Last Updated on January 21, 2026 9:27 pm by INDIAN AWAAZ

آندھرا پردیش حکومت 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق آسٹریلیا کے قانون کا مطالعہ کر رہی ہے۔ ریاست کے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل ترقی نارا لوکیش نے یہ بات سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر کہی۔

بلومبرگ نیوز سے گفتگو میں نارا لوکیش نے کہا، “ایک ریاست کے طور پر ہم آسٹریلیا کے انڈر-16 قانون کا جائزہ لے رہے ہیں، اور میرا ماننا ہے کہ ہمیں اس حوالے سے ایک مضبوط قانونی فریم ورک تیار کرنے کی ضرورت ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایک خاص عمر سے کم بچوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھنا ضروری ہے، کیونکہ وہ اکثر یہ نہیں سمجھ پاتے کہ وہ آن لائن کیا دیکھ رہے ہیں اور اس کا ان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

اس وقت بھارت میں نابالغوں کے سوشل میڈیا استعمال کے لیے والدین کی اجازت اور پیرنٹل کنٹرول کا نظام موجود ہے، تاہم مرکزی حکومت نے اب تک عمر کی بنیاد پر کسی وسیع پابندی پر واضح موقف اختیار نہیں کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے منفی اثرات اور نقصان دہ آن لائن مواد کے خلاف سخت قوانین کے مطالبے پر متعدد درخواستیں عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔

ماہرین کے مطابق، اس طرح کی پابندیوں پر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔ سائبر سیکیورٹی اور پبلک پالیسی کی ماہر وکیل کارنیکا سیٹھ کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے تکنیکی ڈھانچے کی وجہ سے آئی پی ڈیٹیکشن جیسے نظام کو بائی پاس کیا جا سکتا ہے۔ ایسے میں مکمل پابندی کی عملی حیثیت اور مؤثر نفاذ پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہوگا۔

یہ بحث صرف بھارت تک محدود نہیں ہے۔ انڈونیشیا، ڈنمارک اور برازیل سمیت کئی ممالک بھی بچوں اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے بڑی ٹیک کمپنیوں پر سخت ضابطے نافذ کرنے کی سمت میں اقدامات کر رہے ہیں۔