ہمارے نامہ نگار سے نئی دہلی:

ایک اہم سیاسی پیش رفت میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے باغی دھڑے سے تعلق رکھنے والے تین مسلم ارکانِ پارلیمنٹ نے جمعرات کو مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی اور مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد میں مساجد سے مبینہ طور پر لاؤڈ اسپیکر ہٹائے جانے اور انتخابی فہرستوں کی جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) مہم کے معاملے میں مرکز سے مداخلت کی اپیل کی۔

ملاقات کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں ابو طاہر خان, خلیل الرحمٰن اور یوسف پٹھان شامل تھے۔ انہوں نے مرشد آباد کی متعدد مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹائے جانے کی اطلاعات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مقامی مسلم آبادی میں شدید ناراضی پائی جا رہی ہے۔ وفد نے وزیرِ داخلہ سے مطالبہ کیا کہ مناسب کارروائی کی جائے اور مسلم برادری کے مذہبی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

یہ ملاقات تقریباً 20 باغی ٹی ایم سی ارکانِ پارلیمنٹ کے گروپ کے لیے ایک نئی سیاسی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران تینوں ارکان نے مرشد آباد میں جاری ایس آئی آر مہم پر بھی اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ اس عمل سے ووٹروں میں بے چینی اور خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

وفد نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ضلع میں مسلمانوں کو ریاستی حکومت کے تحت زیادتیوں اور مشکلات کا سامنا ہے، اور انہوں نے موجودہ صورتِ حال سے مرکزی وزیرِ داخلہ کو تفصیل سے آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق امت شاہ نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ ملاقات میں اٹھائے گئے تمام معاملات، بشمول مساجد سے مبینہ طور پر لاؤڈ اسپیکر ہٹانے اور ایس آئی آر سے متعلق شکایات، کا جائزہ لیا جائے گا اور قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی۔