Last Updated on March 9, 2026 4:26 pm by INDIAN AWAAZ


اسد مرزا

ایران میں حالیہ سیاسی پیش رفت نے نہ صرف ملک کے اندر بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پیر 9 مارچ کو ایران نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر نامزد کیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ایران کے مختلف ریاستی اداروں، وزارتِ خارجہ اور پارلیمنٹ کے ارکان نے نئی قیادت کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب خطے میں جاری جنگ کو دس دن ہو چکے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف حصوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔

اس صورتحال نے ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا مغربی طاقتیں ایران میں حکومت کی تبدیلی کے اپنے دیرینہ مقصد میں کامیاب ہو پائیں گی یا ایک مرتبہ پھر انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مغرب کی پرانی حکمتِ عملی

گزشتہ کئی دہائیوں سے مغربی ممالک ایران میں موجود اسلامی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اکثر جمہوریت کی کمی، خواتین کے حقوق کی پامالی، معاشی مشکلات اور سماجی جمود جیسے مسائل کو بنیاد بنا کر ایران کی حکومت پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

لیکن کئی ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ ایران کے وسیع تیل اور معدنی وسائل پر کنٹرول کا ہے۔ مغربی طاقتیں چاہتی ہیں کہ ایران عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے مطابق اپنی پالیسیوں کو ڈھالے اور خطے میں ان کے مفادات کے مطابق کردار ادا کرے۔

حالیہ کشیدگی کے دوران امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایرانی عوام سے کھل کر حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کی۔ اس دوران آیت اللہ خامنہ ای سمیت کئی اہم ایرانی شخصیات کی ہلاکت کو امریکہ اور اسرائیل کے اتحاد نے ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔

قیادت کا خاتمہ ہمیشہ تبدیلی نہیں لاتا

جرمنی کی ماربرگ یونیورسٹی میں مشرقِ وسطیٰ کی معیشت کے پروفیسر محمد رضا فرزانگان کے مطابق یہ تصور کہ کسی ایک مرکزی رہنما کو ہٹانے سے فوری طور پر سیاسی تبدیلی آ جائے گی، حقیقت سے بہت دور ہے۔

ان کے بقول آیت اللہ خامنہ ای کے بعد کا ایران لازمی نہیں کہ وہی شکل اختیار کرے جس کی توقع بیرونی مداخلت کے حامی کر رہے ہیں۔ ایران کا سیاسی نظام ایک مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے پر قائم ہے، جو صرف ایک فرد کے جانے سے مکمل طور پر نہیں ٹوٹتا۔

مشرقِ وسطیٰ کے تلخ تجربات

اگر خطے کی حالیہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ بیرونی مداخلت کے ذریعے حکومت کی تبدیلی اکثر استحکام کے بجائے انتشار کا سبب بنی ہے۔

2003 میں امریکہ کی قیادت میں عراق پر حملے کے بعد ملک میں مسلسل شورش اور خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوئی۔ جمہوری نظام کے قیام کی کوششوں کے باوجود عراق آج تک وہ استحکام حاصل نہیں کر سکا جو حملے سے پہلے موجود تھا۔

اسی طرح 2011 میں نیٹو کی مداخلت کے بعد لیبیا کا سیاسی نظام بکھر گیا اور آج تک ملک دو مختلف حکومتوں کے درمیان تقسیم ہے، ایک طرابلس میں اور دوسری بن غازی میں۔

شام میں بھی حکومت کی تبدیلی کے بعد حالات مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکے اور ملک کئی برسوں سے سیاسی و عسکری کشمکش کا شکار ہے۔

یہ مثالیں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ کسی حکومت کا خاتمہ ہمیشہ استحکام کا باعث نہیں بنتا بلکہ اکثر اس کے نتیجے میں طویل المدتی عدم استحکام جنم لیتا ہے۔

ایران کی صورتحال مختلف کیوں؟

ایران کا معاملہ ان ممالک سے کئی لحاظ سے مختلف ہے۔ ایران میں ایک مضبوط ریاستی ڈھانچہ اور ادارہ جاتی تسلسل موجود ہے۔ ملک کی سول بیوروکریسی، تکنیکی ماہرین اور انتظامی ادارے ریاستی نظام کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اسی طرح ایران کی باقاعدہ فوج (آرٹیش) اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے درمیان تعاون بھی ریاستی استحکام کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ ادارے متحد رہتے ہیں تو ملک کی علاقائی سالمیت برقرار رہنے کے امکانات کافی زیادہ ہیں۔

شہادت کا تصور اور سیاسی علامت

شیعہ اسلام میں شہادت کا تصور ایک اہم مذہبی اور تاریخی مقام رکھتا ہے۔ اسی لیے آیت اللہ خامنہ ای کی موت کو ان کے حامی شکست کے بجائے ایک عظیم قربانی کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔

یہ تصور ایران کی سیاسی فضا میں ایک نئی علامتی طاقت پیدا کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں موجودہ نظام کو مزید مضبوطی ملنے کا امکان بھی موجود ہے۔

داخلی چیلنجز

اگرچہ ایران کا ریاستی ڈھانچہ مضبوط ہے، لیکن ملک میں نسلی اور لسانی تنوع بھی خاصا زیادہ ہے۔ اگر مرکزی حکومت کمزور ہوتی ہے تو سرحدی علاقوں میں موجود پرانے تنازعات شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

بلوچ، کرد اور عرب آبادی والے علاقوں میں پہلے سے موجود علیحدگی پسند رجحانات ایسے حالات میں مزید بڑھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین ممکنہ داخلی انتشار کے خدشات کو بھی نظرانداز نہیں کرتے۔

شیعہ اور سنی اتحاد

حالیہ حالات میں ایک دلچسپ پہلو شیعہ اور سنی حلقوں کے درمیان یکجہتی کا اظہار بھی ہے۔ چند روز قبل ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے سینکڑوں سنی علما نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی حمایت کی اور ایرانی افواج کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔

اسی طرح کئی شیعہ علما نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جہاد کے فتوے جاری کیے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ بیرونی دباؤ کے وقت ایران کے مختلف مذہبی حلقے ایک پلیٹ فارم پر آ سکتے ہیں۔

مستقبل کا منظرنامہ

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ ایران آنے والے مہینوں یا برسوں میں کس سمت جائے گا۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ صرف بیرونی دباؤ یا عسکری کارروائیوں کے ذریعے ایران میں فوری حکومت کی تبدیلی ممکن نہیں دکھائی دیتی۔

اگر تاریخ سے سبق لیا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں زبردستی مسلط کی گئی تبدیلیاں طویل عدم استحکام کا باعث بنی ہیں۔ یہی خدشہ ایران کے معاملے میں بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس لیے ممکن ہے کہ ایران میں حکومت کا “ خاتمہ” دراصل ایک ایسے دور کا آغاز ثابت ہو جس میں نہ صرف ایران بلکہ پورا خطہ طویل عرصے تک سیاسی اور عسکری کشیدگی کا شکار رہے۔

ایسے میں عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ طاقت کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے جنگ اور عدم استحکام کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔