WEB DESK

افغان دارالحکومت کے ہوائی اڈے کے باہر دھماکے سے ایک درجن سے زائد ہلاکتوں کا بتایا گیا ہے۔ کم از کم تین امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

طالبان کے ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ ہلاک و زخمی ہونے والوں میں ہوائی اڈے پر موجود طالبان کے محافظ بھی شامل ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے دوحہ سے اپنے نمائندے کے حوالے سے بتایا کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔ ہلاک ہونے والوں کی تفصیلات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔

کابل ہوائی اڈے کا رخ نہ کریں، امریکا اور اتحادی ممالک کا مشورہ

زیادہ تر ذرائع کی جانب سے اب تک تیرہ افراد کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ان میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ طاہر کیا گیا ہے۔ ہسپتال کی ایمرجنسی نے زخمیوں کی تعداد ساٹھ بتائی ہے۔ طالبان نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔

ترک وزارتِ دفاع نے دو دھماکوں کا بتایا ہے۔ اس بیان میں ترک فوجیوں کے محفوظ رہنے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ امریکی فوج کے صدر دفتر پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان کیربی نے بھی دو دھماکوں کی تصدیق کر دی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کابل ہوائی اڈے کے آبی گیٹ کے قریب ہونے والے دونوں دھماکے یقنی طور پر دہشت گرد گروپ اسلامک اسٹیٹ نے کیے ہیں۔

مذمتی بیانات
جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ کرنے والے مبینہ خودکش بمبار نے ان افراد کو نشانہ بنایا جو ملک سے رخصت ہونے کی امید میں جمع تھے۔

ادہر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کابل ہوائی اڈے پر ہونے والوں دھماکوں کی مذمت کی ہے اور جانی نقصان پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

مغربی اقوام کا انتباہ
کابل کے ہوائی اڈے پر موجود افغان شہریوں کو امریکی صدر جو بائیڈن کے علاوہ برطانیہ اور آسٹریلیا کی جانب سے بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی جانوں کا خیال رکھتے ہوئے کسی محفوظ مقام کی جانب منتقل ہو جائیں۔

افغانستان میں کثیرالنسلی حکومت کا قیام، پاکستان علاقائی حمایت کے لیے کوشاں

اس تناظر میں جب طالبان کے ترجمان سے اس خطرے بابت پوچھا گیا کیا تو انہوں نے اسے بس ایک فضول بات قرار دی اور واضح کیا کہ اس سے ہجوم میں افراتفری پھیلانا مقصود ہے۔