– شوبھا شکلا (CNS)

ایک سڑک حادثہ صرف ایک خاندان کی زندگی نہیں بدلتا، بعض اوقات وہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ پنجاب میں⁦25⁩نومبر⁦2001⁩کو پیش آنے والا ایسا ہی ایک حادثہ تھا، جس میں تین بچوں کی ماں اور گھریلو خاتون ریشما اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ اتفاق سے⁦25⁩نومبر دنیا بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔

ریشما کی وفات کے بعد ان کے شوہر اور بچوں نے موٹر ایکسیڈنٹ کلیمز ٹریبونل⁦(MACT)⁩میں معاوضے کا دعویٰ دائر کیا۔ دسمبر⁦2003⁩میں ٹریبونل نے صرف 2.42 لاکھ روپے بطور معاوضہ مقرر کیے۔ خاندان نے اس رقم کو ناکافی قرار دیتے ہوئے⁦2004⁩میں ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

تقریباً بیس برس بعد، دسمبر⁦2024⁩میں ہائی کورٹ نے معاوضہ بڑھا کر 8.43 لاکھ روپے کر دیا اور تاخیر کی صورت میں سود کی شرح بڑھانے کی ہدایت بھی دی۔ لیکن اہلِ خانہ مطمئن نہیں ہوئے۔ ان کا مؤقف تھا کہ عدالتوں نے ریشما کی گھریلو ذمہ داریوں اور نگہداشت کے کردار کی حقیقی معاشی قدر کو نظر انداز کیا۔

بالآخر معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔

11 جون⁦2026⁩کو سنائے گئے تاریخی فیصلے میں سپریم کورٹ نے معاوضے کی رقم بڑھا کر 62.77 لاکھ روپے مقرر کر دی، جو متعلقہ انشورنس کمپنی کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔

لیکن اس فیصلے کی اہمیت صرف معاوضہ بڑھانے میں نہیں تھی بلکہ اس نے ایک ایسے سماجی اور معاشی سچ کو تسلیم کیا جسے برسوں سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔

گھریلو اور نگہداشت کا غیر معاوضہ کام بھی معاشی قدر رکھتا ہے

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ عورت کی جانب سے گھر اور خاندان کے لیے انجام دیا جانے والا بغیر اجرت گھریلو اور نگہداشت کا کام ایک مستقل معاشی نقصان کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے کہا کہ اگر کوئی خاتون صرف گھریلو ذمہ داریاں ادا کرتی ہو تو اس کے کام کی کم از کم معاشی قدر 30 ہزار روپے ماہانہ تصور کی جائے گی۔ اگر وہ ملازمت بھی کرتی ہو تو گھریلو نگہداشت کے کام کی قیمت اس کی آمدنی کے علاوہ شمار کی جائے گی۔

یہ فیصلہ صرف قانونی نہیں بلکہ سماجی اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔اپنے⁦36⁩صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے گھریلو خواتین کو “قوم کی معمار” قرار دیا اور کہا کہ ان کی خدمات کو اسی حیثیت سے تسلیم کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے ایک نہایت معنی خیز تبصرہ کرتے ہوئے کہا:

“یہ کہنا ستم ظریفی ہے کہ گھریلو خاتون گھر کے کمانے والے افراد پر منحصر ہوتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پورا گھر اسی پر منحصر ہوتا ہے۔”

یہ صرف عدالتی رائے نہیں بلکہ اس سماجی سوچ کو چیلنج ہے جس نے عورت کے کام کو صدیوں تک فرض سمجھ کر اس کی قدر متعین کرنے سے انکار کیا۔

24 سال بعد انصاف — کیا یہ بھی ناانصافی نہیں؟

اس فیصلے کا دوسرا اہم پہلو انصاف میں غیر معمولی تاخیر پر عدالت کی تشویش تھی۔ریشما کے خاندان کو آخری فیصلہ حاصل کرنے میں 24 برس لگ گئے۔

سپریم کورٹ نے اپنے جائزے میں پایا کہ موٹر حادثات کے مقدمات اوسطاً چھ سال ٹریبونلز میں اور تقریباً آٹھ سال ہائی کورٹس میں زیر التوا رہتے ہیں۔

عدالت نے کہا: “کسی عزیز کے نقصان کا مکمل ازالہ ممکن نہیں، لیکن منصفانہ معاوضہ متاثرہ خاندان کو کسی حد تک سہارا دے سکتا ہے۔ جب اس میں بیس سال سے زیادہ لگ جائیں تو دکھ مزید بڑھ جاتا ہے۔”

یہ تبصرہ ہمارے عدالتی نظام کے سامنے ایک سنجیدہ سوال بھی کھڑا کرتا ہے⁦:⁩کیا تاخیر سے ملنے والا انصاف واقعی انصاف کہلا سکتا ہے؟

کیا عورت کی قدر جاننے کے لیے اس کا مر جانا ضروری ہے؟

ریشما کے معاملے میں عدالت نے ان کے غیر مرئی کام کو تسلیم کیا، لیکن ایک سوال آج بھی باقی ہے—

کیا عورت کی اہمیت کا احساس صرف اس کی غیر موجودگی میں ہوگا؟

گھر سنبھالنا، بچوں کی پرورش، بزرگوں کی دیکھ بھال، خاندان کو جذباتی استحکام دینا—یہ سب کام معاشرے اور معیشت کی بنیاد ہیں، مگر انہیں اکثر “کام” ہی نہیں سمجھا جاتا۔یہ عدم مساوات فطری نہیں بلکہ ایک ایسے سماجی ڈھانچے کا نتیجہ ہے جس نے مردانہ برتری کو معمول اور عورت کی محنت کو غیر مرئی بنا دیا۔

عورتوں کو بچپن سے سمجھوتہ کرنا، کم توقع رکھنا اور اپنی خدمات کو فرض سمجھنا سکھایا جاتا ہے۔ لیکن تبدیلی وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں سوال اٹھنا شروع ہوتے ہیں۔سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے ذریعے ایک اہم مکالمے کا آغاز کر دیا ہے۔

لیکن حقیقی تبدیلی تب آئے گی جب عورتوں کو ان کی زندگی میں ہی عزت، شناخت اور ان کے کام کا حق ملے—نہ کہ ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد۔

ہمارے ہاں ایک کہاوت ہے:“جیتے جی قدر نہ کرنا اور مرنے کے بعد تعریفوں کے پل باندھ دینا، انصاف نہیں۔”عورتوں اور لڑکیوں کو ان کی مسلسل اور خاموش محنت کا پھل ان کی زندگی میں ملنا چاہیے۔ شاید ریشما کا مقدمہ اسی تبدیلی کی ابتدا ہے۔