Last Updated on February 14, 2026 5:04 pm by INDIAN AWAAZ

تحریر: ذاکر حسین
ڈھاکہ: بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان عام انتخابات میں زبردست کامیابی کے بعد بنگلہ دیش کے اگلے وزیر اعظم بننے جا رہے ہیں۔ 12 فروری 2026 کو ہونے والے عام انتخابات میں بی این پی نے بھاری اکثریت حاصل کی، جبکہ طارق رحمان نے جن دو حلقوں ڈھاکہ-17 اور بوگورا-6 سے انتخاب لڑا، دونوں میں واضح فرق سے کامیابی حاصل کی۔
یہ انتخاب بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ وہ پہلا قومی الیکشن تھا جو 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد منعقد ہوا۔ اسی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی قیادت والی عوامی لیگ حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی نے پارلیمنٹ میں دو تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل کر کے فیصلہ کن مینڈیٹ اپنے نام کر لیا ہے۔
بی این پی کے سینئر رہنما نذرالاسلام خان نے ڈھاکہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،
“بی این پی ایک آزمودہ جمہوری قوت ہے اور حالات واضح ہیں کہ عوام نے ملک کی ذمہ داری ہمیں سونپ دی ہے۔”
سیاسی خاندان کا وارث: جیا خاندان کی نئی قیادت
ساٹھ سالہ طارق رحمان بنگلہ دیش کے سب سے طاقتور اور بااثر سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ سابق صدر ضیاءالرحمان (بیر اُتم) کے صاحبزادے ہیں جنہوں نے 1978 میں بی این پی کی بنیاد رکھی، جبکہ ان کی والدہ خالدہ ضیاء تین مرتبہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں اور تین دہائیوں تک پارٹی کی قیادت کرتی رہیں۔
طارق رحمان کی پیدائش 20 نومبر 1965 کو ڈھاکہ میں ہوئی، اس وقت بنگلہ دیش مشرقی پاکستان کہلاتا تھا۔ بی این پی کے مطابق 1971 کی جنگ آزادی کے دوران انہیں بچپن میں کچھ وقت کے لیے حراست میں رکھا گیا، جس کے سبب پارٹی انہیں “کم عمر ترین جنگی قیدی” قرار دیتی رہی ہے۔
1981 میں ضیاءالرحمان کو ایک فوجی بغاوت میں قتل کر دیا گیا، جس کے بعد طارق رحمان کی پرورش اپنی والدہ کے سیاسی ماحول میں ہوئی۔
شیخ حسینہ اور جیا خاندان کے درمیان سیاسی رقابت کئی دہائیوں سے بنگلہ دیش کی سیاست کا بنیادی محور رہی ہے۔
تعلیم، کاروبار اور سیاست میں قدم
طارق رحمان نے بی اے ایف شاہین کالج میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں یونیورسٹی آف ڈھاکہ میں قانون اور بین الاقوامی تعلقات کی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں انہوں نے کاروباری میدان میں بھی قدم رکھا، جس میں ٹیکسٹائل اور شپنگ سے متعلق سرگرمیاں شامل رہیں۔
انہوں نے 1988 میں سیاست میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی اور بوگورا کے گبٹالی علاقے میں اپازیلہ سطح پر بی این پی میں داخل ہوئے۔ خالدہ ضیاء کے دوسرے دور حکومت (2001 تا 2006) کے دوران ان کی ترقی تیزی سے ہوئی۔
2002 میں انہیں پارٹی کے ایک اہم عہدے پر فائز کیا گیا، جسے مخالفین نے اقربا پروری قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم پارٹی کے اندر انہیں ایک سخت گیر اور موثر منتظم کے طور پر جانا گیا۔
گرفتاری، مقدمات اور لندن میں طویل جلاوطنی
طارق رحمان کا سیاسی سفر مختلف ادوار میں کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات سے گھرا رہا، جنہیں انہوں نے ہمیشہ مسترد کرتے ہوئے سیاسی انتقام قرار دیا۔
میں ۲۰۰۷فوجی حمایت یافتہ نگران حکومت کے دور میں کرپشن مخالف مہم کے دوران انہیں گرفتار کیا گیا اور وہ تقریباً 18 ماہ تک جیل میں رہے۔ طارق رحمان نے دعویٰ کیا کہ انہیں دوران حراست تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
میں۲۰۰۸طبی بنیادوں پر رہائی کے بعد وہ علاج کے لیے لندن چلے گئے۔ طارق رحمان کے مطابق ان کی حالت اس قدر خراب تھی کہ انہیں وہیل چیئر پر ہوائی جہاز تک لے جایا گیا۔
اس کے بعد وہ تقریباً 17 سال تک لندن میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے رہے۔ وہ کنگسٹن میں اپنی اہلیہ زُبیدہ رحمان (ماہر امراض قلب) اور بیٹی زائمہ رحمان (وکیل) کے ساتھ مقیم رہے۔
اگرچہ وہ ملک سے باہر تھے، لیکن بی این پی کی حکمت عملی اور سیاسی فیصلوں پر ان کا اثر برقرار رہا۔ 2018 میں خالدہ ضیاء کے جیل جانے کے بعد انہیں پارٹی کا قائم مقام چیئرمین مقرر کیا گیا۔
سیاسی پلٹاؤ اور وطن واپسی
شیخ حسینہ اور عوامی لیگ کے 15 سالہ اقتدار کے دوران طارق رحمان کو کرپشن، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی سے متعلق متعدد مقدمات میں سزا سنائی گئی۔ ان پر 2004 کے گرینیڈ حملے میں کردار ادا کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا اور انہیں غیر موجودگی میں سزا دی گئی۔
بی این پی اور طارق رحمان نے ہمیشہ مؤقف اپنایا کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے اور انہیں دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔
2024 میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد، جس میں اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے، نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت قائم ہوئی۔ اسی دور میں طارق رحمان کے خلاف کئی عدالتی فیصلے منسوخ کر دیے گئے۔
قانونی ریلیف کے بعد طارق رحمان 25 دسمبر 2025 کو بنگلہ دیش واپس آئے۔ پانچ دن بعد خالدہ ضیاء کا انتقال ہو گیا۔ 9 جنوری 2026 کو طارق رحمان نے باضابطہ طور پر بی این پی کی قیادت سنبھال لی۔
انتخابی مہم میں مرکزی کردار اور تاریخی فتح
وطن واپسی کے بعد طارق رحمان بی این پی کی انتخابی مہم کے سب سے بڑے چہرے کے طور پر سامنے آئے۔ ان کے جلسوں میں بڑے اجتماعات دیکھنے کو ملے، جس سے پارٹی کو نئی توانائی ملی، جو برسوں سے گرفتاریوں، تنظیمی کمزوری اور اندرونی اختلافات کا شکار تھی۔
تاہم انتخابی مہم تنازعات سے بھی خالی نہ رہی۔ طارق رحمان کے چند بیانات فیکٹ چیک میں غلط ثابت ہوئے، مگر پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ان کی سیاسی کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔
اس انتخاب میں طارق رحمان کو جماعت اسلامی اور طلبہ حمایت یافتہ نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) سمیت 11 جماعتی اتحاد کی طرف سے سخت مقابلہ درپیش تھا، لیکن بی این پی نے واضح اکثریت حاصل کر کے فیصلہ کن کامیابی حاصل کر لی۔
نئی حکومت کے سامنے بڑے چیلنجز
اب طارق رحمان کے سامنے تقریباً 18 کروڑ آبادی والے ملک کی قیادت کا بڑا چیلنج ہے۔ بنگلہ دیش اس وقت شدید مہنگائی، بڑھتی بے روزگاری اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے دوچار ہے۔
یہ ملک چین کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا گارمنٹس ایکسپورٹر ہے اور یورپ و امریکہ کے بڑے برانڈز کو ملبوسات فراہم کرتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار اور سابق امریکی سفارتکار جان ڈینیلووچ کے مطابق طارق رحمان کا اقتدار میں آنا ایک حد تک یقینی تھا، لیکن اب عوامی توقعات بہت بلند ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کے لیے مالیاتی بحران بڑا مسئلہ بن سکتا ہے کیونکہ بنگلہ دیش میں ٹیکس وصولی کی شرح کم ہے۔
خارجہ پالیسی: امریکہ و چین کے ساتھ تعلقات، بھارت کے ساتھ نازک مرحلہ
بی این پی نے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور چین دونوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنائے گی، جبکہ بھارت کے ساتھ تعلقات نسبتاً پیچیدہ رہنے کے امکانات ہیں۔
بھارت نے شیخ حسینہ کی حکومت کے ساتھ قریبی روابط قائم رکھے تھے اور شیخ حسینہ 2024 کے بعد بھارت میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیش نے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے، تاہم نئی دہلی کی جانب سے اب تک کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا۔
بنگلہ دیشی عدالت نے نومبر 2025 میں 2024 کی تحریک کے دوران مبینہ “انسانیت کے خلاف جرائم” کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو سزائے موت سنائی تھی، جسے شیخ حسینہ نے مسترد کیا ہے۔
بی این پی رہنما نذرالاسلام خان نے امید ظاہر کی کہ طارق رحمان کی قیادت میں بھارت-بنگلہ دیش تعلقات بہتر ہوں گے، مگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ برس میں بنگلہ دیش میں بھارت مخالف جذبات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
جولائی نیشنل چارٹر: اصلاحات اور جمہوریت کی آزمائش
نئی حکومت کو “جولائی نیشنل چارٹر” نافذ کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے، جو آئینی اور ادارہ جاتی اصلاحات کا پیکج ہے۔ یہ چارٹر انتخابات کے ساتھ منعقد ہونے والے ریفرنڈم میں منظور ہوا اور اس کا مقصد مستقبل میں آمریت کی واپسی روکنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پارلیمنٹ میں نسبتاً مضبوط اپوزیشن کی موجودگی کے باعث بی این پی حکومت کو سخت نگرانی اور احتساب کا سامنا ہوگا۔
ڈھاکہ واپسی کے بعد طارق رحمان نے بھی اعتراف کیا کہ ملک کی ذمہ داری “انتہائی بڑی” ہے اور اگر کسی سے غیر ارادی غلطی ہوئی تو وہ معذرت کرنے کو تیار ہیں۔
ذاکر حسین ڈھاکہ کے سینئر صحافی)
