Last Updated on February 12, 2026 7:38 pm by INDIAN AWAAZ

بڑے ٹرن آؤٹ کے درمیان چھٹپٹ تشدد، قوم نتائج کی منتظر

ڈھاکہ سے ذاکر حسین | 12 فروری 2026:
بنگلہ دیش میں جمعرات کو 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں پہلی بار پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ آئینی اصلاحات سے متعلق ایک تاریخی قومی ریفرنڈم بھی منعقد کیا گیا۔ پورے دن پولنگ مراکز پر ووٹروں کی اچھی شرکت دیکھی گئی، سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان مجموعی طور پر پولنگ کا عمل پرامن رہا، تاہم چند مقامات پر چھٹپٹ تشدد کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

پولنگ کا آغاز صبح 7:30 بجے ملک بھر میں ایک ساتھ ہوا اور بغیر کسی رکاوٹ کے شام 4:30 بجے تک جاری رہا۔ جن ووٹروں کی موجودگی پولنگ کے مقررہ اختتامی وقت تک مراکز میں تھی، انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔ ووٹنگ مکمل ہونے کے فوراً بعد پولنگ مراکز پر ہی انتخابی عملے اور امیدواروں کے نمائندوں کی موجودگی میں ووٹوں کی گنتی شروع کر دی گئی، جبکہ ملک بھر میں نتائج کے انتظار کی فضا قائم ہے۔


55 تا 60 فیصد ووٹنگ کا امکان

الیکشن کمیشن (EC) کے مطابق دوپہر 2 بجے تک 47.91 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد و شمار ملک بھر کے مجموعی 42,651 پولنگ مراکز میں سے 36,031 مراکز سے موصولہ معلومات کی بنیاد پر جاری کیے گئے۔ الیکشن کمیشن کا اندازہ ہے کہ مجموعی ٹرن آؤٹ 55 سے 60 فیصد کے درمیان رہ سکتا ہے۔

یہ انتخابات جولائی 2024 کی عوامی تحریک کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عوامی لیگ حکومت کا خاتمہ ہوا اور شیخ حسینہ کے 15 برس سے زائد طویل دور حکومت کا اختتام ہوا تھا۔ آزادی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم بیک وقت منعقد کیے گئے۔


جشن جیسا ماحول، مگر چند پرتشدد واقعات بھی

شہری اور دیہی علاقوں میں ووٹروں کو دن بھر پولنگ مراکز کے باہر قطاروں میں کھڑا دیکھا گیا۔ دوپہر کے بعد ووٹنگ میں نمایاں اضافہ ہوا۔ انتخابی حکام نے بتایا کہ چند واقعات کے علاوہ پولنگ کا عمل مجموعی طور پر پرامن رہا اور کسی بھی پولنگ مرکز پر ووٹنگ معطل نہیں کرنی پڑی۔

تاہم، دو اضلاع میں گرینیڈ دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں جبکہ کئی سیاسی جماعتوں نے بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا۔ پولنگ کے دن مجموعی طور پر 6 اموات رپورٹ ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق پانچ افراد بیماری کے باعث جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک شخص کی موت جھڑپ اور دھکم پیل کے دوران ہوئی۔

براہمن باریا میں ایک پولنگ افسر ڈیوٹی کے دوران انتقال کر گیا، جبکہ مانک گنج اور چٹاگانگ میں دو ووٹر ووٹ ڈالنے کے لیے جاتے ہوئے بیمار پڑنے کے بعد فوت ہو گئے۔ ان واقعات کے باوجود الیکشن کمیشن نے کہا کہ “کوئی تشویشناک صورتحال پیدا نہیں ہوئی”۔


سیاسی مقابلہ: 50 جماعتیں، 2,028 امیدوار میدان میں

اس الیکشن میں 50 سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا اور مجموعی طور پر 2,028 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ 299 حلقوں میں ووٹنگ کا انعقاد ہونا تھا، تاہم شیرپور-3 میں امیدوار کی موت کے باعث ووٹنگ ملتوی کر دی گئی۔

عوامی لیگ نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا کیونکہ پارٹی کی سیاسی سرگرمیاں تاحال معطل ہیں۔ بنیادی مقابلہ بی این پی کی قیادت والے اتحاد اور جماعت اسلامی کی قیادت والے 11 جماعتی اتحاد کے درمیان تصور کیا جا رہا ہے۔

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش میں کل 12 کروڑ 77 لاکھ 11 ہزار 793 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جن میں 6.288 کروڑ خواتین، 6.483 کروڑ مرد اور 1,232 ٹرانسجینڈر ووٹرز شامل ہیں۔ 18 سے 37 سال کی عمر کے ووٹروں کی تعداد 5 کروڑ سے زائد بتائی گئی ہے۔


آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم بھی ساتھ

پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ووٹروں نے “جولائی چارٹر” کے تحت پیش کی گئی 48 آئینی اصلاحات پر بھی ووٹ ڈالا۔ اگر ریفرنڈم میں ‘ہاں’ کے حق میں اکثریت حاصل ہو گئی تو بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر آئینی تبدیلیاں نافذ ہو جائیں گی۔


پہلی بار آئی ٹی پر مبنی پوسٹل ووٹنگ نظام

اس بار پہلی مرتبہ بیرون ملک مقیم ووٹرز، ڈیوٹی پر موجود سرکاری ملازمین، اپنے حلقے سے باہر موجود شہریوں اور قیدیوں کے لیے آئی ٹی سپورٹڈ پوسٹل ووٹنگ سسٹم متعارف کرایا گیا۔ اس مقصد کے لیے “Postal Vote BD” موبائل ایپ کے ذریعے تقریباً 15.28 لاکھ ووٹروں نے رجسٹریشن کروائی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق دوپہر 2 بجے تک 5,43,751 بیرون ملک ووٹرز نے ووٹ ڈال دیا تھا جبکہ 4,98,266 بیرون ملک سے بھیجے گئے بیلٹ بنگلہ دیش پہنچ چکے تھے۔ ملک کے اندر 6,74,376 رجسٹرڈ ووٹروں نے پوسٹل ووٹنگ مکمل کی۔ شام 4:30 بجے تک موصولہ بیلٹس کو گنتی میں شامل کیا جائے گا۔


محمد یونس: “نئے بنگلہ دیش کی سالگرہ”

عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے انتخابات اور ریفرنڈم کو قومی تجدید کا لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے صبح 10:26 بجے گلشن ماڈل ہائی اسکول اینڈ کالج میں ووٹ ڈالنے کے بعد کہا:
“آج خوشی کا دن ہے، آج ایک نئے بنگلہ دیش کی سالگرہ ہے، ہم اسے پورا دن منائیں گے۔”

انہوں نے کہا کہ آج کے عمل کے ذریعے عوام نے ماضی کو مسترد کر دیا ہے اور اب ملک کے پاس ایک نئے بنگلہ دیش کی تعمیر کا موقع ہے۔ ریفرنڈم کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا:
“امیدوار کو ووٹ دینا ضروری ہے، لیکن ریفرنڈم بہت ضروری ہے، پورا بنگلہ دیش بدل جائے گا۔”


جماعت اسلامی کے سربراہ نے تحفظات ظاہر کیے

جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمٰن نے امید ظاہر کی کہ ملک کو قابل اعتماد نتائج ملیں گے، تاہم انہوں نے کچھ علاقوں میں بے ضابطگیوں اور تشدد کا الزام بھی لگایا۔

انہوں نے ڈھاکہ-15 میں اپنے مرکزی انتخابی دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“اگر مسلح افواج دیانت داری سے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو امید ہے دن کے اختتام تک قوم کو اچھا ووٹ اور اچھا الیکشن ملے گا۔”

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دھاندلی کے ذریعے حکومت بنائی گئی تو وہ حکومت عوام کے مسائل نہیں سمجھ سکے گی۔


این سی پی نے دھاندلی کا الزام عائد کیا

طلبہ کی قیادت والی نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) نے دوپہر کے بعد کئی پولنگ مراکز میں دھاندلی اور بے ضابطگیوں کا الزام لگایا۔ پارٹی کی انتخابی انتظامی کمیٹی کی سیکریٹری منیرہ شرمین نے دعویٰ کیا کہ ڈھاکہ-18 کے کئی مراکز میں پارٹی شناختی کارڈ رکھنے والے افراد موجود تھے جو ووٹروں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

انہوں نے خواتین ووٹروں کو ہراساں کرنے، ایک ہی پارٹی کے متعدد ایجنٹس کی موجودگی، مخالف ایجنٹس کو روکنے، دیسی بم دھماکوں، امیدواروں اور صحافیوں پر حملوں، اور نوآکھالی کے ہاتیا میں تشدد کے واقعات کا بھی ذکر کیا۔


طارق رحمان نے فوری نتائج کا مطالبہ کیا

بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان نے کہا کہ اگر الیکشن آزاد، منصفانہ اور تنازع سے پاک ہوا تو ان کی جماعت نتائج قبول کرے گی۔ انہوں نے کہا:
“اگر الیکشن آزاد ہے، اگر منصفانہ ہے، اگر بغیر تنازع ہے تو ہم کیوں نہ قبول کریں گے؟ لیکن شرط یہ ہے کہ الیکشن غیر جانبدار اور پرامن ہو۔”

انہوں نے کہا کہ زیادہ ٹرن آؤٹ سے دھاندلی کی کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں اور عوام جلد نتائج چاہتے ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ نتائج معمول کے وقت میں جاری کیے جائیں جیسا کہ 1991، 1996 اور 2001 میں ہوا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی جیت کے حوالے سے پرامید ہے۔


یورپی یونین کے مبصرین کا ابتدائی ردعمل مثبت

یورپی یونین کے الیکشن آبزرور مشن نے دوپہر تک کی صورتحال کو مثبت قرار دیا۔ مشن کے سربراہ ایوارس ایجابس نے کہا کہ ووٹنگ میں عوام کی دلچسپی اور شرکت حوصلہ افزا رہی۔ مشن کی ابتدائی رپورٹ 14 فروری کو جاری ہونے کا امکان ہے۔


نتائج میں تاخیر کا امکان

چونکہ پارلیمانی انتخابات، ریفرنڈم اور پوسٹل ووٹس کی گنتی ایک ساتھ کی جا رہی ہے، اس لیے نتائج آنے میں معمول سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ابتدائی نتائج جمعہ کی صبح تک سامنے آ سکتے ہیں، تاہم سابق حکام کے مطابق مکمل نتائج دوپہر تک متوقع ہیں۔

اب پورا بنگلہ دیش اس بات کا منتظر ہے کہ اگلی حکومت کون تشکیل دے گا اور آیا ریفرنڈم ملک کو ایک نئے آئینی دور میں داخل کرے گا یا نہیں۔