Last Updated on January 25, 2026 8:06 pm by INDIAN AWAAZ

اسٹاف رپورٹر / نئی دہلی
بی بی سی کے سینئر اور ممتاز صحافی مارک ٹلی آج طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے ساتھ ہی براڈکاسٹ صحافت، خصوصاً جنوبی ایشیا میں، ایک مضبوط، معتبر اور باوقار آواز سے محروم ہو گئی ہے۔
1970 کی دہائی سے لے کر 1990 کی دہائی کے اوائل تک مارک ٹلی جنوبی ایشیا میں ایک جانا پہچانا نام تھے۔ بی بی سی کے نمایاں نمائندے کے طور پر انہوں نے خطے کی سیاست، سماج اور تاریخ کو نہایت سنجیدگی، توازن اور گہری بصیرت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ کروڑوں ناظرین اور سامعین کے لیے ان کی آواز اس وقت رہنمائی کا ذریعہ بنی جب تاریخ اپنی آنکھوں کے سامنے رقم ہو رہی تھی۔
وہ برصغیر کے کئی اہم اور فیصلہ کن لمحات کے عینی شاہد رہے۔ 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی خبر ہو، 1984 میں آپریشن بلیو اسٹار کی کوریج، یا اسی سال وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کی پہلی رپورٹ—مارک ٹلی ہر بڑے واقعے پر موجود تھے اور لمحہ بہ لمحہ تاریخ کو محفوظ کر رہے تھے۔ بابری مسجد کے انہدام کے دوران ان کی رپورٹنگ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔
دہلی میں طویل عرصے تک قیام کرنے والے مارک ٹلی کا ماننا تھا کہ صحافت محض واقعات بیان کرنے کا نام نہیں بلکہ معاشروں کو سمجھنے کا عمل ہے۔ یہی سوچ ان کی تحریروں میں بھی جھلکتی ہے۔ ان کی کتابیں راج ٹو راج، نو فل اسٹاپس اِن انڈیا اور امرتسر: مسز گاندھی کی آخری جنگ آج بھی جدید جنوبی ایشیا کو سمجھنے کے لیے اہم اور مستند حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔
مارک ٹلی کا انتقال اس دور کے اختتام کی علامت ہے جب غیر ملکی نامہ نگار تاریخ کے معتبر گواہ اور دیانتدار ترجمان سمجھے جاتے تھے۔ ان کے اہلِ خانہ، ساتھیوں اور دنیا بھر میں موجود مداحوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا جاتا ہے۔
