Last Updated on March 1, 2026 1:54 am by INDIAN AWAAZ
AMN
ہفتے کے روز ایران کے مختلف شہروں پر ہونے والے امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں جنوبی ایرانی شہر میناب کے ایک فعال گرلز ایلیمنٹری اسکول کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 85 طالبات جاں بحق اور 95 زخمی ہو گئیں۔ صوبہ ہرمزگان کے حکام کے مطابق حملہ اُس وقت ہوا جب اسکول میں تدریسی عمل جاری تھا۔ مقامی صحافیوں کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں ملبے کے نیچے بچیوں کے اعضا بکھرے دکھائی دیے، جس نے پورے ملک کو صدمے میں مبتلا کر دیا۔
ایرانی صدر Masoud Pezeshkian نے اس واقعے کو “دل دہلا دینے والا سانحہ” قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر خارجہ Seyyed Abbas Araghchi نے خبردار کیا کہ یہ حملہ “بے جواب نہیں رہے گا”۔ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اسے “جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم” قرار دیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا کہ قومی سلامتی اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق شہری تنصیبات، خصوصاً اسکولوں پر دانستہ حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور سنگین جنگی جرم ہے۔
