
کیونجھر (اڈیشہ)، نمائندہ:
یہ صرف ایک خبر نہیں، ایک آئینہ ہے—ایسا آئینہ جس میں ہماری انتظامی بے حسی، پیچیدہ قوانین اور انسانی وقار سے بے نیازی صاف نظر آتی ہے۔ ملک کی صدر کے آبائی ریاست اڈیشہ سے آنے والا یہ واقعہ ہمیں جھنجھوڑ دیتا ہے اور یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہمارے ادارے واقعی عوام کی خدمت کے لیے بنے ہیں یا انہیں تھکا دینے کے لیے؟
پیر کی دوپہر، اڈیشہ گرامیہ بینک کی مالی پاشی شاخ میں موجود عملہ اس وقت سکتے میں آ گیا جب 42 سالہ قبائلی شخص جیتو منڈا اپنی بہن کی ممی بنی ہوئی لاش کندھے پر اٹھائے بینک میں داخل ہوا—صرف اس لیے کہ وہ اس کے اکاؤنٹ سے رقم نکلوا سکے۔
جیتو کی بہن، کلا منڈا، جو غیر شادی شدہ تھیں، دو ماہ قبل 48 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔ گھر والوں نے ان کی تدفین اپنے گاؤں دیانالی میں کر دی تھی۔ لیکن ان کے اکاؤنٹ میں جمع تھوڑی سی رقم اب ایک ایسی دیوار کے پیچھے قید ہو گئی جسے عام آدمی کے لیے عبور کرنا تقریباً ناممکن ہے—کیونکہ اکاؤنٹ میں کوئی نامزد (nominee) درج نہیں تھا۔
ذرائع کے مطابق، جیتو تین بار بینک گیا۔ ہر بار وہ کاغذی کارروائی، ضابطوں اور رسمی تقاضوں کے الجھے ہوئے جال میں پھنس کر خالی ہاتھ لوٹ آیا۔ مبینہ طور پر ایک بینک اہلکار نے اس سے کہا کہ “اکاؤنٹ ہولڈر کو ساتھ لاؤ، تب ہی پیسے ملیں گے۔”
یہی جملہ اس کہانی کا سب سے بھیانک موڑ بن گیا۔
ایک ایسا شخص جو ادارہ جاتی زبان، قانونی پیچیدگیوں اور “پروسیجر” کے مفہوم سے ناواقف تھا—اس نے اس ہدایت کو لفظی طور پر لے لیا۔ وہ واپس اپنے گاؤں گیا، اپنی بہن کی قبر کھودی، لاش کو پلاسٹک میں لپیٹا اور اسے کندھے پر اٹھا کر دوبارہ بینک پہنچ گیا۔
جب بینک کے برآمدے میں لاش رکھی گئی تو عملے میں افرا تفری مچ گئی۔ شاخ کے منیجر نے فوراً پولیس کو اطلاع دی۔ مقامی تھانے کے انچارج کی قیادت میں پولیس ٹیم موقع پر پہنچی اور کافی سمجھانے بجھانے کے بعد جیتو کو قائل کیا گیا کہ وہ لاش کو واپس لے جائے—اس یقین دہانی کے ساتھ کہ ضروری دستاویزات تیار کر کے اسے رقم دلوا دی جائے گی۔
لیکن اصل سوال اب بھی باقی ہے—
کیا ایک شہری کو اپنے ہی پیسے تک رسائی کے لیے اپنی بہن کی قبر کھود کر اس کی لاش بینک تک لانی پڑے گی؟
یہ واقعہ صرف ایک المیہ نہیں، بلکہ ادارہ جاتی بے حسی کی انتہا ہے۔ ایک ایسا بینکاری نظام جو عوام کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا، وہی آج ایک سرد، بے رحم مشین میں بدل چکا ہے جہاں انسان صرف ایک “فائل” بن کر رہ جاتا ہے۔
قوانین ضروری ہیں، ضابطے اہم ہیں—لیکن جب یہ انسانیت کو روندنے لگیں تو وہ اپنی اصل روح کھو دیتے ہیں۔
یہ واقعہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں:
- کیا طریقہ کار اتنا پیچیدہ ہونا چاہیے کہ سوگوار خاندان مزید اذیت میں مبتلا ہو جائے؟
- کیا ایک عام شہری کے لیے اپنے ہی حق تک پہنچنا اتنا دشوار ہونا چاہیے؟
- کب ضابطہ پرستی، ادارہ جاتی ظلم میں بدل جاتی ہے؟
اصلاح کی فوری ضرورت
ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) اور تمام متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے پُرزور اپیل ہے کہ اس غیر انسانی اور پیچیدہ نظام کو فوری طور پر عوام دوست بنایا جائے۔
کسی اکاؤنٹ ہولڈر کی وفات کے بعد، اگر nominee موجود نہ ہو تو بھی قانونی وارثوں کو اپنے حق کے حصول کے لیے برسوں کی تذلیل، کاغذی اذیت اور لامتناہی چکروں سے نہ گزرنا پڑے۔
بینکوں کا طریقہ کار ایسا ہونا چاہیے جو غمزدہ خاندان کو سہارا دے، نہ کہ اسے شک، تاخیر اور سرخ فیتے کے دلدل میں دھکیل دے۔
ریگولیٹری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک واضح، سادہ، وقت کی پابند اور انسانی نظام کو یقینی بنائیں تاکہ عام شہری کو اپنے ہی پیسے کے لیے ذلیل نہ ہونا پڑے۔
خصوصاً تمام پبلک سیکٹر بینکوں کو یہ پابند کیا جائے کہ nominee کے بغیر اکاؤنٹس میں زیر التواء دعووں کا تصفیہ زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کے اندر لازمی طور پر مکمل کیا جائے۔
فائلوں کو برسوں تک دبائے رکھنا، وارثوں کو شاخ در شاخ بھٹکانا اور ان کے جائز حق کو لٹکائے رکھنا صرف انتظامی کوتاہی نہیں—بلکہ ادارہ جاتی استحصال ہے۔
بینکاری نظام کا مقصد عوام کی خدمت ہونا چاہیے—
نہ کہ ان کے صبر، حق اور وقار کا امتحان لینا۔
یہ کہانی بھلا دینے کے لیے نہیں ہے۔
یہ ایک انتباہ ہے—
اگر نظام نہیں بدلا، تو ایسی خبریں محض واقعات نہیں رہیں گی، بلکہ ہماری اجتماعی ناکامی کی مسلسل گواہی بن جائیں گی۔
