مشرق وسطیٰ میں جنگ سے پیدا ہونے والا بحران تیسرے مہینے میں داخل ہونے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر جاری پابندیاں عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہیں جن سے انسانی و معاشی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین نازک جنگ بندی تاحال برقرار رہنے کے باوجود یہ بحران تیزی سے بگڑتا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں پر پابندیاں تیل، گیس، کھاد اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں، توانائی، نقل و حمل، صنعت اور خوراک کی منڈیوں کو متاثر کر رہی ہیں اور عالمی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا کہ اس بحران کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا اس کی زد میں ہے۔ ہر جنگ کی طرح اس تنازع کی قیمت بھی پوری انسانیت ادا کرے گی چاہے چند لوگ اس سے بہت بڑا منافع ہی کیوں نہ کما لیں۔

انہوں نے متحارب فریقین کو براہ راست پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کو فوری بحال کیا جائے، آبنائے کو کھولا جائے اور عالمی معیشت کو دوبارہ سانس لینے دیا جائے۔ تاہم، صرف راستے کھولنا کافی نہیں بلکہ تجارتی اشیا کی ترسیل کو محفوظ، قابل بھروسہ اور یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔

تین تشویشناک منظرنامے

سیکرٹری جنرل نے اس بحران کے حوالے سے تین ممکنہ منظرنامے پیش کیے: 

  • پہلا (بہترین منظرنامہ): اگر پابندیاں فوری طور پر ختم کر دی جائیں تو تب بھی تجارتی ترسیلی نظام کو بحال ہونے میں کئی ماہ لگ جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں عالمگیر معاشی ترقی 3.4 فیصد سے کم ہو کر 3.1 فیصد رہ جائے گی جبکہ مہنگائی 4.4 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔
  • دوسرا منظرنامہ: اگر آبنائے ہرمز میں خلل سال کے وسط تک جاری رہا تو معاشی شرح نمو 2.5 فیصد تک گر سکتی ہے اور مہنگائی 5.4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ ان حالات میں تین کروڑ 20 لاکھ افراد غربت کا شکار ہو جائیں گے جبکہ مزید چار کروڑ 50 لاکھ شدید بھوک کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
  • تیسرا (بدترین منظرنامہ): اگر بحران سال کے آخر تک جاری رہا تو مہنگائی 6 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے اور اقتصادی ترقی صرف 2 فیصد رہ جائے گی۔ اس سے عالمی کساد بازاری کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے جس کے تباہ کن نتائج ہوں گے۔

پائیدار امن کے لیے کوششیں 

سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ اقوام متحدہ اس بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ بین الاقوامی بحری ادارے (آئی ایم او) کے سربراہ نے جنگ زدہ علاقے سے بحری جہازوں اور ملاحوں کے محفوظ انخلا کے لیے فریم ورک بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پائیدار امن کے قیام کے لیے کئی فریقین سے رابطے میں ہیں جبکہ ان کے خصوصی ایلچی ژاں آرنو بھی تنازع کا پرامن، جامع اور دیرپا حل نکالنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز سے متعلق اقوام متحدہ کی ٹاسک فورس کے سربراہ خورخے موریرا ڈا سلوا خطے کا دورہ کریں گے تاکہ بدترین حالات سے نمٹنے کے لیے امدادی راہداری قائم کرنے پر مشاورت کی جا سکے۔ 

 انتونیو گوتیرش نے کہا کہ اب بات چیت اور ایسے طریقے تلاش کرنے کا وقت ہے جو دنیا کو تباہی کے دہانے سے واپس لے آئیں اور ایسے اقدامات اٹھانا ہوں گے جو امن کی راہ ہموار کریں۔

معاشی خطرات کی نشاندہی

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) نے ایک آن لائن ڈیش بورڈ تیار کیا ہے جس میں جہاز رانی، خوراک اور توانائی کی قیمتوں اور سٹاک مارکیٹ کی صورتحال سے متعلق اشاریے دیکھے جا سکتے ہیں۔

اس ڈیش بورڈ پر 30 اپریل کے اعداد و شمار کے مطابق:

  • آبنائے ہرمز سے جہاز رانی میں 91.3 فیصد کمی آ چکی ہے۔
  • خوراک کی قیمتوں میں 8.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
  • یورپ کے لیے خام تیل کی قیمت 67 فیصد بڑھ چکی ہے۔

انکٹاڈ کے عہدیدار کارلوس ریزو نے کہا ہے کہ یہ ڈیش بورڈ عالمی تجارت اور ترقی پر اثر انداز ہونے والے خطرات کی بروقت نشاندہی میں مدد دیتا ہے۔ موجودہ صورتحال نے تیل، گیس اور کھاد کی منڈیوں میں خلل ڈالا ہے جس سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ عموماً خوراک کی قیمتیں بڑھنے کا سبب بنتا ہے اور اس طرح ترقی پذیر ممالک پر مالی دباؤ کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

UN NEWS