Last Updated on March 23, 2026 5:16 pm by INDIAN AWAAZ

عندلیب اختر/ نئی دہلی
وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز پارلیمنٹ میں کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع نے بھارت کے لیے “غیر معمولی” معاشی، سکیورٹی اور انسانی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ملک میں ایندھن کی فراہمی مستحکم ہے اور بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ تین ہفتوں سے زائد عرصے سے جاری یہ بحران عالمی منڈیوں پر گہرا اثر ڈال رہا ہے اور اہم تجارتی راستوں کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کی حمایت کر رہا ہے۔
بھارت کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کے مغربی ایشیا کے ساتھ گہرے معاشی اور انسانی روابط ہیں۔ ملک کی خام تیل اور گیس کی درآمدات کا بڑا حصہ اسی خطے سے آتا ہے، جبکہ یہ خطہ عالمی تجارت کے لیے ایک اہم راہداری بھی ہے۔ خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ بھارتی مقیم ہیں، جن میں بڑی تعداد سمندری شعبے سے وابستہ ہے۔
حکومت نے بتایا کہ متاثرہ ممالک کے رہنماؤں سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے، جنہوں نے بھارتی شہریوں کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تاہم کچھ ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں، زخمیوں کا علاج جاری ہے اور متاثرہ خاندانوں کو مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
تنازع شروع ہونے کے بعد سے اب تک 3.75 لاکھ سے زائد بھارتیوں کو نکالا جا چکا ہے یا وہ وطن واپس آ چکے ہیں۔ ان میں ایران سے لائے گئے تقریباً 1,000 افراد شامل ہیں، جن میں 700 سے زیادہ میڈیکل طلبہ ہیں۔ خطے میں موجود بھارتی مشنز ہائی الرٹ پر ہیں اور 24 گھنٹے کنٹرول روم اور ہنگامی ہیلپ لائنز فعال ہیں۔
آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باوجود حکومت پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی فراہمی برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ بھارت اپنی تقریباً 60 فیصد ایل پی جی ضروریات درآمد کرتا ہے، اس لیے گھریلو کھپت کو ترجیح دیتے ہوئے پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کسی قسم کی قلت نہ ہو۔
حکومت متبادل سپلائی چینز کو محفوظ بنانے اور عالمی سمندری راستوں پر مال برداری کی محفوظ نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ تنازع زدہ علاقوں کے قریب پھنسے کئی بھارتی جہازوں کو بحفاظت واپس لایا جا چکا ہے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ ایتھنول مکسنگ (جو اب تقریباً 20 فیصد تک پہنچ چکی ہے)، ریلوے کی برقی کاری، میٹرو کی توسیع اور الیکٹرک موبیلیٹی کے فروغ جیسے اقدامات نے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا ہے۔
زرعی شعبے کے حوالے سے مرکز نے کہا کہ ملک میں غذائی اجناس کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور کھاد کی دستیابی بھی مناسب ہے، جس سے خریف کی بوائی میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ حالیہ برسوں میں کھاد کی مقامی پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے اور درآمدی ذرائع کو متنوع بنایا گیا ہے۔
آنے والی گرمی کے پیش نظر حکومت نے کہا کہ بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے مکمل تیاری ہے۔ کوئلے کے ذخائر کافی ہیں اور مسلسل دو برسوں سے ایک ارب ٹن سے زیادہ کوئلہ پیدا کیا جا رہا ہے۔ جبکہ قابل تجدید توانائی کی صلاحیت 250 گیگا واٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں شمسی توانائی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
ساحلی، سرحدی، سائبر اور اسٹریٹجک شعبوں میں سکیورٹی ایجنسیوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے یا صورتحال کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
حکومت نے ممکنہ طویل مدتی عالمی اثرات کے پیش نظر اتحاد اور چوکسی برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے اور ریاستوں سے ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
