FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     29 Mar 2020 09:28:44      انڈین آواز
Ad

“صحافت ظلم اور حق تلفی کی کوکھ سے جنمی ہے”

خدا بخش لائبریری میں ہندستانی جرنلزم پر پروفیسر شاہین نظر کا خطاب

اے ایم این۔ پٹنہ


’ہندستانی صحافت: اردو، ہندی اور انگریزی اخبارات کا ایک تقابلی مطالعہ‘ کے موضوع پرمورخہ ۵/ فروری ۰۲۰۲ء کو خدابخش لائبریری میں ایک لکچر کا انعقاد کیا گیا۔ پروفیسر شاہین نظر،شاردا یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہ اور انڈیا ٹوڈے میڈیا انسٹی ٹیوٹ، نوئیڈا کو اس کے لئے خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ لکچر کا افتتاح کرتے ہوئے ڈاکٹر شائستہ بیدار، ڈائرکٹر، خدا بخش لائبریری نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ میں اس لائبریری میں پروفیسر شاہین نظر کا استقبال کرتی ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انھوں نے میری گزارش کو قبول کرتے ہوئے اس اہم موضوع پر لکچر دینے کے لئے اپنا قیمتی وقت نکالا۔ آپ گزشتہ ۰۴/ برسوں سے میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں اور اس دوران انھوں نے صحافتی میدان میں کافی کام کئے ہیں۔ ٹائمس آف انڈیا،پٹنہ،خلیج ٹائمس،دبئی،سعودی گزٹ، جدہ اور شاردا یونیورسٹی،نوئیڈا میں اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔آج کل انڈیا ٹوڈے میڈیا انسٹی ٹیوٹ،نوئیڈا سے وابستہ ہونے کے ساتھ وہ e-papersکے بھی important contributorsمیں سے ہیں اور The Wire اور دوسرے leading e-journalsسے جڑے ہوئے ہیں۔
یہ موضوع اس لئے بھی اہم ہے کہ آج جعلی اور خود ساختہ خبروں کا جو جال پھیلا ہوا ہے، اس مکر جال سے ایک عام قاری اپنے آپ کو کیسے محفوظ رکھ سکتا ہے، اس کی جانکاری ہم سب کے لئے بہت ضروری ہے۔ خاص طور سے نوجوان نسل جو اپنی زندگی کے شروعاتی پڑاؤ میں ہیں، اپنے ذہن و دماغ کو کیسے معتدل اور متوازن کر سکتی ہی۔ اس کی ذہنی اور علمی آبیاری بہت ضروری ہے۔صحافت ایسا پروفیشن ہے جس میں رہ کر سماج اور دیش کی سیوا کی جاسکتی ہے بالکل اسی طرح جیسے اور دوسرے قومی خدمت کے پروفیشن میں، یہاں بھی ایمان داری اور سچ کی بات کرنی ہوگی۔صحافت اب Professionہے جس میں رہ کر دیش کی سیوا کی جاسکتی ہے۔ایمان داری اور dedication کی ضرورت ہے۔جو مسئلہ جیسا ہے اس کو اسی طرح ایمان داری سے Publicکے سامنے پیش کرنا صحافی کا فرض ہے۔


پروفیسر شاہین نظر نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ہندستانی جرنلزم نے وقت کے تقاضہ کے مطابق اپنے آپ میں تبدیلی لانے کی کوشش کی۔ ۰۸۹۱ء کے دور میں جرنلزم کا اتنا پھیلاؤ نہیں تھا، جتنا آج ہے، بہار جیسے پردیش میں اس وقت جرنلزم کا ایک بھی ادارہ نہیں تھا۔ لیکن آج اس کے ادارے ہر جگہ مل جائیں گے۔ صحافت کا انداز وقت کے تقاضے کے ساتھ بدلتا رہا ہے۔ سرسید کے دور میں صحافت کا اصلاحی انداز تھا۔ انگریزوں کے دور میں اس کا مزاج تبدیل ہوا اور یہ صحافت کے لئے چیلنج کا دور رہا۔ ایمرجنسی کے بعد نیوز کا دائرہ بڑھا اور طرح طرح کے اخبارات اور میگزین نکلنے شروع ہوئے۔ آزادی کے بعد پھر اس میں بدلاؤ ہوا اور سماجی سروکار سے متعلق معلومات فراہم کی جانے لگیں۔ ۰۹۹۱ء کے بعد صحافت میں دو بڑی تبدیلیاں آئیں۔ پہلا بدلاؤ یہ ہوا کہ پرائیوٹ ٹی وی کا دور شروع ہوا۔ دوسرا بدلاؤ یہ ہوا کہ ورناکولر صحافت کا پھیلاؤ ہوا۔ انگریزی کے علاوہ دوسری ہندستانی زبانوں میں اس کے قدم جمنے لگے۔


پروفیسر موصوف نے فرمایا کہ ایک زمانہ تھا کہ ٹائمس آف انڈیا ہندستان کا اول درجہ کا اخبار ہوا کرتا تھا۔ لیکن وقت کے بدلاؤ کی وجہ سے آج یہ گیارہویں نمبر پر آتا ہے۔ ایسا نہیں کہ اس کا سرکولیشن کم ہوا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہندی اخبارات نے اپنا قدم مضبوطی سے جما دیا۔ آج ایک سے پانچ میں ہندی اخبارات آتے ہیں۔
آپ نے یہ بھی فرمایا کہ انٹر نیٹ کی وجہ سے دنیا میں نیوز پیپر کی ریڈرشپ کم ہوتی جارہی ہے۔ لیکن ہندستان میں اس کے برعکس اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن سب سے حیرت کی بات ہے کہ آج بھی بیرون ممالک خاص طور پر بی بی سی پر زیادہ اعتبار کیا جا رہا ہے۔ یہ ہندستانی میڈیا کے لئے اچھے اشارات نہیں ہیں۔Mainstream Media اپنی ساکھ کو قائم رکھنے میں ناکام ہورہا ہے۔ اس لئےAlternative Mediaاور ڈیجیٹل میڈیا اپنا پاؤں پھیلاتا جا رہا ہے۔ چونکہ پہلے ایڈیٹر کو آزادی حاصل تھی اور اخبار کے مالک کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں تھا، اس لئے اس زمانے کے اخبارات آج بھی وقعت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ لیکن آج ایڈیٹر آزاد نہیں ہے، وہ دباؤ میں کام کر رہا ہے، اس لئے خاطر خواہ نتائج نہیں نکل رہے ہیں۔ لیکن جب ایک راستہ بند ہوتا ہے تو دوسرے راستے کھل جاتے ہیں۔ اور یہ دوسرا راستہ Alternative Mediaاور ڈیجیٹل میڈیا ہے۔ مجاہدین آزادی میں سے بیشتر صحافت سے جڑے ہوئے تھے۔ کیونکہ جب ان کی باتوں اور ان کے مطالبات کو اخبارات نے چھاپنا بند کردیا تو ان لوگوں نے خود اپنا راستہ کھول لیا۔
چونکہ آج کے لکچر کا موضوع بڑا دلچسپ اور وقت کے تقاضے کے مطابق تھا،

اس لئے اس پر متعدد سوالات بھی پوچھے گئے، جن کا تشفی بخش جواب پروفیسر موصوف نے دیا۔ اس کے علاوہ ریاض عظیم آبادی صاحب، سرور احمدصاحب اور نووندو شرما صاحب جیسے مشہور صحافیوں نے بھی اپنے خیالات کو سامعین کے سامنے رکھا۔ اور بہت کامیابی کے ساتھ یہ لکچر اپنے اختتام کو پہنچا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad

SPORTS

Covid-19 outbreak: Tokyo Olympics postponed to 2021

AMN Japan's Prime Minister and the head of the International Olympic Committee Shinzo Abe today agreed to ...

Olympics will be postponed due to coronavirus outbreak: IOC member

According to USA Today, veteran International Olympic Committee member Dick Pound said that the 2020 Tokyo Gam ...

Sports administrator BVP Rao resigns from Governing Body of SAI

Harpal Singh Bedi / New Delhi Protesting the decision to merge the Special Area Games Scheme ( SAG) with ...

ART & CULTURE

President Kovind confers 61st annual Lalit Kala Akademi awards

AMN President Ram Nath Kovind Wednesday conferred 61st annual Lalit Kala Akademi's awards on 15 artistes a ...

V P asks people to conserve linguistic heritage of India

"Studies by the experts suggest that teaching in mother tongue at the initial stages of education gives impetu ...

Ad

MARQUEE

India, Maldives sign MoUs for establishing Tourism zone 

AMN India and Maldives today signed five MoUs for establishing the Addu Tourism zone in five islands of Add ...

IRCTC to operate Golden Chariot luxury train from March 2020

AMN The Indian Railway Catering And Tourism Corporation, IRCTC, will operate and manage luxury train, Golden ...

CINEMA /TV/ ART

Filmi Tidbits: Sooryavanshi to be postponed amid Coronavirus

Entertainment Desk Akshay Kumar's Sooryavanshi, directed by Rohit Shetty is set for March 24 release for no ...

Irfan Khan to take health break after Angrezi Medium

Ailing actor Irfan Khan is unlikely to sign any new film in the near future as want health break. Angrezi Medi ...

Ad

CORONAVIRUS CRISIS

COVID-19: PM Shinzo Abe says Japan at critical stage

WEB DESK Japanese Prime Minister Shinzo Abe says the country is at a critical stage in dealing with COVID-1 ...

COVID-19: Number of confirmed cases crosses 6 lakhs worldwide

WEB DESK The number of confirmed coronavirus infections worldwide crossed 6 lakhs today as new cases stacke ...

@Powered By: Logicsart

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!