Last Updated on January 10, 2026 4:01 pm by INDIAN AWAAZ
بڑھتی مہنگائی، سیاسی بے چینی اور سیکیورٹی کارروائیوں کے درمیان ایران ایک نازک موڑ پر کھڑا نظر آتا ہے۔ موجودہ حالات اس بات کے اشارے دے رہے ہیں کہ یہ بحران جلد ختم ہونے والا نہیں اور اس کے اثرات ایران کی داخلی سیاست کے ساتھ ساتھ پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

نیوز ڈیسک
انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اور رہبرِ اعلیٰ کی سخت وارننگ
ایران میں 28 دسمبر سے شروع ہونے والے ملک گیر مظاہرے دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے نافذ تقریباً مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ہفتے کے روز ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے احتجاج کے آغاز کے بعد پہلی بار عوامی خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ کسی دباؤ کے سامنے جھکنے والی نہیں ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے مظاہرین پر غیر ملکی طاقتوں کے اشارے پر کام کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ایران کے معاشی بحران کو بہانہ بنا کر ملک میں بدامنی پھیلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بھی اس عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) کے مطابق، مظاہروں کے آغاز سے اب تک کم از کم 62 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بڑے شہروں میں سیکیورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی جاری ہے، جبکہ انٹرنیٹ بندش کے باعث زمینی حقائق کی آزادانہ تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان تلخ بیانات
مظاہروں کے ساتھ ہی ایران اور امریکہ کے درمیان بیانات کی جنگ بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو ایران کو “سنگین نتائج” کا سامنا کرنا پڑے گا، اور کہا کہ ایران “بڑی مشکل” میں پھنس سکتا ہے۔
اس کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور اسرائیل پر احتجاجی تحریک کو متاثر کرنے اور ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔ لبنان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اور تل ابیب ایران کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے براہِ راست فوجی کارروائی کے امکانات کو کم قرار دیا۔
ادھر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے حکام نے مظاہرین کے خلاف تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران سے پرامن احتجاج کے حق کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے بھی مظاہرین کی ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔
معاشی فیصلے سے شروع ہو کر سیاسی چیلنج تک
موجودہ احتجاج کی بنیاد ایران کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال ہے۔ یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب ایرانی مرکزی بینک نے وہ اسکیم ختم کر دی جس کے تحت بعض درآمد کنندگان کو مارکیٹ ریٹ سے سستے امریکی ڈالر فراہم کیے جاتے تھے۔ اس فیصلے کے بعد بازاروں میں قیمتیں بڑھ گئیں اور کئی دکانداروں نے اپنی دکانیں بند کر دیں۔
ان مظاہروں میں بازاری طبقے کی شمولیت کو نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ طبقہ روایتی طور پر اسلامی جمہوریہ کا حامی رہا ہے۔ تاریخ میں بازاریوں اور علما کے اتحاد نے 1979 کے اسلامی انقلاب میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، جس نے شاہ کے اقتدار کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔
اگرچہ وقت کے ساتھ ان کا سیاسی اثر کم ہوتا گیا، لیکن کرنسی میں اتار چڑھاؤ اور کاروبار پر پڑنے والے براہِ راست اثرات نے انہیں ایک بار پھر سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ مظاہرے معاشی مطالبات سے نکل کر نظامِ حکومت کو چیلنج کرنے والی تحریک میں تبدیل ہو گئے۔
رضا پہلوی کا ملک گیر ہڑتال کا اعلان
ایران کے آخری شاہ کے جلا وطن صاحبزادے رضا پہلوی بھی حالیہ احتجاج میں نمایاں اپوزیشن آواز کے طور پر ابھرے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری ویڈیو پیغام میں دو روزہ ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی۔
رضا پہلوی نے خاص طور پر ٹرانسپورٹ، تیل و گیس اور توانائی کے شعبوں کے ملازمین سے کام بند کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے مظاہرین سے قومی پرچم اور علامات کے ساتھ سڑکوں پر نکل کر عوامی مقامات پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کی بھی اپیل کی۔
ان کا کہنا تھا کہ “شہروں کے مراکز پر کنٹرول حاصل کرنا اور اسے برقرار رکھنا اگلا ہدف ہونا چاہیے”، اور دعویٰ کیا کہ حالیہ مظاہروں نے ایرانی قیادت کو واضح پیغام دے دیا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ 1979 کے انقلاب کے وقت رضا پہلوی کی عمر محض 16 برس تھی، جب ان کے والد شاہ محمد رضا پہلوی کا 40 سالہ اقتدار ختم ہوا۔ اگرچہ عالمی سطح پر ان کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، تاہم ایران کے اندر ان کی مقبولیت کے حوالے سے صورتحال غیر واضح ہے۔
سرکاری مؤقف: حالات قابو میں، تشدد کے پیچھے غیر ملکی عناصر
جہاں انسانی حقوق کے ادارے اور عالمی میڈیا تشدد اور کریک ڈاؤن کی بات کر رہے ہیں، وہیں ایرانی حکومت اور سرکاری میڈیا حالات کے معمول پر آنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ پریس ٹی وی اور تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، ملک کے بیشتر شہروں میں اب امن قائم ہو چکا ہے۔
ایران کی قانون نافذ کرنے والی فورس (FARAJA) کے ترجمان سعید منتظرالمہدی نے کہا کہ زمینی مشاہدات کے مطابق ملک بھر میں عمومی سکون پایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ اجتماعات حکومت کے خلاف نہیں بلکہ “مسلح اور دہشت گرد عناصر” کے خلاف تھے۔
سرکاری رپورٹس کے مطابق مختلف صوبوں میں سرکاری و نجی املاک، بینکوں، مساجد اور دیگر تنصیبات پر حملے کیے گئے۔ تسنیم کے مطابق شیراز میں تین پولیس اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ تہران، قم، خوزستان، قزوین اور شمال مشرقی علاقوں میں بھی سیکیورٹی فورسز کو جانی نقصان پہنچا۔
شہر اسفراین میں ایک مقامی پراسیکیوٹر اور چار سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام واقعات غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر کی کارروائیاں ہیں۔
غیر یقینی صورتحال اور بڑھتا عالمی دباؤ
انٹرنیٹ بندش کے باعث ایران سے آنے والی معلومات محدود ہیں، جس سے مختلف دعوؤں اور بیانات کے درمیان حقیقت واضح نہیں ہو پا رہی۔ ایک طرف مغربی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں دباؤ بڑھا رہی ہیں، تو دوسری جانب ایرانی قیادت غیر ملکی مداخلت کے الزامات کے ساتھ سخت موقف پر قائم ہے۔
بڑھتی مہنگائی، سیاسی بے چینی اور سیکیورٹی کارروائیوں کے درمیان ایران ایک نازک موڑ پر کھڑا نظر آتا ہے۔ موجودہ حالات اس بات کے اشارے دے رہے ہیں کہ یہ بحران جلد ختم ہونے والا نہیں اور اس کے اثرات ایران کی داخلی سیاست کے ساتھ ساتھ پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
