Last Updated on May 28, 2026 7:21 pm by INDIAN AWAAZ

Staff Reporter

کرناٹک کی سیاست میں ایک بڑا تغیر سامنے آیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سِدّرامیا نے جمعرات کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد نائب وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے لیے ریاست کی سب سے بڑی کرسی کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ یہ تبدیلی کانگریس حلقوں میں کافی عرصے سے متوقع تھی۔

بنگلورو میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سِدّرامیا نے کہا کہ انہوں نے کانگریس ہائی کمان کی ہدایت پر استعفیٰ دیا ہے۔ ان کے مطابق، “میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ جب بھی ہائی کمان مجھے استعفیٰ دینے کو کہے گی، میں فوراً دے دوں گا۔ کل ہدایت ملی اور آج میں نے استعفیٰ دے دیا۔” انہوں نے بتایا کہ استعفیٰ گورنر تھاور چند گہلوت کے سکریٹری کو دیا گیا ہے، جو اس وقت ذاتی وجوہات کی بنا پر شہر سے باہر ہیں۔ اس موقع پر ڈی کے شیوکمار بھی موجود تھے، اگرچہ نئے وزیرِ اعلیٰ کے اعلان کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔

کانگریس ذرائع اور ریاستی وزیر ایچ کے پاٹل کے بیانات سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ ڈی کے شیوکمار ہی نئے وزیرِ اعلیٰ ہوں گے۔ امکان ہے کہ جمعہ کو کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ میں انہیں قائد منتخب کیا جائے گا، جس کے بعد پارٹی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرے گی۔ اس سے قبل سِدّرامیا نے اپنے گھر پر وزیروں کے ساتھ ایک اہم اجلاس کیا، جہاں شیوکمار نے ان کے پاؤں چھوئے اور دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ اس منظر کو اتحاد کی علامت سمجھا گیا۔

2023 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی فتح کے بعد وزیرِ اعلیٰ کے عہدے پر سِدّرامیا اور شیوکمار کے درمیان رسہ کشی ہوئی تھی۔ اس وقت راہل گاندھی اور کانگریس قیادت نے مبینہ طور پر ایک روٹیشنل فارمولہ طے کیا تھا۔ حکومت کے تین برس مکمل ہونے کے قریب، شیوکمار کے حامیوں کا دباؤ بڑھ گیا تھا کہ قیادت میں تبدیلی کی جائے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس نے یہ فیصلہ آئندہ انتخابات اور بڑھتی ہوئی عوامی ناراضگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں سِدّرامیا حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے مختلف مسائل پر نشانہ بنایا گیا، جن میں والمیکی ڈیولپمنٹ کارپوریشن اسکینڈل بھی شامل ہے۔ پارٹی حکمتِ عملی سازوں کا خیال ہے کہ قیادت کی تبدیلی عوامی ناراضگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ تبدیلی صرف وزیرِ اعلیٰ کے عہدے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابینہ میں بھی بڑے پیمانے پر ردوبدل متوقع ہے۔ پندرہ سے بیس نئے چہرے شامل کیے جا سکتے ہیں جبکہ کئی موجودہ وزیروں کو ہٹایا جا سکتا ہے۔ کانگریس دو نائب وزرائے اعلیٰ مقرر کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ ذات اور علاقائی توازن قائم رکھا جا سکے، جن میں ایک عہدہ ممکنہ طور پر دلت رہنما کو اور دوسرا لنگایت یا او بی سی نمائندے کو دیا جا سکتا ہے۔

یہ قیاس بھی بڑھ رہا ہے کہ سِدّرامیا کے بیٹے کو کابینہ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ شیوکمار کے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی کانگریس کرناٹک میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے نئی سیاسی حکمتِ عملی تیار کر رہی ہے، تاکہ آئندہ انتخابی معرکوں میں پارٹی کو فائدہ پہنچے۔

یہ پیش رفت کانگریس کے اندرونی طاقت کے توازن اور آئندہ سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات ڈالنے والی ہے۔