Last Updated on March 5, 2026 4:37 pm by INDIAN AWAAZ

نامہ نگار خصوصی
پٹنہ: بہار کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وزیر اعلیٰ Nitish Kumar نے جمعرات کو راجیہ سبھا کے لیے اپنا نامزدگی فارم داخل کر دیا۔ اس اقدام کو تقریباً دو دہائیوں تک ریاست کی قیادت کرنے کے بعد ان کے قومی سیاست میں جانے کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے بعد بہار کی قیادت میں بڑی تبدیلی کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔
اس سیاسی پیش رفت کو اس وقت مزید اہمیت ملی جب مرکزی وزیر داخلہ Amit Shah اچانک پٹنہ پہنچے اور نتیش کمار کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بی جے پی کے سینئر رہنما Nitin Nabin بھی موجود تھے۔ سب سے زیادہ توجہ اس منظر نے حاصل کی جب تینوں رہنما ایک ہی گاڑی میں سوار ہو کر بہار اسمبلی پہنچے، جسے این ڈی اے اتحاد کے اندر گہرے تال میل کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں صرف راجیہ سبھا انتخابات کی حکمت عملی ہی نہیں بلکہ اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ اگر نتیش کمار قومی سیاست میں سرگرم ہوتے ہیں تو بہار کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہوگی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطحی مشاورت سے واضح ہوتا ہے کہ این ڈی اے اتحاد ریاست میں قیادت کی ممکنہ تبدیلی کے لیے تیاری کر رہا ہے۔
نتیش کمار کے علاوہ این ڈی اے کے چند دیگر رہنماؤں نے بھی راجیہ سبھا کے لیے اپنے نامزدگی فارم داخل کیے۔ ان میں Nitin Nabin، Ramnath Thakur، Shivesh Kumar Ram اور Upendra Kushwaha شامل ہیں۔ نامزدگی کے موقع پر اسمبلی احاطے میں این ڈی اے کی مضبوط یکجہتی دیکھنے میں آئی، جبکہ امت شاہ نے امیدواروں کو نئی ذمہ داریوں کے لیے مبارکباد بھی دی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نتیش کمار کا راجیہ سبھا میں جانا بہار کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ تقریباً بیس برس سے مختلف ادوار میں ریاست کی قیادت کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں اب سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ ان کے بعد بہار کا اگلا وزیر اعلیٰ کون ہوگا۔
فی الحال اس بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم جس طرح امت شاہ اس پورے معاملے میں سرگرم دکھائی دے رہے ہیں، اس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں بہار کی سیاست میں کوئی بڑا فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔

