Last Updated on March 3, 2026 7:44 pm by INDIAN AWAAZ

نئی دہلی، 3 مارچ 2026: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بورڈ نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے فوری مداخلت، جنگ بندی کے قیام اور خطے کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں سلطنتِ عمان کی ثالثی میں اہم سفارتی پیش رفت ہو رہی تھی۔ ان کے مطابق امریکہ کی جانب سے اچانک مذاکرات کا خاتمہ اور اس کے فوراً بعد اسرائیلی حملوں کا آغاز اس شبہے کو تقویت دیتا ہے کہ سفارتی عمل کو سنجیدہ کوشش کے بجائے ایک حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کیا گیا۔

ڈاکٹر الیاس نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی خودمختار ملک کی قیادت کو نشانہ بنانا اقوامِ متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ پوری مسلم اُمہ کے لیے ایک المیہ ہے۔

بیان میں خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ بورڈ کے مطابق اس تنازع نے عالمی طاقتوں کو دو واضح کیمپوں میں تقسیم کر دیا ہے، جہاں بعض یورپی ممالک امریکہ کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں جبکہ روس اور چین ایران کی حمایت کر رہے ہیں۔ بورڈ نے خبردار کیا کہ یہ کشیدگی مشرقِ وسطیٰ کو طویل عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر انسانی بحران اور شدید معاشی بدحالی جنم لے سکتی ہے۔

ڈاکٹر الیاس نے ہندوستان کی موجودہ سفارتی پالیسی پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا تاریخی طور پر متوازن اور باوقار کردار متاثر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر آیت اللہ خامنہ ای کے انتقال پر سرکاری سطح پر تعزیتی پیغام کے عدم اجرا کو ہندوستان کی سفارتی روایات سے انحراف قرار دیا۔

بیان میں اقوامِ متحدہ سے پرزور اپیل کی گئی کہ وہ رسمی بیانات سے آگے بڑھ کر فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرے، بصورتِ دیگر یہ آگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔