Last Updated on February 24, 2026 5:09 pm by INDIAN AWAAZ


AMN / NEW DELHI

نئی دہلی: اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے سرگرم معروف تنظیم ’اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن‘ نے قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (NCPUL) کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کے صدر ڈاکٹر سید احمد خان نے ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کونسل کی مسلسل عدم توجہی کے باعث اردو کے اہم تعلیمی اور ادبی منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔

اہم نکات اور مطالبات:

  • دو سال سے میٹنگ کا نہ ہونا: ڈاکٹر سید احمد خان نے انکشاف کیا کہ پی ایم او (PMO) سے جواب موصول ہونے کے باوجود، گزشتہ دو برسوں سے کونسل کی کوئی باقاعدہ میٹنگ منعقد نہیں کی گئی، جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔
  • اسکیموں پر جمود: مالی امداد، کتابوں کی اشاعت اور تربیتی پروگراموں جیسی اہم اسکیمیں ادارے کے غیر فعال ہونے کی وجہ سے رکی ہوئی ہیں۔
  • مالیاتی کمیٹی کی تشکیل: مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر فنانس کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ زیرِ التوا تجاویز کو منظوری مل سکے۔

“اردو زبان کی ترقی کے لیے بنائی گئی اسکیمیں کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ جب تک ادارہ عملی طور پر سرگرم نہیں ہوگا، اردو برادری کی بے چینی ختم نہیں ہوگی۔” — ڈاکٹر سید احمد خان

وزارتِ تعلیم سے مداخلت کی اپیل

اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے حکومتِ ہند اور متعلقہ وزارت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کریں۔ تنظیم کا موقف ہے کہ این سی پی یو ایل جیسے کلیدی ادارے کا غیر فعال رہنا اردو زبان کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے، لہٰذا ہنگامی بنیادوں پر میٹنگ طلب کر کے تمام رکے ہوئے کاموں کو آگے بڑھایا جائے۔