Last Updated on January 10, 2026 9:53 pm by INDIAN AWAAZ

ڈھاکہ سے ذاکر حسین
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے سابق وزیر اعظم اور پارٹی سربراہ بیگم خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد طارق رحمان کو باضابطہ طور پر پارٹی کا نیا چیئرمین مقرر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ جمعہ کی رات گلشن میں واقع پارٹی دفتر میں منعقدہ بی این پی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے صحافیوں کو اس فیصلے سے آگاہ کیا۔
پارٹی آئین کے مطابق چیئرمین کے عہدے کے خالی ہونے کی صورت میں نیشنل اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس بلا کر نیا چیئرمین مقرر کیا جاتا ہے۔ آرٹیکل 7 (گا) کے تحت سینئر نائب چیئرمین کو یہ ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ اسی آئینی شق کے تحت طارق رحمان کو پارٹی کی قیادت سونپی گئی ہے۔ وہ 8 فروری 2018 سے اس وقت سے پارٹی کے قائم مقام چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے جب خالدہ ضیا کو جیل بھیجا گیا تھا۔
طارق رحمان 17 برس کی جلاوطنی کے بعد 25 دسمبر 2025 کو بنگلہ دیش واپس لوٹے تھے۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز سابق فوجی حکمراں حسین محمد ارشاد کے خلاف تحریک کے دوران کیا۔ 1988 میں وہ باضابطہ طور پر بی این پی میں شامل ہوئے، 2002 میں سینئر جوائنٹ سیکریٹری بنے، 2009 میں سینئر نائب چیئرمین مقرر ہوئے اور پارٹی کے اندر جمہوری عمل کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
’ملک کو 5 اگست سے پہلے کی صورتحال میں واپس نہیں جانا چاہیے‘
بی این پی کے چیئرمین بننے کے بعد ہفتے کے روز طارق رحمان نے کہا کہ بنگلہ دیش کو 5 اگست سے پہلے کی صورتحال میں ہرگز واپس نہیں جانا چاہیے۔ انہوں نے ملک میں جمہوریت اور ہر سطح پر احتساب کی ضرورت پر زور دیا۔ شہر کے ایک ہوٹل میں مدیران اور صحافیوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا:
“پہلے بھی مسائل تھے اور آج بھی ہیں، لیکن ہم واضح طور پر 5 اگست سے پہلے کی حالت میں واپس نہیں جانا چاہتے۔”
انہوں نے 5 اگست 2024 کے واقعات اور اپنی ذاتی زندگی کے نقصانات، جن میں ان کے والدین کی وفات بھی شامل ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تشدد، انتقام اور نفرت ہمیشہ “خطرناک نتائج” کا باعث بنتے ہیں۔
“اختلافات ہوں گے، لیکن بہت سے مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ اختلافات کو گہری تقسیم میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہیے،” انہوں نے کہا۔
طارق رحمان نے کہا کہ سیاست دانوں کو 1971، 1990 اور 5 اگست 2024 جیسے اہم تاریخی مواقع سے سبق سیکھنا چاہیے تاکہ ملک کی خودمختاری کا تحفظ کیا جا سکے۔
“اگر ہم جمہوری عمل کو جاری رکھیں اور احتساب کو یقینی بنائیں تو ہم مطلوبہ تبدیلی لا سکتے ہیں،” انہوں نے کہا۔
بی این پی کے نئے چیئرمین کے یہ بیانات آئندہ سیاسی حکمت عملی اور جمہوری اصلاحات کے حوالے سے اہم اشارہ سمجھے جا رہے ہیں۔
