Last Updated on January 24, 2026 10:25 pm by INDIAN AWAAZ

AMN

اقوامِ متحدہ نے ایک نہایت تشویشناک انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا اب محض آبی بحران سے دوچار نہیں رہی بلکہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جسے بجا طور پر ’عالمی آبی دیوالیہ پن‘ کہا جا سکتا ہے۔ یہ انتباہ اقوامِ متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے کئی خطوں میں پانی کے نظام ناقابلِ واپسی حد تک متاثر ہو چکے ہیں اور اب انہیں ان کی تاریخی حالت میں بحال کرنا ممکن نہیں رہا۔

سائنس دان، پالیسی ساز اور ذرائع ابلاغ گزشتہ کئی دہائیوں سے آبی بحران کے خطرے کی نشاندہی کرتے آ رہے ہیں۔ تاہم، اب تک آبی بحران کو ایک عارضی کیفیت سمجھا جاتا تھا، جس کے بعد بحالی کی امید باقی رہتی تھی۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، موجودہ صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے، کیونکہ اب کئی علاقوں میں پانی کی قلت مستقل شکل اختیار کر چکی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی یونیورسٹی کے ادارہ برائے پانی، ماحول اور صحت کے ڈائریکٹر کاوہ مدنی کے مطابق، دنیا کے بیشتر حصوں میں آبی نظام دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ ان کے بقول، اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا مقصد مایوسی پھیلانا نہیں بلکہ حقیقت کا سامنا کر کے بروقت اور مؤثر اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

کمزور طبقات سب سے زیادہ متاثر

رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آبی دیوالیہ پن کا بوجھ سب سے زیادہ دنیا کے کمزور طبقات پر پڑ رہا ہے۔ چھوٹے کسان، مقامی اور دیسی برادریاں، کم آمدنی والے شہری، خواتین اور نوجوان اس بحران کے سب سے بڑے متاثرین ہیں۔ دوسری جانب، پانی کے بے دریغ اور غیر منصفانہ استعمال کے فوائد زیادہ تر طاقتور اور وسائل یافتہ طبقوں کو حاصل ہوتے رہے ہیں۔

چونکہ دنیا کے آبی نظام تجارت، نقل مکانی اور جغرافیائی سیاست کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے کسی ایک خطے میں پانی کا بحران عالمی سطح پر اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رپورٹ کے مطابق، عالمی خطرات کا منظرنامہ اب بنیادی طور پر بدل چکا ہے۔

آبی دیوالیہ پن کیا ہے؟

رپورٹ میں آبی دیوالیہ پن کو دو بنیادی عناصر کے ذریعے واضح کیا گیا ہے:
دیوالیہ پن اور ناقابلِ واپسی نقصان۔

دیوالیہ پن سے مراد یہ ہے کہ پانی کو اس کی قدرتی تجدید کی صلاحیت سے کہیں زیادہ مقدار میں نکالا جا رہا ہو، یا اسے محفوظ حد سے بڑھ کر آلودہ کیا جا رہا ہو۔
جبکہ ناقابلِ واپسی نقصان کا مطلب یہ ہے کہ آبی نظام سے جڑے قدرتی وسائل، جیسے جھیلیں، ندیاں اور دلدلی علاقے، اس حد تک تباہ ہو چکے ہوں کہ انہیں دوبارہ بحال کرنا ممکن نہ رہے۔

کاوہ مدنی کے مطابق، اس کے باوجود امید کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ وہ آبی دیوالیہ پن کا موازنہ مالیاتی دیوالیہ پن سے کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دیوالیہ پن کسی نظام کا اختتام نہیں بلکہ ایک منظم بحالی کے عمل کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اس عمل میں سب سے پہلے مزید نقصان کو روکا جاتا ہے، بنیادی خدمات کا تحفظ کیا جاتا ہے، غیر حقیقی دعووں کی ازسرِ نو تشکیل کی جاتی ہے اور پھر تعمیرِ نو میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔

آبی قلت کی بھاری قیمت

رپورٹ کے مطابق، دنیا اپنے آبی ذخائر تیزی سے استعمال کر رہی ہے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل سے اب تک دنیا کی نصف سے زیادہ بڑی جھیلوں میں پانی کی سطح نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔ اسی طرح، 1970 کے بعد سے قدرتی دلدلی علاقوں کا تقریباً 35 فیصد حصہ ختم ہو چکا ہے۔

اس صورتحال کے انسانی اثرات نہایت سنگین ہیں۔ دنیا کی تقریباً 75 فیصد آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جو آبی عدم تحفظ یا شدید آبی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہر سال تقریباً چار ارب افراد کم از کم ایک ماہ کے لیے پانی کی شدید قلت جھیلتے ہیں۔ اس کے علاوہ، خشک سالی کے اثرات سے عالمی معیشت کو سالانہ 307 ارب ڈالر تک کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

مستقبل کے لیے انتباہ

کاوہ مدنی نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبی ناکامیوں کو محض عارضی بحران سمجھ کر قلیل المدتی حل تلاش کیے جاتے رہے تو ماحولیاتی نقصان مزید شدت اختیار کرے گا اور سماجی تنازعات میں اضافہ ہو گا۔ پانی کی قلت نہ صرف خوراک اور صحت کو متاثر کرتی ہے بلکہ یہ نقل مکانی، علاقائی کشیدگی اور سیاسی عدم استحکام کو بھی جنم دے سکتی ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اب دنیا کو بحران سے نمٹنے کے بجائے آبی دیوالیہ پن کو سنبھالنے کی حکمتِ عملی اپنانی ہو گی۔ ایسی پالیسیاں درکار ہیں جو ناقابلِ واپسی نقصانات کو تسلیم کریں، باقی ماندہ آبی وسائل کا تحفظ کریں اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہوں۔

اقوامِ متحدہ کی یہ رپورٹ ایک سخت تنبیہ ہے کہ اگر دنیا نے پانی کے معاملے میں اپنے رویے نہ بدلے تو آنے والی نسلوں کو شدید ماحولیاتی اور انسانی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آبی دیوالیہ پن اب مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ حال کی حقیقت بن چکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری، منصفانہ اور دور رس اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔