
عندلیب اختر
موسمیاتی تبدیلی سے لے کر مصنوعی ذہانت کے غیر منضبط انقلاب تک، آج کی دنیا ایسے پیچیدہ اور باہم جڑے ہوئے بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے عالمی نظام کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ان حالات میں ایک حقیقت تیزی سے ابھر کر سامنے آ رہی ہے کہ نوجوانوں کی آواز اور قیادت محض اہم نہیں بلکہ ناگزیر بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے آئے نوجوان رہنما، موجد اور سماجی کارکن ان دنوں نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہونے والے اقتصادی و سماجی کونسل (ایکوسوک) کے یوتھ فورم میں جمع ہیں، جہاں پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول کے لیے نئے اور مؤثر حل تلاش کیے جا رہے ہیں۔
یہ فورم، جس کا عنوان “ایجاد، اتحاد اور تبدیلی: 2030 کی راہ میں نوجوانوں کا کردار” ہے، اس بات کا واضح اعلان ہے کہ نوجوان صرف مستقبل کے وارث نہیں بلکہ حال کے معمار بھی ہیں۔ صاف پانی، توانائی، بنیادی ڈھانچے، پائیدار شہروں اور عالمی شراکت داری جیسے اہم موضوعات پر ہونے والی گفتگو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ دنیا کے بڑے مسائل کا حل اب روایتی پالیسی سازوں کے ساتھ ساتھ نوجوان ذہنوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک نے فورم کے افتتاح پر جس “مثبت توانائی” کا ذکر کیا، وہ دراصل اس نئی عالمی سوچ کی نمائندگی کرتی ہے جس میں نوجوانوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ نوجوانوں کو صرف مستقبل کے لیے نہیں بلکہ آج کے فیصلوں میں بھی شامل کیا جانا چاہیے، ایک اہم پیغام ہے۔ یہ پیغام اس روایت کو چیلنج کرتا ہے جس میں نوجوانوں کو اکثر تجربے کی کمی کے باعث نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
United Nations Economic and Social Council کے صدر لوک بہادر تھاپا نے جن مسائل کی نشاندہی کی، وہ نہ صرف سنگین ہیں بلکہ ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے بھی ہیں۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، موسمیاتی تبدیلی، معاشی غیر یقینی صورتحال، بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور ڈیجیٹل تقسیم جیسے چیلنجز کا سب سے زیادہ اثر نوجوانوں پر پڑتا ہے۔ اس کے باوجود یہی نوجوان ان مسائل کے حل کے لیے سب سے آگے بھی ہیں۔ وہ ٹیکنالوجی، سماجی جدت اور عالمی تعاون کے ذریعے ایسے راستے تلاش کر رہے ہیں جو ایک زیادہ منصفانہ اور پائیدار دنیا کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
اعداد و شمار اس حقیقت کو مزید واضح کرتے ہیں۔ دنیا میں 15 سے 24 سال کے درمیان عمر کے نوجوانوں کی تعداد تقریباً 1.2 ارب ہے، جو عالمی آبادی کا 16 فیصد بنتی ہے، اور 2030 تک اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک زبردست انسانی سرمایہ ہے، جسے اگر درست مواقع اور رہنمائی فراہم کی جائے تو یہ عالمی ترقی کی رفتار کو کئی گنا بڑھا سکتا ہے۔
تاہم، تصویر کا ایک تشویشناک پہلو بھی ہے۔ نوجوانوں کی نمائندگی کرنے والے اداروں کے مطابق ہر 4.4 سیکنڈ میں ایک نوجوان غذائی قلت، قابل علاج بیماریوں، تشدد یا قدرتی آفات کے باعث اپنی جان گنوا دیتا ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف عالمی نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ اس بات کی فوری ضرورت کو بھی اجاگر کرتے ہیں کہ نوجوانوں کو ان فیصلوں میں شامل کیا جائے جو براہ راست ان کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے: کیا موجودہ عالمی ڈھانچہ واقعی نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں وہ مقام دے رہا ہے جس کے وہ مستحق ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اکثر نوجوانوں کو پالیسی سازی کے عمل میں علامتی نمائندگی دی جاتی ہے، جبکہ اصل فیصلے اب بھی محدود حلقوں میں کیے جاتے ہیں۔ اس طرز عمل کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو نہ صرف سنا جائے بلکہ ان کے خیالات کو عملی پالیسیوں میں ڈھالا جائے۔مزید برآں، ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت کا تیزی سے پھیلاؤ ایک نیا چیلنج بھی پیش کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ ترقی کے بے شمار مواقع فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے غیر منظم استعمال سے عدم مساوات میں اضافہ اور روزگار کے مواقع میں کمی کا خدشہ بھی موجود ہے۔ ایسے میں نوجوانوں کی شمولیت اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ وہ اس ٹیکنالوجی کو ایک منصفانہ اور ذمہ دارانہ سمت میں لے جا سکیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ نوجوانوں کو صرف شہری مراکز تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ دیہی اور پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو بھی برابر کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ صنفی مساوات، معذور افراد کی شمولیت اور معاشی طور پر کمزور طبقات کی نمائندگی کو یقینی بنائے بغیر کوئی بھی ترقی پائیدار نہیں ہو سکتی۔
آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نوجوانوں کو محض مستقبل کا لیڈر کہنا اب کافی نہیں رہا۔ وہ آج کے لیڈر ہیں، جو نہ صرف مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں بلکہ ان کے حل بھی پیش کر رہے ہیں۔ اگر دنیا واقعی ایک پائیدار، جامع اور مستحکم مستقبل کی خواہاں ہے تو اسے نوجوانوں پر اعتماد کرنا ہوگا، انہیں مواقع دینے ہوں گے اور سب سے بڑھ کر انہیں فیصلہ سازی کے مرکز میں لانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں بحرانوں سے نکال کر ایک بہتر دنیا کی طرف لے جا سکتا ہے۔AMN
