Last Updated on January 10, 2026 9:52 pm by INDIAN AWAAZ

ڈھاکہ سے ذاکر حسین
بنگلہ دیش میں بھارت کے ہائی کمشنر پرنئے ورما نے ہفتے کے روز ڈھاکہ کے گلشن میں واقع پارٹی دفتر میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان سے شائستہ ملاقات کی۔ طارق رحمان کو بڑے پیمانے پر بنگلہ دیش کے آئندہ وزیر اعظم کے ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً پانچ بجے ہونے والی اس ملاقات کی تصدیق بی این پی کے تصدیق شدہ فیس بک پیج پر جاری کی گئی پوسٹ اور ویڈیو کے ذریعے کی گئی۔ ملاقات کے دوران بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر اور قائمہ کمیٹی کے رکن صلاح الدین احمد بھی موجود تھے۔ بی این پی میڈیا سیل کے رکن شائرل کبیر خان کے مطابق یہ ملاقات بی این پی چیئرمین کے دفتر میں ہوئی جہاں بھارت اور بنگلہ دیش کے باہمی مفاد سے متعلق متعدد امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا، تاہم ملاقات کے ایجنڈے کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
اس ملاقات کو بنگلہ دیش کی اہم سیاسی جماعتوں، بالخصوص ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی، کے ساتھ بھارت کے مسلسل سفارتی رابطوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں بی این پی اور بھارتی حکام کے درمیان ہونے والے روابط کے سلسلے میں یہ ملاقات ایک اہم کڑی سمجھی جا رہی ہے۔
مارچ 2023 میں بی این پی کے پانچ رکنی وفد نے ڈھاکہ میں ہائی کمشنر پرنئے ورما کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں شرکت کی تھی۔ اس کے بعد ستمبر 2024 میں پرنئے ورما اور بی این پی کے سینئر رہنماؤں کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں، جو سیاسی سطح پر مسلسل روابط کی عکاس ہیں۔ بھارت نے بی این پی قیادت کے لیے خیرسگالی کے کئی اقدامات بھی کیے ہیں۔ سابق وزیر اعظم اور بی این پی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیا کی علالت کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا، جبکہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے طارق رحمان کو تعزیتی خط بھی ارسال کیا تھا، جو نئی دہلی کی بی این پی قیادت کے ساتھ مسلسل وابستگی کی علامت ہے۔
یہ تازہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حالیہ مہینوں میں بنگلہ دیش میں بھارت مخالف مظاہروں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بعض مظاہرین اور سیاسی گروہوں نے بھارت پر بنگلہ دیش کے داخلی معاملات میں غیر ضروری مداخلت کا الزام عائد کیا ہے۔ حکمرانی، انتخابات اور علاقائی اثر و رسوخ پر جاری مباحث کے دوران بھارت کا نام اکثر سڑکوں پر ہونے والے احتجاج اور سیاسی بیانات میں نمایاں رہا ہے، بالخصوص نوجوان رہنما عثمان ہادی کی ہلاکت سے متعلق الزامات کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
ان مظاہروں کے دوران بعض اوقات تشدد بھی دیکھنے میں آیا، جس میں راجشاہی اور چٹاگانگ میں قائم بھارتی سفارتی اداروں پر حملے بھی شامل ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے ویزا خدمات عارضی طور پر معطل کرنا پڑیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط بھی متاثر ہوئے۔
اس حساس پس منظر میں پرنئے ورما اور طارق رحمان کی ملاقات کو بنگلہ دیش کی تمام بڑی سیاسی قوتوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کی بھارت کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی بے یقینی کے اس ماحول میں یہ ملاقات بھارت۔بنگلہ دیش تعلقات کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
