Last Updated on January 6, 2026 1:45 am by INDIAN AWAAZ

AMN / NEW DESK

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد ملک میں عدم استحکام بڑھنے کے امکانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے خطے پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور یہ کارروائی عالمی تعلقات کے طریقہ کار کے حوالے سے خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے۔

انہوں نے امریکا کی جانب سے وینزویلا میں کی گئی کارروائی میں بین الاقوامی قانون کی عدم پاسداری پر بھی گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی امن و سلامتی کا انحصار اس بات پر ہے کہ تمام رکن ممالک اقوام متحدہ کے منشور کی تمام شقوں کی پابندی کریں۔

انتونیو گوتیرش نے یہ بات اس معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اپنے بیان میں کہی۔ 

امن سازی اور سیاسی امور پر اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے سیکرٹری جنرل کی جانب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کی صورتحال کئی برس سے علاقائی اور عالمی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ملک دہائیوں سے داخلی عدم استحکام اور سماجی و معاشی بحران کا شکار رہا ہے جس دوران جمہوریت کمزور ہوئی اور لاکھوں شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

سیکریٹری جنرل نے وینزویلا کے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک جامع جمہوری مکالمے میں شامل ہوں جس کے ذریعے معاشرے کے تمام طبقات انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور وینزویلا کے عوام کی خودمختار منشا کے مکمل احترام کے ساتھ اپنے مستقبل کا تعین کر سکیں۔

قانون کی پاسداری کا مطالبہ 

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ موجودہ پیچیدہ اور مبہم صورت حال میں بین الاقوامی قانون کے اصولوں کا تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے۔ اس میں اقوام متحدہ کے منشور اور دیگر تمام قانونی طریقہ ہائے کار کی پاسداری، ریاستوں کی خودمختاری اور آزادی کا احترام اور طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کی ممانعت شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کا چارٹر کسی بھی ملک کے علاقے اور خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال کی ممانعت کرتا ہے۔ 

اصولوں پر قائم رہنے کی ضرورت 

سیکرٹری جنرل نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد وینزویلا کا فوری مستقبل غیریقینی دکھائی دیتا ہے۔ 3 جنوری کو امریکہ کی عسکری کارروائی میں طاقت کے استعمال سے متعلق قوانین کی پاسداری نہیں کی گئی۔ عالمی امن و سلامتی کو برقرار رکھنےکا دارومدار رکن ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کے چارٹر کی تمام شرائط پر عمل کرنے پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات نازک ہیں لیکن اب بھی بڑے پیمانے پر اور مزید تباہ کن صورتحال کو روکنا ممکن ہے۔ اس طرح کے پریشان کن اور پیچیدہ حالات میں اصولوں پر کاربند رہنا ضروری ہے۔ قانون کی طاقت کو برقرار رہنا چاہیے۔ بین الاقوامی قانون انسانی حقوق سے متعلق خدشات سےلے کر سمگلنگ اور وسائل کے تنازعات تک ہر مسئلے کا حل مہیاکرتا ہے اور دنیا کو یہی راہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔