جاوید اختر
گزشتہ کچھ عرصے سے انٹرنیٹ پر ڈیجیٹل روپے کے بارے میں یہ سوالات مسلسل پوچھے جا رہے ہیں۔ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ ہندوستان میں نقد رقم (کیش) کی جگہ لے سکتا ہے؟درحقیقت ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو وسیع کرنے اور صارفین کے لیے لین دین کو آسان بنانے کے مقصد سے ریزرو بینک آف انڈیا نے آف لائن ڈیجیٹل روپیہ متعارف کرایا ہے۔ -R) e (


-ڈیجیٹل روپیہ کیا ہے؟
ڈیجیٹل روپیہ یا e? دراصل ہندوستان کی فزیکل کرنسی (روپیہ ?) کی ڈیجیٹل شکل ہے۔یہ ریزرو بینک کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے۔ اس کی قدر بالکل نقد روپے جیسی ہوتی ہے اور اس پر ریزرو بینک کی ضمانت ہوتی ہے۔آپ اسے اپنے فون کے ڈیجیٹل والٹ میں محفوظ رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے:رقم بھیج سکتے ہیں،رقم وصول کر سکتے ہیں،ادائیگی کر سکتے ہیں،بالکل اسی طرح جیسے آپ کاغذی نوٹ استعمال کرتے ہیں۔صارفین ڈیجیٹل روپے کے لین دین کے لیے شراکت دار بینکوں کے فراہم کردہ ڈیجیٹل والٹ استعمال کر سکتے ہیں۔


ڈیجیٹل روپیہ ریزرو بینک جاری کرتا ہے جبکہ بینک اس کی تقسیم اسی طرح کرتے ہیں جیسے کاغذی کرنسی کی۔ریزرو بینک ڈیجیٹل روپیہ بناتا ہے پھر اسے الیکٹرانک طریقے سے بینکوں اور مجاز غیر بینک مالیاتی اداروں کو بھیجتا ہے۔اس کے بعد یہ ادارے صارفین کو اس نظام سے جوڑنے اور ان کے موبائل فون پر ڈیجیٹل روپیہ والٹ قائم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔روزمرہ کے لین دین کے لیے یکم دسمبر 2022 سے یہ منصوبہ پائلٹ مرحلے میں جاری ہے۔فی الحال صرف کچھ منتخب بینکوں اور اداروں کے صارفین اور تاجر ہی اس کا استعمال کر سکتے ہیں۔


ڈیجیٹل روپیہ کو کیسے محفوظ اور استعمال کیا جا سکتا ہے؟
آپ ڈیجیٹل روپیہ بینک یا مجاز مالیاتی ادارے کے ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے محفوظ اور استعمال کر سکتے ہیں۔اس کے ذریعے آپ کسی شخص کو براہ راست ادائیگی کر سکتے ہیں دکاندار کو پیمنٹ کر سکتے ہیں۔


شروع کرنے کے لیے:پلے اسٹور یا ایپ اسٹور سے eR والٹ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں،ایپ میں دی گئی ہدایات پر عمل کریں۔رجسٹریشن مکمل کریں۔ادائیگی کے وقت آپ کوڈCBDC QR۔یا دکان پر موجود یو پی آئی کیو آر کوڈاسکین کر کے ادائیگی کر سکتے ہیں۔
فی الحال والٹ کھولنے کے لیے صارف کا سیونگ اکاؤنٹ سے کے وائی سی منسلک ہونا ضروری ہے تاکہ عمل آسان ہو جائے۔


ڈیجیٹل روپیہ یو پی آئی سے کیسے مختلف ہے؟
سننے میں ڈیجیٹل روپیہ یو پی آئی ٹرانزیکشن جیسا لگتا ہے، لیکن دونوں میں اہم فرق ہے۔یو پی آئی کیا ہے؟یو پی آئی دراصل ایک ادائیگی کا طریقہ ہے، خود پیسہ نہیں۔یہ صرف ایک بینک اکاؤنٹ سے دوسرے بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے کا ذریعہ ہے۔جب آپ یو پی آئی استعمال کرتے ہیں تو رقم بینک اکاؤنٹ سے کٹتی ہے۔جب کہ ڈیجیٹل روپیہ استعمال کرتے وقت آپ اپنے ڈیجیٹل والٹ میں موجود ڈیجیٹل نقد منتقل کرتے ہیں۔

ڈیجیٹل روپیہ اور کرپٹو کرنسی میں فرق
بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیاں حکومت کی طرف سے باقاعدہ کنٹرول نہیں ہوتیں۔جبکہ ڈیجیٹل روپیہریزرو بینک جاری کرتا ہے۔ریزرو بینک ہی اسے کنٹرول کرتا ہے۔لہٰذا ڈیجیٹل روپیہ قانونی کرنسی ہے۔ہندوستان میں کرپٹو کرنسی کو قانونی کرنسی کا درجہ حاصل نہیں۔کن بینکوں میں ڈیجیٹل روپیہ دستیاب ہے؟


فی الحال 19 بینک اس نظام کا حصہ ہیں۔ یہ ہیں:
اسٹیٹ بینک آف انڈیا،آئی سی آئی سی آئی بینک،ایچ ڈی ایف سی بینک،یس بینک،آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک ،بینک آف بڑودہ، یونین بینک آف انڈیا، کوٹک مہندرا بینک.،ایکسس بینک۔کینرا بینک،انڈس انڈ بینک۔پنجاب نیشنل بینک،فیڈرل بینک۔کرناٹک بینک،انڈین بینک،آئی ڈی بی آئی بینک،بینک آف مہاراشٹر،بینک آف انڈیا،یوکو بینک،یہ بینک موبائل ایپس کے ذریعے ڈیجیٹل روپیہ والٹ فراہم کرتے ہیں۔


کیا ڈیجیٹل روپیہ ہندوستان میں کیش کی جگہ لے لے گا؟
ریزرو بینک نے واضح کیا ہے کہ ڈیجیٹل روپیہ موجودہ کرنسی کو ختم کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کی تکمیل کے لیے ہے۔ملک میں ابھی بھی بہت حد تک نقد رقم پر انحصار ہے، خاص طور پر دیہی اور غیر رسمی معیشت میں۔ڈیجیٹل روپیہ۔نقد کے ساتھ اعتماد برقرار رکھے گا،ڈیجیٹل ادائیگی کو آسان بنائے گا،نقد کے انتظام کی لاگت کم کرے گا،لین دین کو تیز اور مؤثر بنائے گا۔مستقبل میں آف لائن ڈیجیٹل ادائیگی ممکن بنا سکتا ہے