Last Updated on February 22, 2026 12:12 am by INDIAN AWAAZ

AMN
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل Antonio Guterres نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا مستقبل چند ممالک یا چند ارب پتی افراد کے مفادات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی تک مساوی اور منصفانہ رسائی یقینی بنانے کے لیے ایک عالمی فنڈ کا قیام ناگزیر ہے، تاکہ ترقی پذیر ممالک بھی اس انقلاب کا حصہ بن سکیں۔
انہوں نے نئی دہلی میں منعقدہ India AI Impact Summit 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مہارتوں کی ترقی، معلوماتی استعداد میں اضافے، سستی کمپیوٹنگ سہولیات کی فراہمی اور جامع ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کی تشکیل پر فوری سرمایہ کاری نہ کی گئی تو دنیا کے کئی ممالک مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل خلیج کو کم کیے بغیر عالمی ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔
سیکرٹری جنرل نے تجویز دی کہ جدید ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی کے لیے تقریباً تین ارب ڈالر کا عالمی فنڈ قائم کیا جائے۔ ان کے مطابق یہ رقم کسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کی سالانہ آمدنی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے، لیکن اس کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے فوائد کو عالمی سطح پر عام کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اسے ایک معمولی سرمایہ کاری قرار دیا جس کے بدلے دنیا بھر کے لوگوں کو غیر معمولی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا مؤثر عالمی انتظام
انتونیو گوتیرش نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اقوام متحدہ مصنوعی ذہانت کے مؤثر اور ذمہ دارانہ انتظام کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔ گزشتہ سال جنرل اسمبلی کے تحت ایک آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل قائم کیا گیا، جس میں 40 عالمی ماہرین شامل ہیں۔ یہ پینل مصنوعی ذہانت سے وابستہ خطرات، مواقع اور سماجی اثرات کا تجزیہ کرے گا اور پالیسی سازی کے لیے شواہد فراہم کرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت سب کی مشترکہ ملکیت ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے رکن ممالک، صنعتوں اور سول سوسائٹی کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال انسانی فلاح کے لیے یقینی بنایا جا سکے۔
انسانی اختیار، نگرانی اور جوابدہی
سیکرٹری جنرل نے مصنوعی ذہانت کے ضوابط کے حوالے سے عالمی مکالمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے قوانین درکار ہیں جو انسانی اختیار، نگرانی اور جوابدہی کو برقرار رکھیں۔ ان کے مطابق اے آئی کو اگر درست طریقے سے بروئے کار لایا جائے تو یہ پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ ٹیکنالوجی طبی تحقیق میں پیش رفت کو تیز کر سکتی ہے، تعلیم کے مواقع وسیع بنا سکتی ہے، غذائی تحفظ کو بہتر کر سکتی ہے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور آفات کی تیاری کو مضبوط بنا سکتی ہے اور عوامی خدمات تک رسائی کو آسان بنا سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس کی ترقی بے قابو رہی تو عدم مساوات میں اضافہ، تعصبات کی تقویت اور دیگر سماجی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
ماحول دوست توانائی اور انسانی سرمایہ کاری
انہوں نے توجہ دلائی کہ مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کے ساتھ توانائی اور پانی کی طلب میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس لیے ڈیٹا مراکز اور سپلائی چین کو قابل تجدید اور ماحول دوست توانائی کی طرف منتقل کرنا ضروری ہے، اور اس کا بوجھ کمزور طبقات پر نہیں پڑنا چاہیے۔
سیکرٹری جنرل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کارکنوں کی مہارتوں میں سرمایہ کاری کی جائے تاکہ مصنوعی ذہانت روزگار ختم کرنے کے بجائے انسانی صلاحیتوں کو بڑھانے کا ذریعہ بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو استحصال، چالبازی اور بدسلوکی سے محفوظ رکھا جانا چاہیے اور کوئی بھی بچہ غیر منضبط مصنوعی ذہانت کا تجرباتی میدان نہ بنے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو انسانی زندگی میں بہتری اور کرۂ ارض کے تحفظ کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ دنیا کو ایسی مصنوعی ذہانت درکار ہے جو سب کے لیے ہو، جس کی بنیاد انسانی وقار، مساوات اور مشترکہ ذمہ داری پر قائم ہو۔
