Last Updated on January 9, 2026 12:55 am by INDIAN AWAAZ

عندلیب اختر
جنگوں، موسمیاتی تبدیلی اور امدادی فنڈز میں کمی نے 2025 میں نہ صرف عالمی نظامِ صحت بلکہ معیشتوں، لیبر مارکیٹ اور ہیلتھ اکانومی کو بھی متاثر کیا۔ تاہم بیماریوں کے خاتمے اور ویکسینیشن میں پیش رفت نے معاشی بحالی کی امید کو تقویت دی۔ سال 2025 نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ صحت عامہ اور معیشت ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق مسلح تنازعات، بڑھتے انسانی بحران اور موسمیاتی اثرات نے جہاں نظامِ صحت کو کمزور کیا، وہیں پیداواری صلاحیت، افرادی قوت اور قومی بجٹ پر بھی منفی اثر ڈالا۔کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں صحت کے شعبے پر دباؤ کے باعث لیبر فورس کی کارکردگی متاثر ہوئی، بیماریوں کے سبب کام کے دن ضائع ہوئے اور حکومتوں کو ہنگامی صحت اخراجات کے لیے ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز منتقل کرنا پڑے۔یہ سال عالمی صحت عامہ کے لیے ایک ایسا سال ثابت ہوا جس میں ایک طرف سنگین تنازعات، مالی قلت اور موسمیاتی تبدیلیوں نے دنیا بھر کے نظامِ صحت کو شدید دباؤ میں رکھا، تو دوسری جانب بیماریوں کے خاتمے، ویکسین کی توسیع اور عالمی تعاون کے ذریعے امید کی کرنیں بھی روشن ہوئیں۔ عالمی ادارہ? صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق یہ سال اس حقیقت کی واضح یاد دہانی ہے کہ اگرچہ مشکلات بڑھ رہی ہیں، مگر اجتماعی عزم اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس مسلح تنازعات، نقل مکانی، قدرتی آفات اور مالی وسائل میں کمی کے باعث کئی ممالک میں بنیادی طبی خدمات بری طرح متاثر ہوئیں۔ ہسپتالوں، ویکسینیشن پروگراموں اور بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو شدید چیلنجز کا سامنا رہا۔ اس کے باوجود، نئے سال کے آغاز پر یہ احساس ابھرتا ہے کہ درست پالیسیوں، سائنسی پیش رفت اور شراکت داریوں کے ذریعے مستقبل کو زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
فنڈنگ میں کمی اور بجٹ دباؤ
2025 میں عالمی سطح پر امدادی مالی وسائل میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جس کا براہِ راست اثر زچہ و بچہ کی صحت، ویکسینیشن، ایچ آئی وی سے بچاؤ اور بیماریوں کی نگرانی جیسے پروگراموں پر پڑا۔ ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ اگر صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کم ہوتی رہی تو طویل المدتی معاشی نقصان ناگزیر ہوگا۔ماہرین کے مطابق صحت پر ہر ایک ڈالر کی سرمایہ کاری مستقبل میں کئی گنا معاشی فائدہ دیتی ہے، مگر فنڈنگ میں کمی کے باعث کئی ممالک کو بنیادی صحت سہولیات تک محدود کرنا پڑا، جس سے نجی شعبے پر دباؤ اور عوامی اخراجات میں اضافہ ہوا۔
تمام تر مالی دباؤ کے باوجود 2025 بیماریوں کے خاتمے کے حوالے سے ایک معاشی طور پر مثبت سال بھی رہا۔ مالدیپ کی جانب سے ماں سے بچے میں ایچ آئی وی، آتشک اور ہیپاٹائٹس بی کی منتقلی کے خاتمے سے نہ صرف صحت کے اشاریے بہتر ہوئے بلکہ طویل المدتی علاج کے اخراجات میں نمایاں کمی آئی۔برازیل میں ایچ آئی وی کی منتقلی کے خاتمے نے ہیلتھ سسٹم پر بوجھ کم کیا اور پیداواری افرادی قوت کے تحفظ میں مدد دی، جسے ماہرین ایک“ہیلتھ ڈیوڈنڈ”قرار دے رہے ہیں۔گرم خطوں کی نظرانداز شدہ بیماریوں —جیسے ٹریکوما، سلیپنگ سکنس اور ریور بلائنڈنس—کے خاتمے یا کنٹرول سے افریقہ اور دیگر خطوں میں لاکھوں افراد دوبارہ معاشی سرگرمیوں میں شامل ہوئے۔ نیجر، گنی اور کینیا جیسے ممالک میں ان بیماریوں پر قابو پانے سے زرعی اور دیہی معیشت کو تقویت ملی۔2010 کے بعد ان بیماریوں کے علاج کے محتاج افراد کی تعداد میں تقریباً ایک تہائی کمی کو ماہرین صحت کے ساتھ ساتھ معاشی کامیابی بھی قرار دے رہے ہیں۔
ٹی بی اور ملیریا: صحت پر سرمایہ کاری کا منافع
تپِ دق (ٹی بی) اور ملیریا جیسے امراض پر قابو پانے سے 2025 میں صحت کے اخراجات میں کمی اور افرادی قوت کی دستیابی میں بہتری دیکھی گئی۔ افریقہ اور یورپ میں ٹی بی کے کیسز میں 45 فیصد سے زائد کمی نے قومی بجٹ پر دباؤ کم کیا۔ملیریا سے پاک ممالک کی فہرست میں جارجیا، سورینام اور تیمور لیستے کا شامل ہونا سیاحت، سرمایہ کاری اور علاقائی ترقی کے لیے مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ افریقہ میں ملیریا ویکسین کے تعارف نے مستقبل میں ہیلتھ کیئر لاگت کم ہونے کی امید بڑھا دی ہے۔2025 میں وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے پہلے عالمی معاہدے کی منظوری اور بین الاقوامی صحت ضوابط میں بہتری کو ماہرین نے عالمی بزنس اعتماد کے لیے اہم قرار دیا۔ ان اقدامات سے مستقبل میں وباؤں کے باعث سپلائی چین میں خلل اور مارکیٹ عدم استحکام کے خطرات کم ہو سکتے ہیں۔غیر متعدی بیماریوں اور ذہنی صحت پر عالمی سیاسی اعلامیے کو بھی طویل المدتی ہیلتھ اکانومی کے لیے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
کووڈ 19 سے ہلاکتیں
وبائی امراض پر ڈبلیو ایچ او کے یورپی ماہر ماہر مارک کاٹز کا کہنا ہے کہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ کووڈ 19 سے ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد اور اس سے ہونے والی ہلاکتیں وباء کے دنوں سے بہت کم ہیں لیکن اب بھی لوگ بڑی تعداد میں اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔یورو سیو نیٹ ورک کے تحت آنے والے ممالک میں مئی 2023 اور اپریل 2024 کے دوران تقریباً 4,000 مریض سانس کے شدید انفیکشن کے ساتھ ہسپتال میں داخل تھے۔ ان میں سے تقریباً 10 فیصد مریض کووڈ 19 میں مبتلا تھے۔ کووڈ 19 کے ان مریضوں میں سے صرف3 فیصد نے بیمار ہونے سے پہلے بارہ ماہ کے دوران ویکسین لگوائی تھی۔کووڈ 19 کے ان مریضوں میں سے 13 فیصد کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت پیش آئی جبکہ 11 فیصد کی موت واقع ہوئی۔ تقابلی جائزے نے یہ بھی ظاہر کیا کہ کووڈ 19 کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کو انفلوئنزا کے مریضوں کے مقابلے میں آکسیجن اور انتہائی نگہداشت کی زیادہ ضرورت پڑتی ہے۔
غیر مساوی پیش رفت اور معاشی خطرات
اگرچہ 2025 میں مزید 1.4 ارب افراد نسبتاً صحت مند زندگی گزار رہے ہیں، تاہم تنازعات، غلط معلومات اور سپلائی چین کے مسائل کے باعث 2 کروڑ بچے بنیادی ویکسین سے محروم رہے۔ ماہرین کے مطابق یہ خلا مستقبل میں ہیلتھ کیئر اخراجات اور پیداواری نقصان میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔زچہ و بچہ کی اموات میں سست کمی بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بنیادی صحت میں ناکافی سرمایہ کاری بالآخر معیشت پر بھاری بوجھ ڈالتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق صحت پر سرمایہ کاری صرف سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔ سال 2025 نے واضح کر دیا کہ مضبوط نظامِ صحت کے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں۔ سائنس، مؤثر پالیسی اور عالمی تعاون کے ذریعے ہی ایک صحت مند افرادی قوت اور مستحکم عالمی معیشت کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔AMN
َََََ۔۔۔۔