Last Updated on July 6, 2026 12:15 am by INDIAN AWAAZ

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ تیل کی ترسیل معمول پر آنے کے باوجود خوراک، ایندھن، مہنگائی اور سپلائی چین کے مسائل غریب ممالک کو طویل عرصے تک متاثر کرتے رہیں گے

عندلیب اختر

آبنائے ہرمز کو دنیا کی معیشت کی شہ رگ قرار دیا جاتا ہے۔ خلیج فارس کو بحرِ عمان سے ملانے والی یہ تنگ سمندری گزرگاہ عالمی توانائی کی تجارت کا اہم ترین راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً ایک تہائی سمندری راستے سے برآمد ہونے والے خام تیل اور بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) کی تازہ ترین رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بتدریج بحال ہونا شروع ہوئی، لیکن حالیہ نئی کشیدگی نے اس عمل کو ایک بار پھر سست کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس صورتِ حال کے اثرات آنے والے کئی مہینوں بلکہ بعض شعبوں میں برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں، خصوصاً ترقی پذیر اور کمزور معیشتوں والے ممالک اس بحران کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھائیں گے۔

بحری تجارت کی بحالی ابھی نامکمل

رپورٹ کے مطابق جون کے وسط میں جنگ بندی کے بعد تجارتی جہاز دوبارہ معمول کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے لگے تھے، جس سے عالمی منڈیوں میں کسی حد تک اعتماد بحال ہوا۔ تاہم حالیہ سیاسی اور عسکری کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر شپنگ کمپنیوں، بیمہ فراہم کرنے والے اداروں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران نے فرانس اور عمان کی اس تجویز کو قبول نہیں کیا جس میں آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹا کر جہازرانی کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کی سفارش کی گئی تھی۔ اسی طرح ایران نے عالمی بحری ادارے (آئی ایم او) کی اس تجویز کو بھی مسترد کر دیا جس میں عمان کے ساحل کے قریب متبادل بحری راستہ کھولنے کی بات کی گئی تھی۔ ان پیش رفتوں نے عالمی تجارت کے مستقبل کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

تیل سے آگے بھی کئی مسائل

انکٹاڈ کا کہنا ہے کہ خام تیل کی ترسیل اگرچہ نسبتاً جلد معمول پر آ سکتی ہے، لیکن عالمی سپلائی چین، مال برداری کے معاہدے، بندرگاہی سرگرمیاں اور خوراک کی ترسیل کا نظام اتنی جلدی بحال نہیں ہوگا۔

ماہرین کے مطابق عالمی تجارت میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کے بعد شپنگ کمپنیوں کو اپنے راستے تبدیل کرنے، بیمہ کے اخراجات میں اضافے اور سامان کی ترسیل کے نئے معاہدے کرنے میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔ اس دوران درآمدی اشیا کی قیمتیں مسلسل بلند رہتی ہیں، جس کا براہِ راست اثر صارفین پر پڑتا ہے۔

ترقی پذیر ممالک کے لیے دوہرا بحران

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی 61 کمزور معیشتیں ایسی ہیں جو بیک وقت تیل اور خوراک کی درآمدات پر انحصار کرتی ہیں۔ ان ممالک کے لیے ایندھن اور غذائی اجناس دونوں کی قیمتوں میں اضافہ شدید معاشی بحران پیدا کر سکتا ہے۔

توانائی کی قیمتیں بڑھنے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے بلکہ کھاد، آبپاشی، زرعی مشینری اور خوراک کی پیداوار کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں وقتی طور پر کم بھی ہو جائیں تو خوراک کی قیمتیں کافی عرصے تک بلند رہ سکتی ہیں۔

رپورٹ میں خاص طور پر چھوٹے جزیرہ نما ممالک جیسے کیپ وردے (کابو ویڈ) اور مائیکرونیشیا کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں خوراک اور ایندھن دونوں کی زیادہ تر ضروریات درآمدات سے پوری ہوتی ہیں۔ ایسے ممالک کے پاس نہ تو بڑے زرمبادلہ کے ذخائر ہوتے ہیں اور نہ ہی اتنے مالی وسائل کہ وہ عالمی قیمتوں میں اضافے کا آسانی سے مقابلہ کر سکیں۔

مہنگائی کا نیا دباؤ

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی تجارت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دیتی ہے۔ شپنگ اخراجات بڑھنے سے خام مال مہنگا ہوتا ہے، جس کا اثر صنعت، زراعت، تعمیرات اور روزمرہ استعمال کی اشیا تک پہنچتا ہے۔

ترقی پذیر ممالک پہلے ہی قرضوں، مالی خسارے اور کرنسی کی کمزوری جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ اگر اسی دوران درآمدی اخراجات بھی بڑھ جائیں تو حکومتوں کے لیے عوام کو سبسڈی فراہم کرنا یا ضروری اشیا کی قیمتیں قابو میں رکھنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ بڑھے، بیرون ملک سے ترسیلاتِ زر کم ہو جائیں یا عالمی امداد میں کمی آ جائے تو ایسے ممالک مزید شدید معاشی بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔

غذائی تحفظ کے لیے سنگین خطرہ

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی غریب ممالک میں بچوں کی صحت پر طویل المدتی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر خوراک کی حقیقی قیمتوں میں صرف پانچ فیصد اضافہ ہو جائے تو غربت میں زندگی گزارنے والے بچوں میں شدید غذائی قلت اور دبلے پن کا خطرہ 15 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، جبکہ دیہی علاقوں کے بے زمین اور انتہائی غریب خاندانوں کے بچوں میں یہی خطرہ 26 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق زندگی کے ابتدائی برسوں میں غذائی قلت بچوں کی جسمانی نشوونما، ذہنی صلاحیت اور تعلیمی کارکردگی پر دیرپا منفی اثرات مرتب کرتی ہے، جن کا ازالہ بعد میں ممکن نہیں رہتا۔

عالمی تعاون ہی واحد راستہ

انکٹاڈ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو درآمدی اخراجات میں اضافے سے نمٹنے کے لیے مالی اور تکنیکی تعاون فراہم کیا جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خوراک اور ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے، سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور مستقبل کے تجارتی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بحران کے معاشی اثرات فوری طور پر ختم نہیں ہوں گے بلکہ آنے والے مہینوں تک عالمی معیشت کو متاثر کرتے رہیں گے۔ ان کے مطابق سب سے زیادہ نقصان ان ممالک کو ہوگا جن کی معیشتیں پہلے ہی کمزور ہیں اور جو درآمدی خوراک و ایندھن پر انحصار کرتے ہیں۔

انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ جنگ بندی کا احترام کیا جائے، کشیدگی میں کمی لائی جائے اور خطے میں امن کو مضبوط بنانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی جائیں، کیونکہ آبنائے ہرمز میں استحکام صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی معاشی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔

آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ آج کی عالمی معیشت ایک دوسرے سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ چند روز کی رکاوٹ بھی تیل، خوراک، شپنگ، مہنگائی اور مالیاتی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگرچہ جنگ بندی نے وقتی ریلیف ضرور فراہم کیا، لیکن اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ اس بات کا واضح اشارہ دیتی ہے کہ اصل چیلنج اب بھی باقی ہے۔ جب تک خطے میں پائیدار امن، محفوظ بحری راستے اور مضبوط عالمی تعاون کو یقینی نہیں بنایا جاتا، ترقی پذیر ممالک کو خوراک، ایندھن اور معاشی استحکام کے حوالے سے مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔