Last Updated on March 9, 2026 5:19 pm by INDIAN AWAAZ

بچپن کا مقصد ورچوئل دنیا میں کھو جانا نہیں ہے۔ بچپن دراصل تخیل، کھیل، سیکھنے اور تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور ہونا چاہیے۔ اگر معاشرہ اور حکمرانی مل کر یہ یقینی بنا سکیں کہ بچے محفوظ، متوازن اور تخلیقی ماحول میں پروان چڑھیں تو ہی ایک صحت مند، حساس اور بااختیار مستقبل کی حقیقی تصویر سامنے آ سکتی ہے۔

لَلِت گَرگ —

ڈیجیٹل دور میں انسانی زندگی کی رفتار اور انداز تیزی سے بدل رہے ہیں۔ رابطے، تعلیم، تفریح اور سماجی تعلقات اب بڑی حد تک آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ اس تبدیلی نے جہاں زندگی کو بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں، وہیں اس نے کئی نئی مشکلات بھی پیدا کی ہیں، خاص طور پر بچوں اور نوعمروں کی ذہنی، تعلیمی، سماجی اور جذباتی نشوونما کے حوالے سے۔ اسی پس منظر میں ہندوستان کی تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ریاست کرناٹک نے ایک اہم اور قابلِ تقلید قدم اٹھاتے ہوئے سولہ برس سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ریاستی حکومت نے اپنے بجٹ اجلاس 2026–27 میں اعلان کیا کہ نوعمروں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے سخت ضابطے نافذ کیے جائیں گے۔ یہ فیصلہ ان والدین کی بڑھتی ہوئی تشویش کے پیش نظر کیا گیا ہے جو غیر محدود ڈیجیٹل سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے خطرات، جیسے سائبر بُلنگ اور آن لائن دھوکہ دہی، سے پریشان ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد بچوں کو ورچوئل دنیا کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنا اور ان کی صحت مند ذہنی نشوونما کو یقینی بنانا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک قابلِ تحسین قدم ہے اور دیگر ریاستوں کو بھی اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے بچپن کو سوشل میڈیا کے خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔

کرناٹک کے اس فیصلے کے فوراً بعد آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے بھی ریاستی اسمبلی میں اعلان کیا کہ اگلے نوّے دنوں کے اندر ایک ایسا قانون لایا جائے گا جس کے تحت تیرہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔ اس طرح آندھرا پردیش کرناٹک کے بعد اس نوعیت کی پالیسی اپنانے والی دوسری ریاست بننے جا رہی ہے۔ دراصل یہ اقدامات صرف انتظامی فیصلے نہیں بلکہ ایک تیزی سے ورچوئل ہوتی دنیا میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے جاری عالمی بحث کا حصہ بھی ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر آسٹریلیا میں پہلے ہی سولہ برس سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی نافذ کی جا چکی ہے، جبکہ فرانس سمیت کئی یورپی ممالک نے بھی بچوں کی ڈیجیٹل سلامتی کے لیے سخت قوانین متعارف کرائے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران ماہرینِ نفسیات اور بچوں کی صحت کے ماہرین بار بار اس بات سے خبردار کرتے رہے ہیں کہ سوشل میڈیا کا بے قابو استعمال نوعمروں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما پر سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ خود اعتمادی میں کمی، تنہائی، بے چینی، ڈپریشن، توجہ کی کمی اور جارحانہ رویوں جیسے مسائل نوجوان صارفین میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مسلسل موازنہ اور دکھاوے کی ثقافت بچوں میں احساسِ کمتری اور عدم اطمینان کو جنم دیتی ہے۔ اس تشویش کا اظہار ہندوستان کے اقتصادی سروے 2025–26 میں بھی کیا گیا تھا جس میں نوجوان ذہنوں پر بڑھتے ہوئے اسکرین ٹائم کے اثرات کی نشاندہی کی گئی۔

مختلف بین الاقوامی مطالعات کے مطابق دنیا بھر میں نوعمروں کا روزانہ اسکرین ٹائم مسلسل بڑھ رہا ہے۔ کئی سروے بتاتے ہیں کہ متعدد ممالک میں تیرہ سے اٹھارہ برس کے بچے روزانہ تین سے چھ گھنٹے تک ورچوئل پلیٹ فارمز پر وقت گزارتے ہیں۔ اس حد سے زیادہ مصروفیت کا براہِ راست اثر ان کی پڑھائی، نیند، خاندانی تعلقات اور جسمانی سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔ توجہ اور یکسوئی میں کمی سیکھنے کے معیار کو متاثر کرتی ہے۔ وہ فطری بچپن جو کھیل، دوستی اور فطرت سے تعلق کے ذریعے پروان چڑھنا چاہیے تھا، آہستہ آہستہ ایک مصنوعی ورچوئل دنیا میں سمٹتا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے سائبر ہراسانی اور آن لائن دھوکہ دہی کے واقعات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ بہت سے بچے نادانستہ طور پر ایسے جال میں پھنس جاتے ہیں جو ان کی ذہنی صحت اور ذاتی سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ نامناسب آن لائن مواد تک رسائی بھی ان کی نفسیات پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ان حالات میں یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ صرف آگاہی پیدا کرنا کافی نہیں بلکہ بچوں کے تحفظ کے لیے مضبوط پالیسی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔

اگرچہ کرناٹک اور آندھرا پردیش کے اقدامات قابلِ ستائش ہیں، لیکن ان پر مؤثر عمل درآمد کے حوالے سے کئی عملی چیلنجز بھی موجود ہیں۔ آج کے دور میں اسمارٹ فون اور ڈیجیٹل ایپلی کیشنز تعلیم اور روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ بہت سے تعلیمی ادارے اسائنمنٹس، رابطے اور معلومات کے تبادلے کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ بچے کی آن لائن سرگرمی تعلیمی مقاصد کے لیے ہے یا سوشل نیٹ ورکنگ کے لیے۔

ایک اور اہم مسئلہ عمر کی تصدیق کا ہے۔ یہ یقینی بنانا کہ کوئی صارف واقعی تیرہ یا سولہ برس سے کم عمر ہے، تکنیکی طور پر پیچیدہ عمل ہے۔ اگر ٹیکنالوجی کمپنیاں اس سلسلے میں تعاون نہ کریں تو ایسے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ بہت سے گھروں میں ایک ہی موبائل فون کئی افراد استعمال کرتے ہیں، جس سے بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کو مکمل طور پر روکنا مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود یہ اقدام اس لیے اہم ہے کہ اس نے معاشرے کی توجہ ایک سنگین مسئلے کی طرف مبذول کرائی ہے۔

درحقیقت بچوں کو ورچوئل پلیٹ فارمز کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے صرف پابندیاں کافی نہیں ہوتیں۔ اس کے لیے ایک متوازن حکمتِ عملی اور وسیع پیمانے پر آگاہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت، تعلیمی ادارے، ٹیکنالوجی کمپنیاں اور والدین—سب کی ذمہ داری برابر ہے۔ حکومتوں کو بچوں کی ڈیجیٹل سلامتی کے لیے واضح پالیسیاں بنانی چاہئیں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر عمر کی تصدیق کے مؤثر نظام تیار کرنے چاہئیں۔ تعلیمی اداروں کو طلبہ میں ڈیجیٹل نظم و ضبط اور ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں شعور پیدا کرنا چاہیے۔

تاہم سب سے اہم کردار والدین کا ہے کیونکہ بچوں کی عادات اور رویے سب سے پہلے گھر ہی میں تشکیل پاتے ہیں۔ اگر والدین خود ڈیجیٹل اعتدال کا نمونہ پیش کریں اور بچوں کے ساتھ کھلا مکالمہ برقرار رکھیں تو سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو مثبت اور تخلیقی سرگرمیوں کی طرف بھی راغب کرنا ضروری ہے۔ کھیل، مطالعہ، موسیقی، فنونِ لطیفہ اور فطرت کے ساتھ وقت گزارنا بچے کی شخصیت کی متوازن نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

آج یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ ڈیجیٹل انقلاب کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل نظم و ضبط بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی انسان کی زندگی کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہونی چاہیے، نہ کہ اسے ذہنی اور سماجی بحرانوں کی طرف دھکیلنے کا سبب۔ کرناٹک اور آندھرا پردیش کے اقدامات اسی سمت میں ایک تنبیہ بھی ہیں اور ایک تحریک بھی۔ اگر دیگر ریاستیں بھی ان اقدامات سے سبق حاصل کرتے ہوئے بچوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کریں اور مرکزی حکومت بھی اس مسئلے پر قومی سطح پر قانون بنانے پر غور کرے تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

آخرکار بچپن کا مقصد ورچوئل دنیا میں کھو جانا نہیں ہے۔ بچپن دراصل تخیل، کھیل، سیکھنے اور تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور ہونا چاہیے۔ اگر معاشرہ اور حکمرانی مل کر یہ یقینی بنا سکیں کہ بچے محفوظ، متوازن اور تخلیقی ماحول میں پروان چڑھیں تو ہی ایک صحت مند، حساس اور بااختیار مستقبل کی حقیقی تصویر سامنے آ سکتی ہے۔