Last Updated on January 18, 2026 5:19 pm by INDIAN AWAAZ
روزگار کے حوالے سے اسٹارٹ اپ ماڈل سے بلاشبہ لاکھوں مواقع پیدا ہوئے ہیں، مگر ان میں سے بڑی تعداد گِگ اکانومی سے جڑی ہوئی ہے، جہاں ملازمین کو نہ سماجی تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی روزگار کا طویل مدتی استحکام۔ وقتی آمدنی کو پائیدار معاشی تحفظ کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا، اور یہی وہ خلا ہے جس پر پالیسی سازوں کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
عندلیب اختر
ہندوستان میں جب 2016 میں ”اسٹارٹ اپ انڈیا“ کا اعلان کیا گیا تو اسے محض ایک سرکاری اسکیم نہیں بلکہ ایک نئی سوچ کے آغاز کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ نوجوان صرف نوکری کے خواہاں نہ رہیں بلکہ خود روزگار اور اختراع کے ذریعے معیشت کے معمار بنیں۔ آج، جنوری 2026 میں، یہ پہل اپنی پہلی دہائی مکمل کر چکی ہے اور اس موقع پر کامیابیوں کے ساتھ ساتھ سنجیدہ سوالات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہو گیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 تک دو لاکھ سے زائد ڈی پی آئی آئی ٹی سے تسلیم شدہ اسٹارٹ اپس رجسٹر ہو چکے ہیں، جو ہندوستان کو دنیا کے بڑے اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظاموں میں شامل کرتے ہیں۔ بنگلورو، دہلی-این سی آر، ممبئی اور حیدرآباد جیسے شہروں نے اس تبدیلی میں مرکزی کردار ادا کیا، جبکہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ تقریباً نصف اسٹارٹ اپس اب ٹیئر ٹو اور ٹیئر تھری شہروں سے سامنے آ رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار حوصلہ افزا ضرور ہیں، مگر محض تعداد کو کامیابی کا واحد پیمانہ مان لینا زمینی حقیقتوں سے نظریں چرانے کے مترادف ہوگا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کتنے اسٹارٹ اپ رجسٹر ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ ان میں سے کتنے پائیدار بن سکے، کتنے نے معیاری اور مستقل روزگار پیدا کیا، اور کتنے محض چند برس بعد سرمایہ ختم ہونے یا مارکیٹ دباؤ کے باعث بند ہو گئے۔ ہندوستانی اسٹارٹ اپ منظرنامے میں اب بھی ناکامی کی شرح بلند ہے، جس پر کم اور کامیابی کے قصوں پر زیادہ بات ہوتی ہے۔
سوال یہ ہے کیا یہ خواب سب کے لیے پورا ہوا؟ کیا اسٹارٹ اپ انقلاب واقعی زمینی معیشت تک پہنچا؟ یا یہ کامیابی چند بڑے شہروں، چند شعبوں اور چند سرمایہ کار حلقوں تک محدود رہی؟سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 تک 2 لاکھ سے زائد ڈی پی آئی آئی ٹی سے تسلیم شدہ اسٹارٹ اپس موجود ہیں، اور تقریباً 50 فیصد کا تعلق ٹیئر-II اور ٹیئر-III شہروں سے بتایا جاتا ہے۔ یہ بلاشبہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔ لیکن اعداد و شمار کے اس شور میں ایک خاموش حقیقت بھی پوشیدہ ہے:ان میں سے کتنے اسٹارٹ اپس پائیدار کاروبار بن پائے؟کتنے واقعی روزگار پیدا کرنے والے ادارے بنے، نہ کہ صرف فنڈنگ سلائیڈز اور پریزنٹیشنز؟
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بیشتر اسٹارٹ اپس ابتدائی تین سے پانچ سال میں بند ہو جاتے ہیں۔ فنڈنگ کا بہاؤ غیر متوازن ہے، جہاں چند معروف نام سرمایہ سمیٹ لیتے ہیں، جبکہ ہزاروں نئے اور مقامی مسائل حل کرنے والے اسٹارٹ اپس سرمایہ تک رسائی سے محروم رہ جاتے ہیں۔
اختراع کے دعوے پر بھی تنقیدی نظر ضروری ہے۔ بیشتر سرمایہ کاری ای کامرس، فوڈ ڈیلیوری، فِن ٹیک اور کنزیومر ایپس تک محدود رہی، جبکہ مینوفیکچرنگ، زرعی ٹیکنالوجی، ڈیپ ٹیک اور بایوٹیک جیسے شعبے، جو حقیقی معیشت کو مضبوط کرتے ہیں، نسبتاً کم توجہ حاصل کر سکے۔ فوری منافع کے ماڈلز نے طویل مدتی قومی ترجیحات کو پیچھے چھوڑ دیا، جو کسی بھی ابھرتی معیشت کے لیے تشویش کا باعث ہو سکتا ہے۔روزگار کے محاذ پر بھی تصویر ملی جلی ہے۔ لاکھوں مواقع ضرور پیدا ہوئے، مگر ان میں سے بڑی تعداد گِگ اکانومی سے جڑی ہوئی ہے، جہاں ملازمین کو نہ مستقل تحفظ حاصل ہے اور نہ سماجی فوائد۔ وقتی روزگار کو دیرپا معاشی استحکام کا نعم البدل نہیں بنایا جا سکتا، اور یہی وہ پہلو ہے جس پر اسٹارٹ اپ انڈیا کے اگلے مرحلے میں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
حکومتی سطح پر فنڈ آف فنڈز، سیڈ فنڈ اسکیم، کریڈٹ گارنٹی اور اٹل انوویشن مشن جیسے اقدامات نے سرمایہ، رہنمائی اور انفراسٹرکچر فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم، چھوٹے شہروں کے بانیوں کے لیے پیچیدہ طریقہ کار، انکیوبیٹرز کے معیار میں تفاوت اور حقیقی مینٹرشپ کی کمی اب بھی بڑے چیلنج ہیں۔ کئی نوجوان کاروباریوں کے لیے نظام تک رسائی خود ایک جدوجہد بن جاتی ہے۔
خواتین اور شمولیت: پیش رفت مگر خلا باقی
یہ حقیقت حوصلہ افزا ہے کہ 45 فیصد اسٹارٹ اپس میں کم از کم ایک خاتون ڈائریکٹر موجود ہے۔ مگر سرمایہ کاری کے اعداد و شمار دیکھیں تو خواتین کی قیادت والے اسٹارٹ اپس کو ملنے والی فنڈنگ اب بھی نہایت کم ہے۔خواتین کی شمولیت کے حوالے سے بھی اگرچہ اعداد و شمار بہتر دکھائی دیتے ہیں، مگر سرمایہ کاری میں صنفی عدم توازن برقرار ہے۔ نمائندگی بڑھنا خوش آئند ہے، مگر اصل امتحان مساوی مواقع اور وسائل تک عملی رسائی میں ہے۔
دس سال بعد اسٹارٹ اپ انڈیا ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے محض کامیابی کے جشن سے آگے بڑھ کر خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ اختراع کو نقل سے الگ کیا جائے، معیار کو تعداد پر ترجیح دی جائے اور اسٹارٹ اپس کو وقتی رجحان کے بجائے مضبوط اداروں میں بدلا جائے۔اسٹارٹ اپ انڈیا نے سوچ بدلی ہے، یہ اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ لیکن سوچ بدلنے کے بعد معیشت کو بدلنے کے لیے ٹھوس، پائیدار اور منصفانہ نظام درکار ہوتا ہے۔ اگر اگلی دہائی میں یہ تحریک واقعی تاریخی بننا چاہتی ہے تو اسے نعروں سے نکل کر زمینی حقیقتوں کا سامنا کرنا ہوگا، کیونکہ اصل انقلاب وہی ہوتا ہے جو صرف شہ سرخیوں میں نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی میں نظر آئے۔
