Last Updated on January 31, 2026 12:28 pm by INDIAN AWAAZ

آرٹیکل 21 کے تحت ماہواری کی صحت بنیادی حق: سپریم کورٹ

اسٹاف رپورٹر / نئی دہلی

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ماہواری کی صفائی اور صحت کا حق آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت حقِ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے جمعہ کے روز ریاستوں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور اسکولوں کو لڑکیوں اور خواتین کی عزت، صحت اور برابری کو یقینی بنانے کے لیے متعدد لازمی ہدایات جاری کیں۔

جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو ہدایت دی کہ ہر اسکول میں نوعمر طالبات کو بایوڈی گریڈیبل سینیٹری نیپکن مفت فراہم کیے جائیں۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ماہواری کے حوالے سے بنیادی سہولیات کی کمی اور سماجی بدنامی لڑکیوں کی صحت، تعلیم اور رازداری کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ اسکولوں میں فعال، صاف ستھرے اور صنفی بنیاد پر علیحدہ بیت الخلا دستیاب ہوں۔

سپریم کورٹ نے مرکز کی قومی پالیسی ’اسکول جانے والی لڑکیوں کے لیے ماہواری حفظانِ صحت پالیسی‘ کو جماعت ششم سے بارہویں تک کی نوعمر طالبات کے لیے پورے ملک میں نافذ کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت ایک ایسی عرضی کی سماعت کر رہی تھی جس میں اسکولوں کی طالبات کے لیے مفت سینیٹری پیڈ اور مناسب صفائی کی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ ان ہدایات پر عمل درآمد سرکاری اور نجی دونوں تعلیمی اداروں کے لیے لازمی ہوگا۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر نجی اسکول لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے علیحدہ بیت الخلا فراہم نہیں کرتے یا طالبات کو مفت سینیٹری پیڈ تک رسائی یقینی نہیں بناتے تو ان کی منظوری (رجسٹریشن) منسوخ کی جا سکتی ہے۔

https://biznama.com/supreme-court-directs-states-to-provide-free-sanitary-pads-in-schools