Last Updated on January 30, 2026 6:11 pm by INDIAN AWAAZ

ڈھاکہ سے ذاکر حسین
بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمٰن نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کی سربراہی کسی خاتون کے لیے ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے اس موقف کی وجہ مذہبی اور حیاتیاتی عوامل کو قرار دیا۔ الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو جمعرات کو نشر ہوا، شفیق الرحمٰن نے کہا، “یہ ممکن نہیں ہے۔
اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “اللہ نے ہر انسان کو ایک الگ فطرت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کوئی مرد نہ تو بچے کو جنم دے سکتا ہے اور نہ ہی دودھ پلا سکتا ہے۔ جو کچھ اللہ نے تخلیق کیا ہے، ہم اسے تبدیل نہیں کر سکتے۔” انہوں نے مزید کہا، “کچھ معاملات میں حدود ہوتی ہیں۔ ایسی جسمانی پابندیاں ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جب ایک ماں بچے کو جنم دیتی ہے تو وہ ان ذمہ داریوں کے ساتھ قیادت کیسے انجام دے سکتی ہے؟ یہ ممکن نہیں ہے۔”
یہ انٹرویو الجزیرہ کے صحافی سری نواسن جین نے لیا تھا۔ یہ بیان بنگلہ دیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات سے قبل سامنے آیا ہے، جو اگست 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد منعقد ہو رہے ہیں۔ چینل کی جانب سے پیش کیے گئے سروے کے مطابق، جماعتِ اسلامی ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھر سکتی ہے۔
شفیق الرحمٰن نے اس بات کی تصدیق کی کہ آنے والے انتخابات میں جماعتِ اسلامی نے کسی بھی خاتون امیدوار کو نامزد نہیں کیا ہے، اگرچہ انتخابی تیاریاں جاری ہیں۔ اسلامی قانون کے حوالے سے انہوں نے کہا، “اگر یہ ملک کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہوا تو پارلیمنٹ اس پر فیصلہ کرے گی۔ یہ میرا ذاتی فیصلہ نہیں ہوگا۔”
اقلیتوں پر حملوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “عدالت میں ایک بھی مقدمہ ثابت نہیں ہوا ہے،” اور اگست کے بعد ہونے والے تشدد سے متعلق اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کو “جھوٹا پروپیگنڈا” قرار دیا۔
1971 کی جنگِ آزادی سے متعلق الزامات پر شفیق الرحمٰن نے کہا کہ اس وقت جماعت کا مؤقف “سیاسی تھا، عسکری نہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ جن نیم فوجی دستوں پر مظالم کے الزامات ہیں، وہ پاکستانی فوج کے کنٹرول میں تھے۔
بھارت سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر نئی دہلی شیخ حسینہ کی حوالگی سے انکار کرتا ہے تو جماعتِ اسلامی بھارت کے ساتھ “بامقصد مکالمہ” کرے گی۔
