Last Updated on March 11, 2026 4:49 pm by INDIAN AWAAZ

Staff Reporter
نئی دہلی،
اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (یو ڈی او) دہلی پردیش کی جانب سے اردو زبان کے فروغ و اشاعت کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس و افطار کا انعقاد روڈ گراں، لال کنواں، دہلی میں کیا گیا۔ اس اجلاس کی صدارت ڈاکٹر مفتی جاوید انور دہلوی نے کی۔ اجلاس میں مقررین نے دہلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہلی اردو اکیڈمی کا جلد از جلد قیام عمل میں لایا جائے اور اردو کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
یو ڈی او دہلی کے جنرل سکریٹری ماسٹر مقصود احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن میں شریف الحسن نقوی اور آر۔ پی۔ سنگھ بطور نوڈل افسر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے دہلی حکومت سے اپیل کی کہ اسی طرز پر انہیں دوبارہ بحال کیا جائے تاکہ اردو کے تعلیمی معاملات کو بہتر طریقے سے آگے بڑھایا جا سکے۔
اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ مدارس، مساجد، اسکولوں، مکاتب اور گلیوں کے نام اردو میں لکھنے کی روایت کو فروغ دیا جائے۔ ماسٹر مقصود احمد نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ابتدائی تعلیم بچوں کو ان کی مادری زبان میں دی جائے۔ اس لیے اسکولوں کے پرنسپلوں سے ملاقات کر کے کم از کم آٹھویں جماعت تک تمام مضامین مادری زبان میں پڑھانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
سماجی کارکن اقبال ملک نے کہا کہ وہ گزشتہ پچیس برسوں سے اردو اخبارات خرید کر پڑھتے رہے ہیں اور اب تنظیم کے ساتھ مل کر اردو کے فروغ کے لیے کام کریں گے۔ ڈاکٹر نجم السحر نے اعلان کیا کہ اردو میں بورڈ لگانے کی مہم کا آغاز گلی مدرسہ شاہ عبدالعزیز دہلوی، کلان محل دہلی سے کیا جائے گا۔
یو ڈی او کے کنوینر وسیم احمد صدیقی نے دہلی میں سہ لسانی فارمولے پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ اشفاق حسین نغمی نے تجویز دی کہ اردو کے فروغ کے لیے محلوں میں نشستیں منعقد کی جائیں اور دعوت نامے بھی اردو میں تحریر کیے جائیں۔
سینئر صحافی محمد اویس نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ گزشتہ بارہ تیرہ برسوں سے پوسٹ رجسٹرار آفس میں اردو مراسلت کے لیے کوئی افسر موجود نہیں ہے اور نہ ہی دہلی اسمبلی میں کارروائی اردو میں تحریر کرنے کے لیے کوئی اہلکار تعینات ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈی آئی پی محکمہ کی جانب سے شائع ہونے والے جریدے کے لیے بھی کوئی اردو ایڈیٹر نہیں ہے اور لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر میں بھی اردو افسر کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے جو پہلے خبروں کا ترجمہ کر کے آگے بھیجتا تھا۔ ان کے مطابق ان عہدوں کے خاتمے سے دہلی میں اردو کی ترقی اور اشاعت پر منفی اثر پڑا ہے۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ چونکہ دہلی میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، اس لیے ہندی کی طرح اردو کے فروغ کے لیے بھی ٹھوس پالیسی اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں متفقہ طور پر دہلی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ دہلی اردو اکیڈمی کا فوری قیام عمل میں لایا جائے اور اس میں خالی پڑے عہدوں کو جلد از جلد پر کیا جائے۔
اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر مفتی جاوید انور دہلوی نے کہا کہ جس طرح روڑی، بدَرپور اور سیمنٹ مل کر ایک مضبوط عمارت بناتے ہیں اسی طرح اردو سے وابستہ تمام افراد کو مل کر زبان کے فروغ کے لیے کام کرنا ہوگا۔
اجلاس میں یو ڈی او دہلی پردیش کے نئے عہدیداران کے ناموں پر بھی اتفاق کیا گیا۔ ڈاکٹر مفتی جاوید انور کو صدر، ماسٹر مقصود احمد کو جنرل سکریٹری اور محمد عمران قنوجی کو خزانچی کے طور پر نامزد کیا گیا۔ نائب صدور کے لیے ڈاکٹر عشرت کفیل، ڈاکٹر نجم السحر، ڈاکٹر غیاث الدین صدیقی اور ڈاکٹر شکیل احمد میرٹھی کے نام شامل کیے گئے۔
سکریٹری کے عہدے کے لیے حکیم مرتضیٰ دہلوی اور ملک محمد ندیم کا انتخاب کیا گیا جبکہ مجلس عاملہ کے اراکین میں سماجی کارکن اقبال ملک، اشفاق حسین نغمی، ندیم عارف اور محمد اشرف کے نام شامل کیے گئے۔ تنظیم کے سرپرست عرفان احمد اعظمی کے ساتھ زاہد علی صدیقی کو بھی سرپرست کے طور پر شامل کیا گیا۔
یہ اجلاس افطار سے قبل اور عشائیے کے بعد دو نشستوں میں منعقد ہوا جس میں شاہد انصاری، محمد عامر اور ندیم ملک سمیت دیگر شرکاء نے بھی اردو کے فروغ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
