Last Updated on October 27, 2026 12:01 am by INDIAN AWAAZ

آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کا فتح پور میں 163واں مفت یونانی طبی کیمپ منعقد

کانپور، 26 اکتوبر 2026: آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر سید احمد خاں نے کہا ہے کہ یونانی طبی کالجوں سے وابستہ تمام اسپتالوں کو نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار ہاسپٹلس اینڈ ہیلتھ کیئر پرووائیڈرس (این اے بی ایچ) کے معیار کے مطابق ترقی دی جانی چاہیے، تاکہ طبی خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور مریضوں کو معیاری علاج کی سہولت فراہم ہو۔

وہ اتر پردیش کے ضلع فتح پور کے کشمیری پور میں واقع غوثیہ یونانی طبی کالج اینڈ ہاسپٹل میں آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے 163ویں مفت یونانی طبی کیمپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس کیمپ کا اہتمام آل انڈیا یونانی طبی کانگریس، اتر پردیش نے ڈاکٹر محمد اسلم خاں علیگ کی نگرانی میں کیا۔

ڈاکٹر سید احمد خاں نے کہا کہ یونانی طبی کالجوں سے وابستہ اسپتالوں کو این اے بی ایچ کے معیار کے مطابق بنانے سے ان کے انتظامی امور اور طبی خدمات کے معیار میں بہتری آئے گی۔ اس سے او پی ڈی اور آئی پی ڈی کی سہولتوں کو بھی مستحکم کیا جا سکے گا، جس کا فائدہ عام لوگوں کو پہنچے گا۔

نجی یونانی طبی کالجوں کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے اداروں کو چلانے والے افراد قابل ستائش ہیں، کیونکہ ایک معیاری کالج کے قیام اور اسے بہتر طور پر چلانے کے لیے بڑی مالی سرمایہ کاری کے ساتھ انتظامی ذمہ داریاں بھی نبھانی پڑتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل کمیشن فار انڈین سسٹم آف میڈیسن (این سی آئی ایس ایم) کے ضوابط کے تحت نجی یونانی طبی کالجوں کو چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں ریاستی حکومتوں کو مہاراشٹر حکومت کے ماڈل کا جائزہ لے کر اسے اپنانے پر غور کرنا چاہیے۔

افتتاحی تقریب کی صدارت ڈاکٹر تقی الرحمٰن علیگ نے کی۔ انہوں نے طلبہ میں یونانی طریقۂ علاج کے تئیں دلچسپی پیدا کرنے میں اساتذہ کے کردار اور ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے معالجین کی تربیت کے لیے مناسب رہنمائی اور حوصلہ افزائی ضروری ہے۔

آل انڈیا یونانی طبی کانگریس، کانپور کے زونل صدر ڈاکٹر ذیشان احمد انصاری نے کہا کہ مفت طبی کیمپوں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ لوگوں تک براہ راست طبی سہولتیں پہنچائی جاتی ہیں اور یونانی طریقۂ علاج کے بارے میں بیداری پیدا ہوتی ہے۔

انہوں نے اس پہل کو قابل ستائش اور دوسروں کے لیے قابل تقلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے کو آگے بڑھانا تمام متعلقہ افراد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

آل انڈیا یونانی طبی کانگریس، اتر پردیش کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، اس کیمپ سے کشمیری پور اور آس پاس کے کئی گاؤں کے لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔ پریزیڈنٹ لیبارٹریز، دہلی اور اسکائی ہربل فارمیسی پرائیویٹ لمیٹڈ، نئی دہلی کی جانب سے مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی گئیں۔

کیمپ کے انعقاد اور اسے کامیاب بنانے میں ڈاکٹر بلند اقبال نیازی، حکیم محمد مرتضیٰ دہلوی، حکیم ذوالقرنین قاسمی الہ آبادی، ڈاکٹر حنیف مرادآبادی، اسرار احمد اجینی اور محمد عمران قنوجی سمیت غوثیہ یونانی طبی کالج کے عملے نے اہم کردار ادا کیا۔

کالج کے چیئرمین محمد جاوید نے تمام مہمانوں، معالجین، رضاکاروں اور عملے کا شکریہ ادا کیا۔

یہ کیمپ آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کی جانب سے ضرورت مند طبقوں تک مفت طبی سہولتیں پہنچانے اور یونانی طریقۂ علاج کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔