Last Updated on January 18, 2026 5:24 pm by INDIAN AWAAZ

جاوید اختر
عالمی سطح پر بے روزگاری کی شرح بظاہر مستحکم دکھائی دیتی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ معیاری اور باعزت روزگار کے مواقع مسلسل سکڑ رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار پیش رفت، عالمی تجارتی پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال اور آبادیاتی تبدیلیاں ایسی وجوہات ہیں جو عالمی معیشت کو ایک نئے اور پیچیدہ روزگار بحران کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ عالمی ادارہ? محنت (آئی ایل او) کی تازہ رپورٹ نے انہی خدشات کو تفصیل کے ساتھ اجاگر کیا ہے، جو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر، دونوں طرح کی معیشتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
آئی ایل او کی جانب سے جاری کردہ روزگار اور سماجی رجحانات 2026 کی رپورٹ کے مطابق، آئندہ سال عالمی بے روزگاری کی شرح تقریباً 4.9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 18 کروڑ 60 لاکھ افراد روزگار سے محروم ہوں گے۔ اگرچہ یہ شرح گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ نہیں لگتی، لیکن ماہرین کے مطابق اصل تشویش کی بات یہ ہے کہ پیدا ہونے والا روزگار بڑی حد تک غیر محفوظ، کم اجرت اور غیر رسمی نوعیت کا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آنے والے برسوں میں روزگار میں سب سے زیادہ اضافہ کم آمدنی والے ممالک میں متوقع ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ امیر ممالک میں بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی ہے، جس کے باعث کام کرنے کی عمر کے افراد کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ بالائی متوسط آمدنی والے ممالک میں روزگار کی شرح میں محض 0.5 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ کم آمدنی والے ممالک میں یہ شرح 3.1 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف روزگار میں عددی اضافہ کافی نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ یہ روزگار کتنا پائیدار اور باعزت ہے۔
آئی ایل او کی رپورٹ کا ایک چونکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ برسرروزگار ہونا غربت سے نجات کی ضمانت نہیں رہا۔ دنیا بھر میں تقریباً 30 کروڑ افراد ایسے ہیں جو کام کرنے کے باوجود انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں، جن کی یومیہ آمدنی 3 امریکی ڈالر سے بھی کم ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم اجرت اور غیر محفوظ ملازمتیں عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہیں۔غیر رسمی معیشت کا پھیلاؤ بھی تشویش ناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، رواں سال دنیا بھر میں تقریباً 2.1 ارب افراد غیر رسمی شعبے میں کام کر رہے ہوں گے، جہاں انہیں سماجی تحفظ، ملازمت کے حقوق اور روزگار کے تحفظ تک محدود یا بالکل بھی رسائی حاصل نہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں یہ صورتحال زیادہ سنگین ہے، جہاں غیر رسمی شعبہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے، مگر مزدور بدستور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
نوجوانوں کے مستقبل پر منڈلاتے خطرات
رپورٹ میں نوجوانوں کے روزگار کو درپیش خطرات کو خصوصی طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ کم آمدنی والے ممالک میں صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے، جہاں 27.9 فیصد نوجوان نہ تو تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی ہنر مندی کی تربیت میں شامل ہیں۔ یہ طبقہ، جسے عالمی سطح پر“NEET”(Not in Education, Employment or Training) کہا جاتا ہے، مستقبل میں سماجی بے چینی اور معاشی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف غریب ممالک تک محدود نہیں۔ اعلیٰ آمدنی والے ممالک کے تعلیم یافتہ نوجوان بھی اس غیر یقینی صورتحال سے محفوظ نہیں۔ آئی ایل او نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام نہ صرف روایتی نوکریوں کو ختم کر سکتے ہیں بلکہ نئے گریجویٹس کے لیے روزگار کے مواقع بھی محدود کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رپورٹ میں اے آئی ٹیکنالوجی پر موثر ضابطہ کاری اور انسانی مرکزیت پر زور دیا گیا ہے۔
خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے حوالے سے رپورٹ کی تصویر حوصلہ افزا نہیں۔ اگرچہ گزشتہ دہائیوں میں اس میدان میں کچھ پیش رفت ہوئی تھی، لیکن اب یہ رفتار سست پڑ گئی ہے۔ آج بھی خواتین کے افرادی قوت میں شامل ہونے کے امکانات، مردوں کے مقابلے میں 24 فیصد کم ہیں۔ سماجی روایات، غیر مساوی گھریلو ذمہ داریاں اور کام کی جگہ پر امتیازی رویے اب بھی خواتین کے لیے بڑی رکاوٹ ہیں۔
گزشتہ برس عالمی معیشت کو بین الاقوامی تجارتی قوانین اور ٹیرف میں بڑی تبدیلیوں کا سامنا رہا، جس میں امریکہ کا مرکزی کردار رہا۔
بھارت کے لیے کیا معنی ہیں؟
بھارت، جو دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی بڑی معیشتوں میں شامل ہے، ان عالمی رجحانات سے براہِ راست متاثر ہو رہا ہے۔ ایک طرف ڈیجیٹل انڈیا، اسٹارٹ اپ انڈیا اور میک ان انڈیا جیسے پروگرام روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں، تو دوسری طرف غیر رسمی شعبے کا بڑا حجم، نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ہنر مندی کے فرق جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔ مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن بھارتی آئی ٹی اور خدمات کے شعبے میں نئی جہتیں تو لا رہی ہیں، مگر کم ہنر مند مزدوروں کے لیے خطرات بھی بڑھا رہی ہیں۔
مربوط اقدامات کی ضرورت
آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ہونگبو نے کا کہنا ہے کہ اگر حکومتیں، آجر اور کارکن باہم مل کر ذمہ دارانہ انداز میں ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے، اور خواتین و نوجوانوں کے لیے معیاری روزگار کے مواقع بڑھانے میں ناکام رہے، تو باعزت روزگار کا بحران مزید گہرا ہو جائے گا اور سماجی ہم آہنگی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔مختصر یہ کہ عالمی بے روزگاری کے اعداد و شمار اگرچہ بظاہر قابو میں نظر آتے ہیں، مگر معیاری روزگار، اجرتوں اور سماجی تحفظ کے مسائل آنے والے برسوں میں عالمی معیشت، خصوصاً بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتے ہیں۔
