Last Updated on September 2, 2026 11:35 pm by INDIAN AWAAZ

AMN
نئی دہلی: اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل ایک اہم سیاسی پیش رفت میں اے آئی ایم آئی یم کے قومی ترجمان سید عاصم وقار بدھ کے روز کانگریس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی تبدیل کرنے کے بعد وقار نے اسد الدین اویسی کی قیادت والی اے آئی ایم آئی ایم کی سیاسی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پارٹی بی جے پی کی مخالفت کا دعویٰ تو کرتی ہے، لیکن اسے اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کو ہی نشانہ بناتی ہے۔AMN
وقار نے نئی دہلی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے ہیڈکوارٹر میں کانگریس کی رکنیت اختیار کی۔ اس موقع پر اتر پردیش کانگریس کے انچارج راجندر پال گوتم، ریاستی کانگریس صدر اجے رائے اور اے آئی سی سی اقلیتی شعبے کے چیئرمین عمران پرتاپ گڑھی موجود تھے۔
پارٹی چھوڑنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے وقار نے کہا کہ جو لوگ بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں، انہیں اسی مقصد کے حصول کے لیے کام کرنا چاہیے، نہ کہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے خلاف سیاسی لڑائی میں الجھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ملک سے محبت کرنے والے تمام لوگوں کا ایک ہی مقصد ہونا چاہیے کہ بی جے پی کی ’’ملک دشمن‘‘ حکومت کو اقتدار سے ہٹایا جائے اور ایسی سیکولر حکومت قائم کی جائے جو عوام کے مفاد میں کام کرے۔
اے آئی ایم آئی ایم میں اپنے کئی برسوں کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے وقار نے کہا کہ انہیں محسوس ہوا کہ پارٹی بی جے پی کی مخالفت کا دعویٰ کرنے کے باوجود کانگریس، سماج وادی پارٹی اور دیگر ان جماعتوں سے سیاسی محاذ آرائی میں مصروف رہی جو بی جے پی کو شکست دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر اپوزیشن جماعتوں سے ہی لڑتے رہیں گے اور انہیں مضبوط ہونے کا موقع نہیں دیں گے تو آخر اس کا فائدہ کس کو ہوگا؟
وقار نے کہا کہ اگر واقعی بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانا مقصد ہے تو سیاسی جدوجہد کا اصل ہدف بی جے پی ہی ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر کوئی جماعت بی جے پی کے مخالف سیاسی قوتوں سے لڑتی ہے تو وہ بالواسطہ طور پر بی جے پی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔
انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اور راہل گاندھی کی ٹیم ملک بھر میں بی جے پی کے خلاف سیاسی جدوجہد کر رہی ہے۔
اتر پردیش کی سیاست میں وقار اے آئی ایم آئی ایم کی ایک نمایاں آواز رہے ہیں اور انہیں پارٹی سربراہ اسد الدین اویسی کا قریبی سمجھا جاتا تھا۔ ایسے میں ان کا کانگریس میں شامل ہونا خاص طور پر اتر پردیش میں اے آئی ایم آئی ایم کے لیے ایک اہم سیاسی دھچکا قرار دیا جا سکتا ہے۔
وقار کا کانگریس میں شامل ہونا ایسے وقت میں ہوا ہے جب اتر پردیش اسمبلی انتخابات اگلے سال کے اوائل میں متوقع ہیں۔ ریاست میں حکمراں بی جے پی کو کانگریس اور سماج وادی پارٹی کی جانب سے مشترکہ چیلنج کا سامنا ہونے کی توقع ہے۔ ایسے میں اپوزیشن ووٹوں کی تقسیم یا اتحاد انتخابی نتائج پر اہم اثر ڈال سکتا ہے۔
راجندر پال گوتم نے وقار کا کانگریس میں خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس تعلیم، روزگار، طلبہ، خواتین اور سماج کے محروم طبقات سے متعلق مسائل کو لے کر وسیع سیاسی جدوجہد کر رہی ہے۔
گوتم نے کہا کہ راہل گاندھی معاشرے کے ہر طبقے کی آواز مضبوطی سے اٹھا رہے ہیں اور مختلف محاذوں پر حکومت کو مسلسل متنبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی کانگریس میں شمولیت سے پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی کے ہاتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔
وقار کی کانگریس میں شمولیت سے اتر پردیش میں اے آئی ایم آئی ایم کی انتخابی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم طویل عرصے سے ریاست میں اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو بڑھانے اور خاص طور پر مسلم ووٹروں کے درمیان اپنی جگہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وقار کی سیاسی وفاداری کی تبدیلی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اتر پردیش میں اپوزیشن جماعتیں بی جے پی کے خلاف مؤثر سیاسی صف بندی کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایسے میں ان کا کانگریس میں شامل ہونا اپوزیشن کے اندر ووٹوں کے ممکنہ نئے توازن کے حوالے سے بحث کو مزید تیز کر سکتا ہے۔
اتر پردیش جیسے بڑے اور سیاسی طور پر اہم ریاست میں انتخابی مقابلہ اگر کثیرالجماعتی رہا تو چھوٹی جماعتوں اور علاقائی سیاسی قوتوں کا کردار بھی اہم ہو سکتا ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کی توسیعی حکمت عملی اور کانگریس و سماج وادی پارٹی کی ممکنہ انتخابی صف بندی اسی وسیع سیاسی مقابلے کا حصہ ہوگی۔
وقار کا کانگریس میں شامل ہونا اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ اتر پردیش میں اے آئی ایم آئی ایم کے نمایاں چہروں میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ ان کی شمولیت سے کانگریس کو ایک نمایاں مسلم سیاسی آواز کو اپنے ساتھ جوڑنے کا موقع ملا ہے، جبکہ اے آئی ایم آئی ایم کے لیے ریاست میں اپنی تنظیمی اور انتخابی توسیع کی حکمت عملی کے حوالے سے ایک نئی آزمائش پیدا ہوئی ہے۔
آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ وقار کی کانگریس میں شمولیت اتر پردیش میں اپوزیشن کی سیاست، مسلم ووٹروں کے رجحانات اور بی جے پی کے خلاف انتخابی صف بندی کو کس حد تک متاثر کرتی ہے۔
