ تکنیکی تعاون
  • والدین کی رضامندی اور نگرانی

ریاستی حکومت یہ بھی جائزہ لے رہی ہے کہ اس طرح کے قانون کے نفاذ میں کوئی قانونی پیچیدگیاں تو پیش نہیں آئیں گی۔ اسی لیے مرکزی حکومت کے ساتھ مشترکہ قانون سازی کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔


عالمی سطح پر بھی بحث جاری

بھارت میں یہ پیش رفت دراصل ایک عالمی رجحان کا حصہ ہے جہاں مختلف ممالک بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حال ہی میں Australia نے کم عمر صارفین کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی سے متعلق قانون متعارف کر کے دنیا کا پہلا ملک بننے کا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد دیگر ممالک نے بھی اسی طرح کے اقدامات پر غور شروع کیا ہے۔

اسی تناظر میں Indonesia نے اعلان کیا ہے کہ وہ 28 مارچ سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے بعض “ہائی رسک ڈیجیٹل پلیٹ فارمز” پر پابندی نافذ کرے گا۔

ان اقدامات کے پیچھے بنیادی وجہ بچوں میں بڑھتی ڈیجیٹل لت، سائبر بُلنگ، آن لائن ہراسانی اور ذہنی دباؤ کے مسائل ہیں۔


قانونی چیلنجز

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں اس طرح کی پابندی کو قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اہم سوال یہ ہوگا کہ کیا یہ اقدام Constitution of India کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق سے مطابقت رکھتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 19(1)(a) کے تحت شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے۔

اگرچہ حکومت عوامی مفاد میں بعض معقول پابندیاں عائد کر سکتی ہے، لیکن عدالتیں اس بات کا جائزہ لے سکتی ہیں کہ آیا بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی ایک مناسب اور متوازن اقدام ہے یا نہیں۔

اس کے علاوہ Digital Personal Data Protection Act, 2023 بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اس قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر بچوں کا ذاتی ڈیٹا استعمال کرنے کے لیے والدین کی اجازت ضروری ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اگر ریاستی حکومتیں اس سے آگے بڑھ کر پابندیاں عائد کرتی ہیں تو یہ سوال بھی اٹھ سکتا ہے کہ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ضابطے کا اختیار بنیادی طور پر مرکزی حکومت کے پاس ہے۔


عملی مشکلات

ماہرین کے مطابق اس طرح کے قانون پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا۔

اہم عملی مسائل درج ذیل ہیں:

عمر کی تصدیق:
زیادہ تر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عمر کی تصدیق خود صارف کے دیے گئے ڈیٹا پر مبنی ہوتی ہے جسے باآسانی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی کے متبادل راستے:
بچے وی پی این یا متبادل اکاؤنٹس کے ذریعے پابندی کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔

والدین کا کردار:
حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کے ڈیجیٹل استعمال کو کنٹرول کرنے میں والدین کی نگرانی سب سے مؤثر طریقہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ٹیک کمپنیوں کا تعاون:
اس پالیسی کے مؤثر نفاذ کے لیے Meta Platforms سمیت دیگر عالمی ٹیک کمپنیوں کا تعاون ضروری ہوگا۔


تعلیم اور ذہنی صحت پر اثرات

تعلیم اور نفسیات کے ماہرین کافی عرصے سے خبردار کر رہے ہیں کہ بچوں میں اسمارٹ فون کے بڑھتے استعمال سے ان کی توجہ اور تعلیمی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔

سوشل میڈیا کے الگورتھم پر مبنی مواد بچوں کو زیادہ دیر تک اسکرین سے جوڑے رکھتا ہے جس سے نیند کی کمی، ذہنی دباؤ اور خود اعتمادی میں کمی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

اسی کے ساتھ سائبر بُلنگ اور آن لائن ہراسانی کے واقعات بھی نوجوانوں میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔


آگے کا راستہ

ماہرین کے مطابق کرناٹک اور آندھرا پردیش کی یہ تجاویز بھارت میں بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت کے حوالے سے ایک بڑی قومی بحث کو جنم دے سکتی ہیں۔

حامیوں کا کہنا ہے کہ بچوں کے ذہنی اور تعلیمی مفاد کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں، جبکہ ناقدین کا خیال ہے کہ مکمل پابندی کے بجائے ڈیجیٹل تعلیم، والدین کی آگاہی اور بہتر ضابطے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ یہ تجاویز کس شکل میں قانون کا حصہ بنتی ہیں اور آیا مستقبل میں اس حوالے سے قومی سطح پر کوئی جامع قانون سامنے آتا ہے یا نہیں۔