عندلیب اختر، نئی دہلی

ہندوستانی سیاست میں کسی بھی جماعت کو قومی سطح پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے برسوں کی جدوجہد، مضبوط تنظیمی ڈھانچے اور عوامی حمایت درکار ہوتی ہے۔ لیکن نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا⁦(⁩این سی پی آئی⁦)⁩کا معاملہ روایتی سیاسی اصولوں سے بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے۔

ایک ایسی جماعت جسے اپنے واحد انتخابی معرکے میں محض⁦822⁩ووٹ ملے تھے اور جس کے چندے کی مجموعی رقم صرف⁦1.13⁩لاکھ روپے تھی، اب لوک سبھا کی پانچویں سب سے بڑی جماعت بننے کے دہانے پر کھڑی ہے۔ اگر ترنمول کانگریس⁦(⁩ٹی ایم سی⁦)⁩کے تقریباً⁦20⁩باغی ارکانِ پارلیمنٹ کے این سی پی آئی میں انضمام کو اسپیکر کی منظوری مل جاتی ہے تو یہ ہندوستانی سیاست کے حالیہ دور کا سب سے غیرمعمولی واقعہ ثابت ہو سکتا ہے۔اس پیش رفت نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور ساتھ ہی بی جے پی کے ممکنہ کردار، انسدادِ انحراف قانون اور جمہوری روایات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

معمولی سیاسی وجود سے قومی شہرت تک

این سی پی آئی کو جنوری⁦2023⁩میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایک⁦”⁩رجسٹرڈ لیکن غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعت⁦”⁩کے طور پر رجسٹر کیا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مغربی بنگال میں رجسٹر ہونے کے باوجود پارٹی نے اپنا پہلا انتخابی امتحان⁦2023⁩کے تریپورہ اسمبلی انتخابات میں دیا۔ سات امیدوار میدان میں اتارنے کی کوشش کی گئی لیکن چار کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہو گئے۔

بالآخر دو امیدواروں نے انتخاب لڑا جن میں سے ایک کو⁦536⁩اور دوسرے کو⁦286⁩ووٹ حاصل ہوئے۔ یوں پارٹی کے حصے میں مجموعی طور پر صرف⁦822⁩ووٹ آئے۔ ایک آزاد امیدوار، جسے پارٹی سے قریبی وابستگی رکھنے والا قرار دیا جاتا ہے، کو شامل کر لیا جائے تو بھی مجموعی ووٹ⁦1,198⁩سے زیادہ نہیں بنتے۔پارٹی کوئی نشست جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی حلقے میں قابلِ ذکر سیاسی اثر پیدا کر سکی۔

مالی اعتبار سے بھی این سی پی آئی انتہائی محدود وسائل کی حامل رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق پارٹی کو صرف تقریباً⁦1.13⁩لاکھ روپے چندے کی صورت میں موصول ہوئے۔اس کے باوجود اگر مجوزہ انضمام منظور ہو جاتا ہے تو یہ جماعت بغیر کسی لوک سبھا نشست جیتے یکدم⁦20⁩ارکانِ پارلیمنٹ کی حامل سیاسی قوت بن جائے گی۔

پارلیمانی سیاست کا بدلتا ہوا حساب

اس انضمام کے اثرات صرف ایک جماعت تک محدود نہیں رہیں گے۔⁦20⁩ارکان کے ساتھ این سی پی آئی لوک سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی⁦(⁩بی جے پی⁦)⁩، کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے کے بعد پانچویں بڑی جماعت بن جائے گی۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ یہ این ڈی اے اتحاد کے اندر بھی ایک اہم شراکت دار کے طور پر ابھر سکتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ہندوستانی پارلیمانی تاریخ میں ایسے واقعات شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں ایک جماعت عوامی حمایت کے بجائے سیاسی انضمام کے ذریعے اچانک قومی سطح کی طاقت بن جائے۔یہ صورتحال وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کو پارلیمنٹ میں اضافی عددی طاقت فراہم

کر سکتی ہے، جس سے اہم قانون سازی کے عمل میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔

شوہر اور بیوی کی جوڑی مرکزِ نگاہ

این سی پی آئی کی قیادت اُتّیا کنڈو اور ان کی اہلیہ شویلی کنڈو کے ہاتھوں میں ہے۔اُتّیا کنڈو پارٹی کے صدر جبکہ شویلی کنڈو خزانچی ہیں۔ پارٹی کے تنظیمی معاملات میں اس جوڑے کا کردار انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

تاہم تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پارٹی کے بانی شانتنو دے نے دعویٰ کیا کہ انہیں مجوزہ انضمام کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی قیادت نے تنظیم کے دیگر ذمہ داران سے مشاورت کیے بغیر فیصلہ کیا اور کئی سینئر اراکین بھی اس معاملے سے لاعلم تھے۔شانتنو دے کے بیان نے پارٹی کے اندر جمہوری طریقۂ کار اور فیصلہ سازی کے عمل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

انسدادِ انحراف قانون پر بحث

سیاسی تنازع کے ساتھ ساتھ اس معاملے نے آئینی اور قانونی ماہرین کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ہندوستان کے انسدادِ انحراف قانون کے تحت جماعتی انضمام اور ارکانِ پارلیمنٹ کی اجتماعی علیحدگی کے لیے مخصوص شرائط موجود ہیں۔

قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاملے میں اسپیکر کا فیصلہ انتہائی اہم ہوگا۔ یہ دیکھا جائے گا کہ باغی ٹی ایم سی ارکان آئینی تحفظ کے مستحق ہیں یا نہیں۔اگر انضمام منظور ہو جاتا ہے تو یہ مستقبل میں ایسے سیاسی معاملات کے لیے ایک اہم نظیر بھی بن سکتا ہے۔

بی جے پی کے کردار پر سیاسی ہنگامہ

اس پورے معاملے کا سب سے متنازع پہلو بی جے پی کے ممکنہ کردار سے متعلق ہے۔سیاسی حلقوں میں اس وقت قیاس آرائیاں بڑھ گئیں جب اطلاعات سامنے آئیں کہ کئی باغی ٹی ایم سی ارکان نے مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کی رہائش گاہ پر ملاقاتیں کی تھیں۔

ان ملاقاتوں میں بی جے پی کے بعض سینئر رہنماؤں کی موجودگی کی خبروں نے اپوزیشن کے شکوک کو مزید تقویت دی۔

کانگریس نے اس معاملے پر سب سے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ٹی ایم سی میں بغاوت کو منظم کرنے میں کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چند سو ووٹ حاصل کرنے والی جماعت کا اچانک این ڈی اے کی بڑی اتحادی جماعت بن جانا جمہوری اقدار پر سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے سیاسی حربے عوامی مینڈیٹ کی روح کے منافی ہیں۔تاہم بی جے پی نے ان تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔پارٹی کا مؤقف ہے کہ ٹی ایم سی کے اندرونی اختلافات اس کی اپنی سیاسی کمزوریوں کا نتیجہ ہیں اور بی جے پی کا ان واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔

ہندوستانی جمہوریت کے لیے ایک اہم امتحان

این سی پی آئی کا غیرمعمولی عروج ہندوستانی سیاست کے حالیہ برسوں کے سب سے دلچسپ اور متنازع واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔حامیوں کے نزدیک یہ منتخب نمائندوں کی سیاسی آزادی اور نئے اتحاد سازی کا معاملہ ہے، جبکہ ناقدین اسے جمہوری مینڈیٹ اور سیاسی اخلاقیات کے لیے ایک چیلنج قرار دے رہے ہیں۔اب تمام نظریں لوک سبھا اسپیکر کے فیصلے پر مرکوز ہیں۔ اگر انضمام کو منظوری مل جاتی ہے تو صرف⁦822⁩ووٹ حاصل کرنے والی ایک غیر معروف جماعت کا⁦20⁩ارکانِ پارلیمنٹ پر مشتمل طاقتور سیاسی قوت میں تبدیل ہونا ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ کے حیران کن ابواب میں شامل ہو جائے گا۔