Last Updated on November 8, 2026 8:05 pm by INDIAN AWAAZ

AMN

دنیا بھر میں ایک چوتھائی نوعمر افراد یا 11 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 24 کروڑ لڑکے اور لڑکیاں گزشتہ ہفتے ایک روز بھی کم از کم 60 منٹ کی جسمانی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اپنے تازہ ترین جائزوں کی بنیاد پر بتایا ہے کہ نوعمر افراد ہفتے میں اوسطاً صرف 2.7 دن تک جسمانی طور پر متحرک رہتے ہیں جبکہ صرف 14 فیصد ایسے ہیں جو ہفتے کے ساتوں دن جسمانی سرگرمی کرتے ہیں۔

اس حوالے سے ادارے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ 15 برس کے دوران عالمی سطح پر اس صورتحال میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی اور نوجوانوں میں جسمانی سرگرمیوں کی شرح تقریباً برقرار ہے۔ 

جسمانی سرگرمی کی کمی دل کی بیماریوں، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور سرطان کی بعض اقسام کے خطرات میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔ ادارے نے زور دیا ہے کہ نوجوانوں میں ابتدائی عمر سے جسمانی سرگرمیوں کی عادت کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ نہ صرف ان کی صحت بہتر بنائی جا سکے بلکہ بیماریوں کا بڑھتا ہوا عالمی بوجھ بھی کم ہو سکے۔

ورزش کے لیے سازگار ماحول

‘ڈبلیو ایچ او’ کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں نوجوانوں کو جسمانی طور پر متحرک رکھنے اور ورزش کی ترغیب دینے میں تقریباً کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جبکہ لڑکیاں اس معاملے میں مزید پیچھے رہ گئی ہیں۔ اس مسئلے کا حل نوجوانوں سے صرف یہ کہنا نہیں کہ وہ زیادہ ورزش کریں بلکہ ایسے سکول، سڑکیں اور علاقے تشکیل دینا بھی ہے جہاں چلنا پھرنا، کھیلنا اور جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینا محفوظ، آسان اور روزمرہ زندگی کا فطری حصہ ہو۔

معروف طبی جریدے دی لینسیٹ گلوبل ہیلتھ میں شائع ہونے والی یہ نئی تحقیق 140 ممالک اور خطوں میں لیے گئے 389 جائزوں پر مبنی ہے جن میں 32 لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا۔

لڑکیوں کی جامد زندگی

تحقیق میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان جسمانی سرگرمیوں کے حوالے سے واضح فرق سامنے آیا ہے۔ جائزوں میں 28 فیصد لڑکیوں نے بتایا کہ وہ کسی بھی دن جسمانی سرگرمی میں حصہ نہیں لیتیں جبکہ لڑکوں میں یہ شرح 22 فیصد رہی۔

ہفتے کے ساتوں دن جسمانی طور پر متحرک رہنے والی لڑکیوں کی شرح صرف 11 فیصد ہے، جبکہ لڑکوں میں یہ تناسب 17 فیصد پایا گیا۔ تقریباً تمام ممالک اور ‘ڈبلیو ایچ او’ کے تمام خطوں میں لڑکیاں جسمانی سرگرمیوں کے معاملے میں لڑکوں سے پیچھے ہیں۔ ‘ڈبلیو ایچ او’ کے مطابق، اس صورتحال میں بہتری نہ آنے کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔ نوجوانوں کی جسمانی سرگرمیوں کا انحصار اس ماحول پر ہوتا ہے جہاں وہ رہتے، تعلیم حاصل کرتے، سفر کرتے اور فارغ وقت گزارتے ہیں۔

ان کے لیے جسمانی سرگرمیوں کے مواقع کئی عوامل سے متاثر ہوتے ہیں جن میں آمدورفت کے ذرائع، محفوظ عوامی مقامات تک رسائی، پیدل چلنے اور سائیکل چلانے کے لیے محفوظ راستوں کی دستیابی، سکولوں کا ماحول، اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت، سماجی روایات اور سکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنے جیسا طرز زندگی شامل ہیں۔

ادارے نے زور دیا ہے کہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے تعلیم، نقل و حرکت، شہری منصوبہ بندی، کھیلوں اور صحت کے شعبوں میں مربوط اور موثر اقدامات کیے جانا چاہئیں جبکہ لڑکیوں کے جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی راہ میں رکاوٹوں حائل کو بھی دور کرنے کی ضرورت ہے۔