Last Updated on January 12, 2026 5:21 pm by INDIAN AWAAZ

پیر کے روز سونے اور چاندی کی قیمتیں نئی تاریخی بلندیوں پر پہنچ گئیں، کیونکہ امریکی محکمۂ انصاف اور فیڈرل ریزرو کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ، اور ایران میں شدت اختیار کرتے مظاہروں نے جغرافیائی و سیاسی خطرات میں اضافہ کر دیا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی جانب راغب ہوئے۔
ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج (MCX) میں فروری ڈیلیوری والا سونا 1.46 فیصد اضافے کے ساتھ 1,40,838 روپے فی 10 گرام تک پہنچ گیا، جبکہ مارچ ڈیلیوری والی چاندی 3.66 فیصد بڑھ کر 2,61,977 روپے فی کلوگرام پر بند ہوئی۔
عالمی منڈی میں اسپاٹ گولڈ 1.45 فیصد اضافے کے ساتھ 4,575.82 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا، جبکہ دورانِ کاروبار اس نے 4,601.17 ڈالر فی اونس کی نئی ریکارڈ سطح کو چھوا۔ اسی طرح چاندی کی قیمتیں 4.85 فیصد بڑھ کر 83.19 ڈالر فی اونس ہو گئیں، جو سیشن کے دوران 83.88 ڈالر کی تاریخی بلندی تک جا پہنچی تھیں۔
فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے انکشاف کیا کہ مرکزی بینک کو فیڈ ہیڈکوارٹرز کی تزئین و آرائش سے متعلق جون میں دی گئی کانگریسی گواہی پر امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے گرینڈ جیوری کے سمن موصول ہوئے ہیں۔ اس پیش رفت کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیڈ کے درمیان محاذ آرائی میں شدت اور مرکزی بینک کی خودمختاری سے متعلق خدشات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مہتا ایکویٹیز لمیٹڈ کے نائب صدر (کموڈیٹیز) راہول کلانتری کے مطابق، بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی خطرات، فیڈرل ریزرو پر سیاسی دباؤ اور توقع سے کمزور امریکی روزگار کے اعداد و شمار نے محفوظ سرمایہ کاری کی مانگ کو مضبوط کیا، جس کے نتیجے میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ادھر ایران میں ہونے والے جان لیوا مظاہروں نے سیاسی عدم استحکام اور تیل کی رسد پر ممکنہ اثرات کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ اتوار کو صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کے اشاروں نے بھی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کیا، جبکہ دیگر عالمی جغرافیائی تنازعات نے بھی منڈیوں پر دباؤ برقرار رکھا۔
گزشتہ ہفتے جاری امریکی ملازمتوں کی رپورٹ میں پے رولز کی نمو توقعات سے کم رہی، جس سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ فیڈرل ریزرو رواں سال مزید شرحِ سود میں کمی کر سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے سونے کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ چاندی میں 7 فیصد سے زیادہ کی تیزی دیکھی گئی۔ روس-یوکرین جنگ، امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری، اور گرین لینڈ پر کنٹرول سے متعلق واشنگٹن کے نئے اشارے بھی قیمتی دھاتوں کی تیزی کے لیے معاون عوامل بنے۔
