Last Updated on January 3, 2026 4:48 pm by INDIAN AWAAZ


نیوز ڈیسک
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو دارالحکومت کراکس پر امریکی افواج کے بڑے پیمانے پر حملے کے بعد گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مادورو کو امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اشتراک سے حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں امریکا لے جایا گیا ہے، جہاں ان پر مقدمہ چلایا جائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک ریپبلکن سینیٹر کو بتایا کہ نکولس مادورو کو امریکا میں منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق سنگین فوجداری الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ مادورو کئی برسوں سے ایک مجرمانہ نیٹ ورک کی قیادت کر رہے ہیں اور ان کے خلاف شواہد کی بنیاد پر عدالتی کارروائی ناگزیر تھی۔
دوسری جانب وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی رودریگز نے کہا ہے کہ حکومت کو صدر نکولس مادورو اور خاتونِ اول سیلیا فلوریس کے موجودہ مقام کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہیں۔ انہوں نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں میں حکومتی عہدیداروں، فوجی اہلکاروں اور عام شہریوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین اور غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ کی علی الصبح دارالحکومت کراکس میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایک بین الاقوامی نیوز چینل کی ٹیم نے شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش کی اطلاع دی، جبکہ پہلا دھماکہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً ڈیڑھ بجے ریکارڈ کیا گیا۔
یاد رہے کہ نکولس مادورو 2020 سے امریکا میں فردِ جرم کا سامنا کر رہے ہیں، جب نیویارک کی ایک وفاقی عدالت نے ان پر منشیات اسمگلنگ، “نارکو دہشت گردی” اور امریکا میں کوکین اسمگل کرنے کی سازش کے الزامات عائد کیے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ابتدا میں ان کی گرفتاری پر 15 ملین ڈالر انعام مقرر کیا تھا، جو بعد ازاں بڑھا کر 50 ملین ڈالر کر دیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ مادورو کی گرفتاری امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے عمل میں آئی ہے، جبکہ مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ ریپبلکن سینیٹر مائیک لی کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انہیں بتایا کہ یہ فوجی کارروائی گرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد کرنے والے اہلکاروں کے تحفظ کے لیے کی گئی تھی۔
