Last Updated on January 9, 2026 1:38 am by INDIAN AWAAZ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی تیل پر 500 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر کے عالمی توانائی منڈی میں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی کانگریس میں منظور شدہ بل کے بعد سامنے آیا، جس کا مقصد روسی معیشت کو دباؤ میں لانا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم اس اقدام کے اثرات صرف روس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ متوقع ہے۔

بھارت، چین اور یورپی ممالک جو روسی تیل پر انحصار کرتے ہیں، اب مشکل فیصلوں کا سامنا کریں گے۔ بھارت کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر پیچیدہ ہے کیونکہ ایک طرف توانائی کی ضروریات بڑھ رہی ہیں اور دوسری طرف امریکا نے بھارت کی قیادت میں قائم انٹرنیشنل سولر الائنس (ISA) سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ اس علیحدگی سے بھارت کے قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کو دھچکا لگا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ عالمی سیاست میں نئی صف بندی کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں امریکا اپنی توانائی پالیسی کو سخت گیر انداز میں آگے بڑھا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے اور ترقی پذیر ممالک پر معاشی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔