
حسام صدیقی
نئی دہلی!مغربی بنگال میں پندرہ برس تک حکمرانی کرنے والی ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کو بی جے پی کے اشارے پر دن دہاڑے لوٹا گیا ہے۔ پہلے ممتا کے اسی(۸۰)میں سےساٹھ(۶۰)ممبران اسمبلی کو توڑ کر الگ گروپ بنا دیا گیا، پھر ان کے اٹھائیس(۲۸)میں سے بیس(۲۰)لوک سبھا ممبران کوتوڑنے کا دعویٰ کیا جانے لگا، حالانکہ خبر لکھے جانے تک ٹوٹنے والے بیس(۲۰)لوک سبھا ممبران کی فہرست جاری نہیں ہوئی تھی۔ ٹی ایم سی کے لوک سبھا ممبران کو تڑوانے کے لیے بی جے پی اتنی بے تاب دکھائی کہ اتوار کو چھٹی کے دن اسپیکر اوم برلا نے اپنا دفتر کھلوا کر ان دغا باز لوک سبھا ممبران سے ملاقات کی اور ایک انتہائی شرمناک تصویر بھی ان کے ساتھ کھنچوا کر میڈیا کو جاری کی۔ شرمناک اس لیے کہ پچھلے دنوں جب لوک سبھا میں اسپیکر کے خلاف نو کانفیڈنس موشن آیا تھا، تب ان میں سے بیشتر نے اوم برلا پر کئی سنگین الزامات لگائے تھے۔ پی ایم مودی، ہوم منسٹر امت شاہ اور ان کی پارٹی کا کھیل یہ ہے کہ اگر ٹی ایم سی کے انیس(۱۹)یا بیس(۲۰)لوک سبھا ممبران کو الگ ہونے کی اجازت مل گئی، تو ایوان میں بی جے پی کی طاقت بڑھ جائے گی۔ کیونکہ دغا باز گروہ کی قیادت کرنے والی کاکولی گھوش دستیدار اعلان کر چکی ہیں کہ یہ گروپ بی جے پی ہی کی حمایت کرے گا۔ دغا بازوں کو دل بدل قانون سے بچانے کے لیے انہیں تریپورہ کی ایک معمولی پارٹی نیشنل سٹیزن پارٹی میں ضم کرانے کا اعلان کر دیا گیا ۔ اس پارٹی کا کہیں کوئی گاؤں پردھان تک نہیں ہے،تریپورہ اسمبلی کے انتخابات میں اس کے امیدواروں کو کل ۱۱۹۸ ووٹ ملے تھے۔ اب امت شاہ کا خواب بھی ٹوٹتا دکھ رہا ہے کیونکہ اسپیکر کے ساتھ میٹنگ ہو یا اس سے پہلے دھرمیندر پردھان کے گھر پر میٹنگ، کہیں بھی دغا بازوں کی تعداد سولہ(۱۶)سترہ(۱۷)سے زیادہ نہیں ملی، جبکہ ٹوٹنے کے لیے کم از کم انیس(۱۹)چاہیے ۔
پی ایم مودی، امت شاہ سبھی سولہ(۱۶)سترہ(۱۷)دغا باز لوک سبھا ممبران کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر قانون کے مطابق فیصلہ ہوا، تو ان سب کی ممبرشپ جا سکتی ہے، کیونکہ جس نیشنل سٹیزن پارٹی میں ممتا کے دغا بازوں نے خود کو ضم کرنے کی بات کہی ہے، قانوناً وہ بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ کسی بھی پارٹی سے ٹوٹا ہوا گروہ کسی پارٹی میں تبھی ضم ہوسکتا ہے جب لوک سبھا میں اس کے کم سے کم ایک یا اس سےزیادہ ممبران ہوں، یعنی اس پارٹی کا وجود لوک سبھا میں لازمی طور پر ہونا ضروری ہے۔ جبکہنیشنل سٹیزن پارٹی کا ایک بھی ممبر پارلیمنٹ یا کسی اسمبلی میں نہیں ہے۔ خبر یہ ہے کہ مودی اب ٹی ایم سی کے دغا باز لوک سبھا ممبران کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ طے یہ ہوا ہے کہ اسپیکر اوم برلا موجودہ لوک سبھا کے باقی تین سال کا دورانیہ مکمل ہونے تک کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔ سپریم کورٹ بھی مودی حکومت کے خلاف نہیں جائے گا۔
ترنمول کانگریس کی لوٹ میں یہ بھی ثابت ہو گیا کہ کیرتی آزاد، جو آزادی کی جنگ کے سپاہی اور بہار کے چیف منسٹر رہ چکے بھگوت جھا آزاد کے بیٹے ہیں اور مکمل طور پر اپنے والد اور خاندان کے اصولوں کے مطابق ہی وہ عوامی زندگی میں بھی اپنے خاندانی اصولوں پر ہی چلتے ہیں،ان پر بی جے پی کی جانب سے نہ صرف دباؤ تھا اور بڑی رقم کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔ وہ نہیں بکے اور صاف کہہ دیا کہ ممتا بنرجی نے سخت اور آزمائش کے دنوں میں ان کا ساتھ دیا، انہیں اپنی پارٹی سے لوک سبھا پہنچایا، اور میں کسی بھی قیمت پر ممتا سے دغا بازی نہیں کر سکتا۔ میں غدار نہیں ہوں۔ کیرتی آزاد بتاتے ہیں کہ ٹی ایم سی ممبران میں کچھ کو پانچ-پانچ کروڑتو کچھ بے وقوفوں کو پچاس لاکھ میںہی توڑا گیا، اور کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے دس لاکھ روپئے ماہانہ میں ہی بی جے پی کی غلامی کر لی۔ وہ کہتے ہیں کہ بنگال میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد اپوزیشن کے ٹی ایم سی کے لوگوں کے ساتھ خطرناک مجرموں جیسی حرکتیں پولیس کے ذریعے کرائی جا رہی ہیں، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک لوک سبھا ایم پی متالی باگ کا تو گھر ہی بلڈوز کر دیا گیا، ان کی بوڑھی خالہ کو بال پکڑ کر زمین پر گھسیٹا گیا، اور وہ خوفزدہ ہو کر چلی گئیں۔
بنگال حکومت اپنا کام کرنے کے بجائے صرف اور صرف ترنمول کانگریس کے رہنماؤں اورکارکنوں کو پریشان کرنے کا کام کر رہی ہے۔ پارٹی لیڈر ممتا بنرجی جب دہلی میں تھیں، تب سی آئی ڈی ان کے گھر میں گھس گئی۔ پارٹی جنرل سیکرٹری ابھیشیک بنرجی کے گھر پر پولیس نے رات دو بجے داخل ہونے کا کام کیا۔ پولیس روزانہ ٹی ایم سی کے رہنماؤں کو گرفتار کرتی ہے، انہیں طرح طرح کی اذیتیں دیتی ہے۔ انہیں نیکر اور بنیان میں کمر میں رسّی باندھ کر سڑکوں پر گھمایا جاتا ہے۔ پولیس دوسرا کام یہ کرتی ہے کہ جب بھی کسی ٹی ایم سی رہنما کو پکڑ کر تھانے لایا جاتا ہے، بی جے پی کے لوگوں کو خبر دے کر ان کو تھانے کے باہر اکٹھا کیا جاتا ہے، اور انہیں ٹماٹر، انڈے اور پتھر دیے جاتے ہیں، جیسےہی عدالت لے جانے کے نام پر پولیس انہیں باہر نکالتی ہے۔ باہر کھڑی بی جے پی کی بھیڑ ان پر انڈے، ٹماٹر اور پتھر مارتی ہے، اور ’چور-چور‘ کےنعرے لگاتی ہے۔ یہ ساری حرکتیں بی جے پی کے لوگ ہی کرتے ہیں، مگر حکومت کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ عوام کے غصے کا شکار ہو رہے ہیں۔
کیرتی آزاد اور دیگر کئی ٹی ایم سی رہنماؤں کا خیال ہے کہ جو بھی سولہ(۱۶)سترہ(۱۷)لوک سبھا ایم پی ممتا بنرجی سے دغا بازی کرکے مودی اور امت شاہ کے قدموں میں گرنے جا رہے ہیں، ان کی بنگال میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہ سب مودی، امت شاہ، ای ڈی اور سی بی آئی کے خوف سے ہی مودی دربار میں داخل ہوئے ہیں۔ اس سے توایسا لگتا ہے کہ یہ سب بدعنوان ہیں، اور انہیں خوف ہے کہ ان کی بدعنوانیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں ہو سکتی ہیں۔ دغا باز ممبران اسمبلی ہوں یا ممبران پارلیمنٹ سبھی پندرہ برس تک ترنمول حکومت کے دوران ممتا بنرجی کو اندھیرے میں رکھ کر ہر قسم کی بے ایمانی کی اور خوب پیسہ کمایاہے۔ ان سب سے ہمت والی اور اصول پرست، تو دغا باز لوک سبھا ایم پی سدیپ بندھواپادھیائے کی بیوی نینا بندھوپادھیائے نکلیں،وہ اسمبلی ممبر ہیں، اور ممتا کے ہی ساتھ ہیں،انہوں نے کہا کہ ’ممتا دی کے نام پرسدیپ لوک سبھا ممبر اور میں اسمبلی ممبر بنی ، ممتاکے بغیر ہمارا کوئی وجود نہیں ہے۔ میرا شوہر نافرمان ہے، میں دیدی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا نے والی ہوں۔ شوہر اورلیڈردونوں میں سے کسی ایک کو چننا تھا، میں نے لیڈر(ممتا)کو چن لیا، میرا شوہر چنے جانے کے لائق نہیں ہے اور ممتا دیدی کے بغیر ہمارا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔
سب سے زیادہ حیرت بہرام پور سے یوسف پٹھان، جنگی پور کے خلیل الرحمان اور مرشدآباد سے ابو طاہر خان جیسے مسلم اور جادوا پور سے سیونی گھوش کی دغا بازی پر ہے۔ ان سب کو معلوم ہے کہ سیونی گھوش کے علاوہ باقی کسی کی بھی بی جے پی میں کتے کے برابر بھی حیثیت نہیں ہے، پھر بھی ممتا سے دغا بازی کرگئے ہیں، ظاہر ہےبے ایمان ہوں گے۔تبھی خوف میں بھاگے ہیں یہ مسلمانوں جیسے کردار کے لوگ تو ہرگز نہیں ہیں۔سیونی گھوش بھی صرف اور صرف ممتا بنرجی کی مہربانیوں کی دین ہیں، ورنہ وہ’سی‘ گریڈ فلموں میں کام کر رہی ہوتیں۔ دہلی کے سیاسی حلقوں میں چرچابہت گرم ہے کہ ۲۰۲۴میں کنگنا رناوت نے اسمرتی ایرانی کی جگہ چھینی تھی اور اب مودی دربار میں وہ جگہ اور درجہ کنگنا کو ہٹا کر سیونی گھوش کو ملنے والاہے۔ ایک ایم پی ہگلی سے ہیں رچنا بنرجی، جنہوں نے چند دن قبل خود کہا تھا کہ ’دیدی کو دیکھ کرانہی کے نام پر ہگلی کے لوگوں نے مجھے ووٹ دےکر لوک سبھا پہنچایا تھا،ہم ان سے بغاوت کیسے کر سکتے ہیں۔وہ کہیں گئی نہیں لیکن کاکولی گھوش نے دغا بازوں کی فہرست میں انیسویں(۱۹)نمبر پراپنا بھی نام لکھ دیا
