Last Updated on February 8, 2026 12:16 am by INDIAN AWAAZ

دنیا میں سب سے زیادہ جوہری ہتھیار امریکہ اور روس کے پاس ہیں۔

media:entermedia_image:f44c067c-301e-4c8a-a188-772748c94b9f

CTBTO

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور روس کے مابین نیو سٹارٹ معاہدے کی تجدید نہ ہونا عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ معاہدہ ختم ہونے سے ایسے وقت دونوں ممالک کے جوہری ہتھیاروں پر قانونی پابندیاں ختم ہو گئی ہیں جب دنیا شدید کشیدگی کا شکار ہے۔

اس معاہدے کی میعاد ختم ہونے پر جاری کردہ بیان میں سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ دنیا ایسے غیرمعلوم اور خطرناک دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں امریکا اور روس کے جوہری ذخائر پر اب کوئی قانونی پابندی باقی نہیں رہی جبکہ دنیا میں زیادہ تر جوہری ہتھیار انہی ممالک کے پاس ہیں۔ اس طرح، نصف صدی سے زیادہ عرصہ بعد یہ پہلا موقع ہے جب دونوں ممالک جوہری ہتھیاروں میں اضافے کے حوالے سے کسی پابندی کے تابع نہیں رہے۔

Tweet URL

نیو سٹارٹ معاہدے پر 2010 میں دستخط کیے گئے تھے جس کے تحت دونوں ممالک نے طے کیا کہ وہ جنگ کے لیے تیار جوہری ہتھیاروں کی تعداد 1,550 سے نہیں بڑھائیں گے جبکہ اس معاہدے کے تحت بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں اور بھاری بمبار طیاروں کے حوالے سے بھی پابندیاں عائد تھیں۔ اس معاہدے میں اعتماد سازی کے لیے تصدیقی اقدامات بھی شامل تھے جن میں معلومات کا تبادلہ، اطلاعات کی فراہمی اور ہتھیاروں کا موقع پر معائنہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان کا مقصد کسی بداعتمادی اور غلط فہمی سے بچنا تھا۔

جوہری معاہدوں کی اہمیت 

انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں پر ضبط سے متعلق دہائیوں پر محیط معاہدے تباہ کن نتائج کو روکنے اور جوہری ذخائر میں کمی لانے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ سرد جنگ کے دوران اور اس کے بعد دونوں حکومتوں کے درمیان جوہری معاہدوں نے تباہی کو روکنے میں مدد دی۔

سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا کہ پابندیوں کا یہ نظام ایسے وقت ختم ہو رہا ہے جب جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں کہیں بڑھ گیا ہے۔ 

نئے معاہدے کی ضرورت 

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ صورتحال عالمی سلامتی کے بدلتے ہوئے ماحول میں ضبط اسلحہ کے بارے میں نئے سرے سے سوچنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے امریکا اور روس کے صدور کے ان بیانات کا خیرمقدم کیا جن میں جوہری اسلحہ کی نئی دوڑ شروع ہونے کے خطرات کو تسلیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا ہے کہ اب دنیا روس اور امریکہ کی طرف دیکھ رہی ہے کہ وہ اپنے الفاظ کو عملی اقدامات میں ڈھالیں۔ دونوں ممالک کو بلا تاخیر مذاکرات کی جانب واپس آنا اور ایک ایسا نیا معاہدہ طے کرنا ہو گا جو ہتھیاروں کی تعداد کے حوالے سے قابل تصدیق حدود کو بحال کرے، خطرات میں کمی لائے اور عالمگیر سلامتی کو مضبوط بنائے۔