Last Updated on February 22, 2026 12:24 am by INDIAN AWAAZ

AMN
آج کی دنیا تیزی سے ڈیجیٹل انقلاب کی جانب بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیٹا سائنس اور آن لائن تعلیم نے زندگی کے ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ مگر اس چمکتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا میں ایک تلخ حقیقت بھی موجود ہے—صنفی عدم مساوات۔ اگر لڑکیوں کو ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی نہ دی گئی تو ترقی کا یہ سفر ادھورا رہ جائے گا۔
ہنگامی حالات اور طویل بحرانوں میں تعلیم کی فراہمی کے لیے قائم اقوام متحدہ کے عالمی فنڈ Education Cannot Wait کی ڈائریکٹر یاسمین شریف نے اسی نکتے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی شعبے میں مزید سرمایہ کاری کے بغیر ڈیجیٹل خلیج کو پُر کرنا ممکن نہیں۔ اطلاعاتی و رابطے کی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے شعبے میں لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خواتین اور لڑکیوں کی کئی نسلیں ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے رہ جائیں گی۔
ڈیجیٹل تفریق: ایک خاموش بحران
اقوام متحدہ کے تعلیمی ادارے UNESCO کے مطابق دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد تقریباً 24 کروڑ کم ہے۔ یہ فرق صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ مواقع کی کمی، خوابوں کی شکست اور صلاحیتوں کے ضیاع کی علامت ہے۔
براعظم افریقہ اور خاص طور پر ذیلی صحارا خطے میں صورتحال زیادہ تشویشناک ہے۔ سماجی پابندیاں، معاشی کمزوری، اور نقل و حرکت کی رکاوٹیں لڑکیوں کو ڈیجیٹل تعلیم سے دور رکھتی ہیں۔ UNICEF کی رپورٹ کے مطابق اس خطے میں 90 فیصد نو عمر لڑکیاں اور نوجوان خواتین انٹرنیٹ سے محروم ہیں۔ یعنی ہر دس میں سے نو لڑکیاں اس وسیع آن لائن دنیا تک رسائی نہیں رکھتیں جہاں علم، روزگار اور اختراع کے بے شمار دروازے کھلے ہیں۔
بحران زدہ علاقوں میں دوہرا نقصان
مسلح تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور جبری نقل مکانی کے شکار علاقوں میں لڑکیوں کی حالت مزید ابتر ہو جاتی ہے۔ جب اسکول تباہ ہو جاتے ہیں یا خاندان بے گھر ہو جاتے ہیں تو سب سے پہلے لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ ڈیجیٹل سہولیات کی کمی انہیں مزید پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ ایسے میں اگر انہیں آن لائن تعلیم، کمپیوٹر لیب اور سستی انٹرنیٹ سہولت میسر ہو تو وہ نہ صرف اپنی تعلیم جاری رکھ سکتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر مسابقت بھی کر سکتی ہیں۔
سٹیم تعلیم: تبدیلی کی کنجی
ماہرین کا کہنا ہے کہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) میں لڑکیوں کی شمولیت بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر انہیں ابتدائی سطح سے ہی کوڈنگ، روبوٹکس اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے تو وہ نہ صرف روزگار حاصل کر سکتی ہیں بلکہ نئی ایجادات کی خالق بھی بن سکتی ہیں۔
یاسمین شریف نے افغان گرلز روبوٹکس ٹیم کی مثال پیش کی—وہ لڑکیاں جنہوں نے مشکلات کے باوجود روبوٹ تیار کیے، پروگرامنگ سیکھی اور عالمی مقابلوں میں شرکت کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ یہ ٹیم نہ صرف ٹیکنالوجی میں مہارت کی علامت بنی بلکہ اس بات کا ثبوت بھی کہ اگر مواقع ملیں تو لڑکیاں کسی سے کم نہیں۔
معاشی فوائد: مساوات کا مطلب ترقی
UNESCO کے مطابق اگر ٹیکنالوجی کے شعبے میں خواتین کی تعداد کو دوگنا کر دیا جائے تو 2027 تک عالمی جی ڈی پی میں 600 ارب یورو تک اضافہ ممکن ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صنفی مساوات صرف سماجی انصاف نہیں بلکہ معاشی ترقی کی بھی بنیاد ہے۔
ٹیکنالوجی کی صنعت میں خواتین کی شمولیت سے نہ صرف نئی منڈیاں پیدا ہوں گی بلکہ اختراعات کی رفتار بھی تیز ہوگی۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ متنوع ٹیمیں زیادہ تخلیقی اور مؤثر فیصلے کرتی ہیں۔ اس لیے خواتین کی شرکت عالمی مسابقت کے لیے ناگزیر ہے۔
کیا کرنا ہوگا؟
- دیہی اور پسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل آلات کی فراہمی۔
- لڑکیوں کے لیے اسکالرشپس اور سٹیم پروگرامز کا آغاز۔
- سماجی رویوں میں تبدیلی کے لیے آگاہی مہمات۔
- پالیسی سازی میں صنفی مساوات کو مرکزی حیثیت دینا۔
- نجی شعبے اور حکومتوں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینا۔
عزم کی تجدید
یہ دن صرف پیغام دینے کا نہیں بلکہ عہد کرنے کا ہے کہ تعلیم کی طاقت کو بروئے کار لا کر لڑکیوں کو وہ مہارتیں، وسائل اور اعتماد فراہم کیا جائے جو انہیں ڈیجیٹل انقلاب کا فعال حصہ بنا سکیں۔
ڈیجیٹل دنیا کا مستقبل اس وقت تک روشن نہیں ہو سکتا جب تک اس میں خواتین کی آواز، تخلیقی صلاحیت اور قیادت شامل نہ ہو۔ اگر ہم آج سرمایہ کاری کریں، رکاوٹیں دور کریں اور لڑکیوں کو مساوی مواقع دیں تو کل کی دنیا زیادہ منصفانہ، خوشحال اور ترقی یافتہ ہوگی۔
آخرکار، ڈیجیٹل مساوات صرف لڑکیوں کا مسئلہ نہیں—یہ پوری انسانیت کے مستقبل کا سوال ہے۔
