Last Updated on March 8, 2026 1:35 pm by INDIAN AWAAZ

کٹھمنڈو: نیپال کی سیاست میں ایک غیر متوقع اور بڑا سیاسی الٹ پھیر سامنے آیا ہے جہاں ریپر سے سیاست دان بننے والے Balendra Shah، جو عام طور پر بالین شاہ کے نام سے جانے جاتے ہیں، کی جماعت Rastriya Swatantra Party (آر ایس پی) نے پارلیمانی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کر لی ہے اور اب ملک میں اگلی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ اس انتخابی نتیجے نے نیپال کی روایتی اور پرانی سیاسی جماعتوں کو سخت دھچکا پہنچایا ہے۔
35 سالہ بالین شاہ، جنہیں آر ایس پی نے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر پیش کیا تھا، نے جھاپا–5 کے حلقے سے چار مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے سینئر رہنما KP Sharma Oli کو تقریباً پچاس ہزار ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی۔ اولی کی جماعت Communist Party of Nepal (Unified Marxist–Leninist) کو اس انتخاب میں غیر متوقع ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
پارلیمنٹ میں آر ایس پی کی واضح برتری
ابتدائی انتخابی نتائج کے مطابق راشٹریہ سوتنترا پارٹی نے 106 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ مزید 18 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ اس طرح پارٹی پارلیمنٹ میں واضح اکثریت کے قریب پہنچ گئی ہے اور حکومت سازی کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔
دوسری جانب نیپال کی بڑی روایتی جماعت Nepali Congress صرف 15 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے اور 3 نشستوں پر آگے ہے۔ اسی طرح سی پی این–یو ایم ایل کو 7 نشستیں ملی ہیں اور وہ 3 نشستوں پر برتری رکھتی ہے۔ جبکہ Nepal Communist Party نے 6 نشستیں جیتی ہیں اور 2 نشستوں پر آگے ہے۔
نیپال میں 5 مارچ کو ہونے والے ان پارلیمانی انتخابات میں تقریباً 60 فیصد ووٹروں نے حق رائے دہی استعمال کیا، جسے عوام کی جمہوری عمل میں مضبوط شرکت قرار دیا جا رہا ہے۔
نیپال کی پارلیمنٹ 275 ارکان پر مشتمل ہے۔ ان میں سے 165 ارکان براہ راست ووٹنگ (فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ نظام) کے ذریعے منتخب کیے جاتے ہیں، جبکہ باقی 110 ارکان متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت منتخب ہوتے ہیں تاکہ مختلف طبقات اور چھوٹی جماعتوں کو بھی نمائندگی مل سکے۔
سب سے کم عمر اور پہلے مدھیسی وزیر اعظم بننے کا امکان
اگر پارلیمنٹ میں انہیں باضابطہ حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو بالین شاہ نیپال کی تاریخ کے سب سے کم عمر وزیر اعظم بن جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ملک کے پہلے مدھیسی وزیر اعظم بھی ہوں گے۔ مدھیسی برادری بنیادی طور پر نیپال کے جنوبی ترائی علاقے میں آباد ہے اور طویل عرصے سے قومی سیاست میں زیادہ نمائندگی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس انتخاب میں نوجوان ووٹروں اور شہری متوسط طبقے نے بڑی تعداد میں بالین شاہ کی حمایت کی۔ بہت سے ووٹر روایتی جماعتوں کی سیاست، بدعنوانی، اور مسلسل سیاسی عدم استحکام سے مایوس ہو چکے تھے۔
موسیقی سے سیاست تک کا سفر
سیاست میں آنے سے پہلے بالین شاہ ایک معروف ریپر اور سول انجینئر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کی مقبولیت اس وقت مزید بڑھی جب انہوں نے 2022 میں کٹھمنڈو کے میئر کا انتخاب بطور آزاد امیدوار جیت لیا۔ اس کامیابی نے انہیں قومی سطح پر ایک نئی شناخت دی۔
میئر کے طور پر اپنے دور میں انہوں نے شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی، شہری نظم و نسق کی بہتری اور شفاف انتظامیہ پر زور دیا۔ اسی عوامی مقبولیت کی بنیاد پر انہوں نے راشٹریہ سوتنترا پارٹی کو مضبوط کیا اور اسے تبدیلی اور اصلاحات کی سیاست کی علامت قرار دیا۔
نئی حکومت کے سامنے چیلنجز
اگرچہ انتخابی کامیابی نے بالین شاہ کو اقتدار کے قریب پہنچا دیا ہے، لیکن ان کی ممکنہ حکومت کو کئی بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نیپال کی معیشت اس وقت سست ترقی، بے روزگاری اور بیرون ملک روزگار پر انحصار جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ بڑی تعداد میں نیپالی نوجوان روزگار کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں اور ملک کی معیشت بڑی حد تک ان کی بھیجی گئی رقوم (ریمیٹنس) پر منحصر ہے۔
اس کے علاوہ نیپال کو بنیادی ڈھانچے کی کمی، قدرتی آفات کے خطرات اور سیاسی استحکام برقرار رکھنے جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔
بھارت کی جانب سے مبارکباد
بھارت کے وزیر اعظم Narendra Modi نے نیپال میں کامیاب انتخابات کے انعقاد پر وہاں کے عوام کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ نیپال کی جمہوری تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ India نیپال کا قریبی دوست اور ہمسایہ ملک ہے اور نئی حکومت کے ساتھ مل کر امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
بھارت اور نیپال کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور معاشی تعلقات بہت گہرے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کھلی سرحد ہے اور تجارت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں مسلسل تعاون جاری ہے۔
نیپال کی سیاست میں نئے دور کا آغاز؟
2008 میں نیپال میں بادشاہت کے خاتمے اور جمہوری نظام کے قیام کے بعد سے ملک میں کئی سیاسی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملے ہیں اور حکومتیں بار بار تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ ایسے میں بالین شاہ کی جماعت کی یہ بڑی کامیابی نیپال کی سیاست میں ایک نئے سیاسی دور کے آغاز کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا بالین شاہ اپنی عوامی مقبولیت کو مؤثر حکمرانی میں تبدیل کر پائیں گے اور کیا ان کی قیادت میں نیپال سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کی نئی راہ پر گامزن ہو سکے گا۔
