Last Updated on January 24, 2026 4:01 pm by INDIAN AWAAZ


سید علی مجتبیٰ
(سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار)
تمل ناڈو اسمبلی کے انتخابات اپریل 2026 میں ہونے جا رہے ہیں۔ انتخابی ریاست تمل ناڈو کا وزیر اعظم نریندر مودی نے 23 جنوری 2026 کو دورہ کیا۔ اس دورے کے ساتھ ہی ریاست میں سیاسی تماشے کا پردہ اٹھ گیا۔ وزیر اعظم نے حکمراں ڈی ایم کے حکومت پر کرپشن، مافیا اور جرائم کو فروغ دینے کے سنگین الزامات عائد کیے۔
وزیر اعظم مودی نے ریاست میں متعدد عوامی جلسوں سے خطاب کیا، جن کا مقصد ڈی ایم کے حکومت کو بدنام کرنا اور دراوڑی سرزمین میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ایک مؤثر سیاسی قوت کے طور پر قائم کرنا تھا۔
وزیر اعظم مودی نے سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ تمل ناڈو کو ڈی ایم کے کی “زنجیروں” سے آزاد کرانا ضروری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ڈی ایم کے نے ریاست کو منشیات زدہ بنا دیا ہے اور کرپشن و جرائم کی بنیاد پر حکومت چلا کر عوام کے اعتماد سے غداری کی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ڈی ایم کے نے “وعدوں کے انبار” لگائے لیکن ریاست کو ترقی کے نام پر کچھ بھی نہیں دیا۔ ان کے مطابق عوام اب ڈی ایم کے حکومت کو “سی ایم سی راج” کہنے لگے ہیں، جس کا مطلب ہے — کرپشن، مافیا اور کرائم۔
اس کے بعد وزیر اعظم مودی نے تمل ناڈو میں خاندانی سیاست کو نشانہ بنایا اور کہا کہ ڈی ایم کے حکومت صرف ایک خاندان کی خدمت کرتی ہے، جہاں نہ جمہوریت ہے اور نہ جواب دہی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت صرف ایک خاندان کے فائدے کے لیے کام کر رہی ہے۔
اسٹالن کا جواب
وزیر اعظم کے الزامات کے جواب میں تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے مودی کے “ڈبل انجن ماڈل” پر طنز کرتے ہوئے اسے “ڈبہ ماڈل” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام نہاد ڈبل انجن ماڈل ایک فرضی ماڈل ہے جو تمل ناڈو میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔
اسٹالن نے اس بیان پر بھی سخت ردِعمل دیا جس میں وزیر اعظم نے تمل ناڈو کو ترقی میں پیچھے بتایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستیں کئی ترقیاتی اشاریوں میں تمل ناڈو سے پیچھے ہیں۔ اسٹالن کے مطابق، بی جے پی قیادت والی مرکزی حکومت کی رکاوٹوں کے باوجود تمل ناڈو نے تاریخی ترقی کی رفتار حاصل کی ہے۔
موازنہ کرتے ہوئے اسٹالن نے کہا کہ غیر بی جے پی حکومت والی ریاستیں — تمل ناڈو، کیرالہ، تلنگانہ، کرناٹک اور مغربی بنگال — ترقی کی بلندیوں کو چھو رہی ہیں، جبکہ اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور بہار جیسی بی جے پی حکومت والی ریاستیں پیچھے رہ گئی ہیں۔
تمل ناڈو کا سیاسی منظرنامہ
تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کی قیادت میں سیکولر پروگریسو الائنس (SPA) قائم ہے، جس میں کانگریس، بائیں بازو کی جماعتیں (CPI، CPI(M))، وی سی کے، ایم ڈی ایم کے اور انڈین یونین مسلم لیگ (IUML) شامل ہیں۔ اس اتحاد کی توجہ سماجی انصاف، علاقائی شناخت اور فلاحی پالیسیوں پر مرکوز ہے۔
دوسری جانب اے آئی اے ڈی ایم کے روایتی طور پر قومی جمہوری اتحاد (NDA) کی قیادت کرتی رہی ہے، تاہم 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد بی جے پی سے علیحدگی اختیار کر لی گئی۔ اب بی جے پی تمل ناڈو میں اپنی بنیاد مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اکثر اکیلے یا چھوٹے اتحاد کے ساتھ انتخابات لڑ رہی ہے۔
تمل ناڈو کی دیگر سیاسی جماعتوں میں پٹالی مکل کچی (PMK)، دیشیہ مرپوکو دراوڑ کزگم (DMDK) اور نام تملر کچی (NTK) شامل ہیں، جو کبھی اتحاد بدلتی ہیں اور کبھی آزاد حیثیت سے میدان میں اترتی ہیں۔
تمل ناڈو میں سیاسی رجحانات
تمل ناڈو کی سیاست طویل عرصے سے دو قطبی نظام کے تحت چلتی رہی ہے، جس کا مرکز دو بڑی دراوڑی جماعتیں — ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے — رہی ہیں۔ دونوں جماعتیں فلاحی عوامی سیاست کے سہارے باری باری اقتدار میں آتی رہی ہیں۔
ریاست کا سب سے اہم سیاسی رجحان یہ ہے کہ 1996 کے بعد سے کوئی بھی جماعت اپنے بل بوتے پر اکثریت حاصل نہیں کر سکی، جس کے باعث چھوٹی ذات پر مبنی اور علاقائی جماعتوں کے ساتھ اتحاد ناگزیر ہو گیا ہے۔
ایک اور نمایاں رجحان زبان اور تمل شناخت کی سیاست ہے، جو شمالی ہندوستان کی ہندوتوا سیاست کی مخالفت کرتی ہے۔ دراوڑی سیاست علاقائی شناخت اور مبینہ شمالی غلبے کے خلاف مضبوطی سے کھڑی رہی ہے۔
موجودہ حالات میں اے آئی اے ڈی ایم کے شدید انتشار کا شکار ہے اور اپنی تنظیمی طاقت کھو چکی ہے۔ یہ جماعت اب محض اپنے ماضی کا سایہ بن کر رہ گئی ہے۔
سیاست اور سنیما کا گہرا تعلق
تمل ناڈو کی سیاست کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس کا گہرا رشتہ فلمی دنیا سے رہا ہے۔ اداکار وجے نے حال ہی میں تملگا ویتری کزگم (TVK) قائم کی ہے۔ اداکار سیمَن کی جماعت نام تملر کچی کو الیکشن کمیشن سے باضابطہ شناخت حاصل ہو چکی ہے۔ اداکار وجے کانت کی قائم کردہ ڈی ایم ڈی کے اب ان کی اہلیہ پریمالتھا کی قیادت میں سیاست میں سرگرم ہے۔
پٹالی مکل کچی (PMK) اس وقت دو دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے — ایک کی قیادت بانی ڈاکٹر ایس رامادوس کر رہے ہیں جبکہ دوسرے دھڑے کی سربراہی ان کے الگ رہنے والے بیٹے اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر انبومنی رامادوس کے پاس ہے۔
بی جے پی کی کوششیں اور ناکامیاں
آج تمل ناڈو کی سیاست ایک بکھرے ہوئے منظرنامے کی عکاس ہے، جہاں بی جے پی روایتی دراوڑی غلبے والی سیاست میں اپنا “زعفرانی دائرہ” بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔
بی جے پی نے دراوڑی سرزمین فتح کرنے کے لیے ہر انتخابی حربہ آزمایا۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اس نے پانی کی طرح پیسہ بہایا۔ پارٹی کے ریاستی صدر کے اننامالائی نے وزیر اعظم مودی کو یقین دلایا تھا کہ تمل ناڈو سے بڑی تعداد میں ارکانِ پارلیمنٹ منتخب ہو کر بی جے پی کو مرکز میں مضبوط حکومت بنانے میں مدد دیں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ دراوڑی شناخت نے زعفرانی سیاست کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔
بی جے پی نے پہلے جے جے للیتا کی قیادت والی اے آئی اے ڈی ایم کے حکومت کی حمایت کی، جس کے بدلے مرکز میں پارٹی کو ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت ملی۔ الزام ہے کہ بی جے پی نے ان کے دور میں کرپشن کے معاملات پر نرم رویہ اختیار کیا۔
جے للیتا کے انتقال کے بعد اے آئی اے ڈی ایم کے میں اندرونی کشمکش شدت اختیار کر گئی۔ بی جے پی کی پشت پناہی نے جماعت کو یہ احساس دلایا کہ وہ بی جے پی کی تابع بن کر کبھی اقتدار میں واپس نہیں آ سکتی، جس کے بعد اے آئی اے ڈی ایم کے نے این ڈی اے سے علیحدگی اختیار کر لی۔
بی جے پی کی بدلی ہوئی حکمتِ عملی: اداکار وجے پر انحصار
اے آئی اے ڈی ایم کے کی ناراضی کے بعد بی جے پی نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کی اور اداکار وجے پر داؤ لگا دیا، جنہوں نے حال ہی میں تملگا ویتری کزگم (TVK) قائم کی ہے۔
وجے اپنی فلمی مقبولیت کو سیاسی سرمائے میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بی جے پی نے انہیں یہ اشارہ دیا ہے کہ مشکل وقت میں پارٹی ان کا ساتھ دے گی۔ وجے کئی مرتبہ دہلی جا کر بی جے پی کے اعلیٰ رہنماؤں سے ملاقات کر چکے ہیں۔
وجے کا موازنہ سپر اسٹار رجنی کانت سے کیا جا سکتا ہے، جنہوں نے بے پناہ مقبولیت کے باوجود سیاست میں قدم نہیں رکھا۔ اسی طرح اداکار وجے کانت نے خود کو “کالا ایم جی آر” کہہ کر ڈی ایم ڈی کے بنائی اور خطیر رقم خرچ کی، مگر وہ بھی تمل سیاست میں کوئی بڑا اثر چھوڑنے میں ناکام رہے۔
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وجے کو تمل ناڈو میں پچیس فیصد سے زائد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے اور وہ اے ایم ایم کے، بی جے پی اور دیگر جماعتوں کے تعاون سے حکومت بنا سکتے ہیں، لیکن اس دعوے کے حق میں کوئی زمینی شواہد موجود نہیں ہیں۔ بلکہ سیاسی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں ہیں کہ وجے کو بھی وہی انجام دیکھنا پڑ سکتا ہے جو بہار میں پرشانت کشور کو دیکھنا پڑا۔
آخرکار، مجموعی تجزیے میں یہ واضح ہوتا ہے کہ 2026 کے اسمبلی انتخابات میں ڈی ایم کے کو برتری حاصل ہے۔ ریاست کا بکھرا ہوا اپوزیشن کیمپ اور یہ خدشہ کہ بی جے پی کی ہندوتوا سیاست دراوڑی شناخت پر غلبہ حاصل کر لے گی، ڈی ایم کے کے لیے سازگار فضا بنا رہا ہے۔
