News

COVID-19: 26,97,328 recovered worldwide
‘Pandemic of racism’ led to George Floyd death
Coronavirus: Death toll rises to 3,82,867 worldwide
Officer charged over George Floyd death tried to warn colleagues during arrest: court
Berlin passes first state anti-discrimination law
FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     06 Jun 2020 04:55:31      انڈین آواز

“صحافت ظلم اور حق تلفی کی کوکھ سے جنمی ہے”

خدا بخش لائبریری میں ہندستانی جرنلزم پر پروفیسر شاہین نظر کا خطاب

اے ایم این۔ پٹنہ


’ہندستانی صحافت: اردو، ہندی اور انگریزی اخبارات کا ایک تقابلی مطالعہ‘ کے موضوع پرمورخہ ۵/ فروری ۰۲۰۲ء کو خدابخش لائبریری میں ایک لکچر کا انعقاد کیا گیا۔ پروفیسر شاہین نظر،شاردا یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہ اور انڈیا ٹوڈے میڈیا انسٹی ٹیوٹ، نوئیڈا کو اس کے لئے خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ لکچر کا افتتاح کرتے ہوئے ڈاکٹر شائستہ بیدار، ڈائرکٹر، خدا بخش لائبریری نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ میں اس لائبریری میں پروفیسر شاہین نظر کا استقبال کرتی ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انھوں نے میری گزارش کو قبول کرتے ہوئے اس اہم موضوع پر لکچر دینے کے لئے اپنا قیمتی وقت نکالا۔ آپ گزشتہ ۰۴/ برسوں سے میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں اور اس دوران انھوں نے صحافتی میدان میں کافی کام کئے ہیں۔ ٹائمس آف انڈیا،پٹنہ،خلیج ٹائمس،دبئی،سعودی گزٹ، جدہ اور شاردا یونیورسٹی،نوئیڈا میں اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔آج کل انڈیا ٹوڈے میڈیا انسٹی ٹیوٹ،نوئیڈا سے وابستہ ہونے کے ساتھ وہ e-papersکے بھی important contributorsمیں سے ہیں اور The Wire اور دوسرے leading e-journalsسے جڑے ہوئے ہیں۔
یہ موضوع اس لئے بھی اہم ہے کہ آج جعلی اور خود ساختہ خبروں کا جو جال پھیلا ہوا ہے، اس مکر جال سے ایک عام قاری اپنے آپ کو کیسے محفوظ رکھ سکتا ہے، اس کی جانکاری ہم سب کے لئے بہت ضروری ہے۔ خاص طور سے نوجوان نسل جو اپنی زندگی کے شروعاتی پڑاؤ میں ہیں، اپنے ذہن و دماغ کو کیسے معتدل اور متوازن کر سکتی ہی۔ اس کی ذہنی اور علمی آبیاری بہت ضروری ہے۔صحافت ایسا پروفیشن ہے جس میں رہ کر سماج اور دیش کی سیوا کی جاسکتی ہے بالکل اسی طرح جیسے اور دوسرے قومی خدمت کے پروفیشن میں، یہاں بھی ایمان داری اور سچ کی بات کرنی ہوگی۔صحافت اب Professionہے جس میں رہ کر دیش کی سیوا کی جاسکتی ہے۔ایمان داری اور dedication کی ضرورت ہے۔جو مسئلہ جیسا ہے اس کو اسی طرح ایمان داری سے Publicکے سامنے پیش کرنا صحافی کا فرض ہے۔


پروفیسر شاہین نظر نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ہندستانی جرنلزم نے وقت کے تقاضہ کے مطابق اپنے آپ میں تبدیلی لانے کی کوشش کی۔ ۰۸۹۱ء کے دور میں جرنلزم کا اتنا پھیلاؤ نہیں تھا، جتنا آج ہے، بہار جیسے پردیش میں اس وقت جرنلزم کا ایک بھی ادارہ نہیں تھا۔ لیکن آج اس کے ادارے ہر جگہ مل جائیں گے۔ صحافت کا انداز وقت کے تقاضے کے ساتھ بدلتا رہا ہے۔ سرسید کے دور میں صحافت کا اصلاحی انداز تھا۔ انگریزوں کے دور میں اس کا مزاج تبدیل ہوا اور یہ صحافت کے لئے چیلنج کا دور رہا۔ ایمرجنسی کے بعد نیوز کا دائرہ بڑھا اور طرح طرح کے اخبارات اور میگزین نکلنے شروع ہوئے۔ آزادی کے بعد پھر اس میں بدلاؤ ہوا اور سماجی سروکار سے متعلق معلومات فراہم کی جانے لگیں۔ ۰۹۹۱ء کے بعد صحافت میں دو بڑی تبدیلیاں آئیں۔ پہلا بدلاؤ یہ ہوا کہ پرائیوٹ ٹی وی کا دور شروع ہوا۔ دوسرا بدلاؤ یہ ہوا کہ ورناکولر صحافت کا پھیلاؤ ہوا۔ انگریزی کے علاوہ دوسری ہندستانی زبانوں میں اس کے قدم جمنے لگے۔


پروفیسر موصوف نے فرمایا کہ ایک زمانہ تھا کہ ٹائمس آف انڈیا ہندستان کا اول درجہ کا اخبار ہوا کرتا تھا۔ لیکن وقت کے بدلاؤ کی وجہ سے آج یہ گیارہویں نمبر پر آتا ہے۔ ایسا نہیں کہ اس کا سرکولیشن کم ہوا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہندی اخبارات نے اپنا قدم مضبوطی سے جما دیا۔ آج ایک سے پانچ میں ہندی اخبارات آتے ہیں۔
آپ نے یہ بھی فرمایا کہ انٹر نیٹ کی وجہ سے دنیا میں نیوز پیپر کی ریڈرشپ کم ہوتی جارہی ہے۔ لیکن ہندستان میں اس کے برعکس اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن سب سے حیرت کی بات ہے کہ آج بھی بیرون ممالک خاص طور پر بی بی سی پر زیادہ اعتبار کیا جا رہا ہے۔ یہ ہندستانی میڈیا کے لئے اچھے اشارات نہیں ہیں۔Mainstream Media اپنی ساکھ کو قائم رکھنے میں ناکام ہورہا ہے۔ اس لئےAlternative Mediaاور ڈیجیٹل میڈیا اپنا پاؤں پھیلاتا جا رہا ہے۔ چونکہ پہلے ایڈیٹر کو آزادی حاصل تھی اور اخبار کے مالک کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں تھا، اس لئے اس زمانے کے اخبارات آج بھی وقعت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ لیکن آج ایڈیٹر آزاد نہیں ہے، وہ دباؤ میں کام کر رہا ہے، اس لئے خاطر خواہ نتائج نہیں نکل رہے ہیں۔ لیکن جب ایک راستہ بند ہوتا ہے تو دوسرے راستے کھل جاتے ہیں۔ اور یہ دوسرا راستہ Alternative Mediaاور ڈیجیٹل میڈیا ہے۔ مجاہدین آزادی میں سے بیشتر صحافت سے جڑے ہوئے تھے۔ کیونکہ جب ان کی باتوں اور ان کے مطالبات کو اخبارات نے چھاپنا بند کردیا تو ان لوگوں نے خود اپنا راستہ کھول لیا۔
چونکہ آج کے لکچر کا موضوع بڑا دلچسپ اور وقت کے تقاضے کے مطابق تھا،

اس لئے اس پر متعدد سوالات بھی پوچھے گئے، جن کا تشفی بخش جواب پروفیسر موصوف نے دیا۔ اس کے علاوہ ریاض عظیم آبادی صاحب، سرور احمدصاحب اور نووندو شرما صاحب جیسے مشہور صحافیوں نے بھی اپنے خیالات کو سامعین کے سامنے رکھا۔ اور بہت کامیابی کے ساتھ یہ لکچر اپنے اختتام کو پہنچا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

SPORTS

Hockey Legend Balbir Singh (Sr) is no more

Harpal Singh Bedi / New Delhi The grand old man of Indian hockey Balbir Singh (Senior) is no more. Conside ...

Football; U-17 girls keen to get back to the pitch; Ccoach Thomas Dennerby

Harpal Singh Bedi / New Delhi National U-17 Women’s Team Head Coach Thomas Dennerby has opined that his p ...

Ad

خبرنامہ

ممتاز مزاح نگار مجتبیٰ حسین انتقال کرگئے۔

ممتاز مزاح نگار مجتبیٰ حسین آ ج صبح حیدرآباد میں انتقال کرگئ ...

مارک زکربرگ کے اثاثوں میں 2 ماہ کے دوران 30 ارب ڈالرز کا اضافہ

WEB DESKدنیا بھر میں نئے نوول کورونا وائرس کی وبا کے باعث لاک ڈاو ...

کورونا کی ویکسین ابھی بنی نہیں کہ ’پہلے کسے ملے گی‘ پر جھگڑا شروع

AMNفرانسیسی دوا ساز کمپنی سنوفی کے چیف ایگزیکیٹو پال ہڈسن کے ا ...

TECH AWAAZ

India poised to emerge as world’s largest electronics and mobile manufacturing country

AMN India is poised to emerge as the world’s largest electronics and mobile manufacturing country. Union ...

Bill Gates leaves Microsoft

Bill Gates and wife Melinda WEB DESK Microsoft Co-founder Bill Gates has left the Board of directors of ...

MARQUEE

60,000 marriages cancelled in Haryana

WEB DESK The wedding industry has been badly hit by the lockdown in Haryana. More than 60,000 marriages sch ...

Transgender activists ask Govt to halt Transgender Rules, 2020

FILE PHOTO WEB DESK More than 150 transgender activists from across India  have urged the governmen ...

@Powered By: Logicsart

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!