Last Updated on January 4, 2026 2:14 am by INDIAN AWAAZ
وینزویلا میں اقتدار کی منتقلی تک تمام معاملات امریکا چلائے گا، دوسرا حملہ بھی کرسکتے ہیں، ٹرمپ

امریکی اقدام پر عالمی ردعمل، وینزویلا بحران پر تشویش میں اضافہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا میں صدر نیکولس مادورو کے خلاف کارروائی اور ان کی گرفتاری کے دعوے کے بعد عالمی سطح پر شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ اس غیر معمولی پیش رفت پر لاطینی امریکا سمیت دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ متعدد عالمی طاقتوں نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پرامن حل اور بین الاقوامی قوانین کے احترام پر زور دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق لاطینی امریکی خطہ اس معاملے پر واضح طور پر منقسم دکھائی دیتا ہے۔ کئی ممالک نے امریکی کارروائی کی سخت مذمت کی ہے، جبکہ بعض ریاستوں میں صدر مادورو کی برطرفی کے اعلان پر خوشی اور جشن منایا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے کے متعدد ممالک امریکا کی 20ویں صدی میں کی گئی مسلسل مداخلت کے تجربات کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، کیونکہ ماضی میں امریکی مداخلت کے نتیجے میں چلی سے لے کر ہونڈوراس تک آمرانہ حکومتیں قائم ہوئیں، جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران لاطینی امریکا کے کئی ممالک میں انتخابات کے دوران دائیں بازو کی سیاست کو تقویت ملی ہے۔ بعض رہنما ماضی کی امریکی حمایت یافتہ فوجی حکومتوں کو سوشلزم کے خلاف ایک مؤثر دیوار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
امریکی کارروائی سے قبل بھی خطے کے کئی ممالک میں منظم جرائم میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جبکہ وینزویلا کے بدنام زمانہ گینگ “ٹرین دے اراگوا” کا خوف عوام اور ووٹرز کے ذہنوں پر چھایا رہا۔ اس صورتحال نے ایسے سیاست دانوں کو تقویت دی جو جرائم اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کے وعدے کر رہے تھے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ، برطانیہ، جرمنی، روس، چین، فرانس، کینیڈا سمیت متعدد ممالک نے وینزویلا میں امریکی کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ چند ممالک کی جانب سے محتاط اور ملے جلے بیانات سامنے آئے ہیں۔
اقوام متحدہ کا ردعمل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ ایسے اقدامات ایک خطرناک مثال قائم کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام فریقین کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کا مکمل احترام کرنا چاہیے، اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
چین کی سخت مذمت
چین کی وزارت خارجہ نے وینزویلا کے اندر امریکی کارروائی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایک خودمختار ملک کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال ناقابل قبول ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کسی ملک کے صدر کے خلاف طاقت کے استعمال کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔
برطانیہ کا مؤقف
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ حقائق سامنے آنے کے بعد صدر ٹرمپ اور اتحادی ممالک سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ اس کارروائی میں شامل نہیں ہے اور ہمیشہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔
وینزویلا میں اقتدار کی منتقلی تک تمام معاملات امریکا چلائے گا، دوسرا حملہ بھی کرسکتے ہیں، ٹرمپ

امریکا کے صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج نے میرے حکم پر حملہ کیا۔
وینزویلا میں حملے اور صدر و اہلیہ کی گرفتاری کے حوالے سے ٹرمپ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج نے میرے حکم پر رات گئے اور آج صبح وینزویلا کو نشانہ بنایا اور فوجی قوت کا ناکارہ بنادیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی کارروائی سے کراکس کا بڑا حصہ تاریکی میں ڈوب گیا جبکہ ہمارے فوجیوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو پکڑلیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پوری دنیا نے ایسا حملہ نہیں دیکھا، امریکا کے پاس دنیا کا بہترین اسلحہ ہے اور ہم دوسرے حملے کیلیے بھی تیار ہیں تاہم ایسا لگتا ہے کہ دوسرے حملے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وینزویلا کے تمام معاملات اقتدار کی منتقلی تک امریکا چلائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا میں 97 فیصد منشیات سمندر کے راستے آتی ہے، امریکا نے وینزویلا کے دل میں تاریخی آپریشن کیا کیونکہ وہاں کے لوگ دہائیوں سے مشکلات کا شکار تھے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ ابھی بحری جہاز میں ہیں، جو نیویارک کی طرف بڑھ رہا ہے۔
